
ہم دو بھائی اور سات بہنیں ہیں، ہمارے والد صاحب حیات ہیں، ہمارے والد صاحب نے ہم سب بہنوں کو کل جائیداد میں سے وراثت ڈیڑھ لاکھ روپے دیے ہیں، جبکہ ایک بھائی کو 120 گز کے پلاٹ کو کچی آبادی میں دیے ہیں، جس کی مالیت تقریباً پچیس لاکھ روپے ایک پلاٹ کی ہے اور والد صاحب کا کہنا ہے کہ میں جائیداد کا مالک ہوں جس کو جتنا چاہوں مرضی دوں۔
کیا والد صاحب کا یہ عمل شریعت کے مطابق ہے ؟آ یا والد صاحب کے اس عمل سے قیامت والے دن کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔
زندگی میں ہر شخص اپنی جائیداد میں خود مالک ہوتا ہے، کسی کو اس میں مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہوتا، البتہ اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه». وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»."
(مشکاۃ المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی)
ترجمہ:
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)
اور صاحبِ جائیداد کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔
البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو دےسکتا ہے، یعنی کسی کی شرافت ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دوسروں کو ضرر دینا مقصود نہ ہو ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والد صاحب نے اگر واقعۃً اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کو زیادہ قیمت (پچیس لاکھ) کے پلاٹ دیے ہیں اور بیٹیوں کو بلا وجہ کم (ڈیڑھ لاکھ) دیا ہے تو یہ طریقہ شرعاً درست نہیں ہے ، والد صاحب کو چاہیے کہ جتناحصہ بیٹوں کو دیا ہے اتنا ہی بیٹیوں کو بھی دے ۔ورنہ گنہ گاری ہوگی اور آخرت میں مؤاخذہ کا سامنا ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."
(کتاب الهبة، الباب السادس فی الهبة للصغیر، ج:4، ص:391، ط:مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100827
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن