
میری ایک بہن ہے 75 سال عمر ہے ،کوئی اولاد نہیں ہے، بس شوہر ہے ،دو بہن اور دو بھائی ہیں، میری بہن یہ چاہ رہی ہے کہ اپنا گھر کسی فلاحی ادارے کو وقف کر دوں، اب سوال یہ ہے کہ وقف کرنا درست ہے؟ اس گھر میں سے دیگر ورثا کو کچھ ملے گا؟ وقف کرنے کے لیے ورثاء کی رضامندی ضروری ہے کہ صرف الفاظ سے وقف ہو جائے گا ،رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت:اولاد نہیں ہے۔
سائل کی بہن اگر اپنی زندگی میں ہی اپنا گھر اللہ کی راہ میں کسی دینی وفلاحی ادارہ کو دینا چاہتی ہے ، اور یہ مذکورہ گھر ان کے کل اثاثہ جات کا ایک تہائی یا اس سے کم ہو تو ایسا کرنا شرعا جائز ہے اور باعث اجر ہے ،اس سلسلے میں ورثاء میں سے کسی کو ان پر اعتراض کا حق نہیں ہوگا، اور نہ ہی ورثاء سے زبانی یا تحریری اجازت لینا ضروری ہے، البتہ اگر مذکورہ گھر ان کے کل اثاثہ جات کے ایک تہائی سے زائد مالیت کا ہو، تو پھر اگرورثاء خود ضرورت مندہوں توایک تہائی سے زائد وقف کرنے یا وصیت کرنے کے لئے ورثاء کی اجازت لی جائے ، بلا اجازت ایسا کرناورثاء کی ممکنہ حق تلفی کی وجہ سے جائز نہیں،لیکن اگرورثاء ضرورت مند نہ ہوں توایک تہائی سے زائد وقف کرنے یا وصیت کرنے کے لئے ورثاء کی اجازت کی ضروت نہیں، اس صورت میں ورثاء کی اجازت کے بغیر زندگی میں وقف کرلیا جائے تو شرعاً وقف مکمل ہوجاتا ہے اور پھر اس میں ورثاء کا حق باقی نہیں رہے گا ۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"المادة (١١٩٢) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. مثلًا: الأبنية التي فوقانيها ملك لأحد وتحتانيها لآخر فبما أن لصاحب الفوقاني حق القرار في التحتاني ولصاحب التحتاني حق السقف في الفوقاني أي حق التستر والتحفظ من الشمس والمطر فليس لأحدهما أن يعمل عملًا مضرًّا بالآخر بدون إذنه ولا أن يهدم بناء نفسه).
كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."
( الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك،٣ / ٢٠١، ط: دار الجيل)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي میں ہے:
"ثم تصح الوصية للأجنبي بالثلث من غير إجازة الوارث، و لاتجوز بما زاد على الثلث لما روي عن سعد بن أبي وقاص - رضي الله عنه - أنه قال «جاءني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعودني من وجع اشتد بي فقلت يا رسول الله قد بلغ بي من الوجع ما ترى وأنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي أفأتصدق بثلثي مالي قال لا قلت فالشطر يا رسول الله قال لا قلت فالثلث قال الثلث والثلث كثير أو كبير إنك إن تذر ورثتك أغنياء خير لك من أن تدعهم عالة يتكففون الناس»، ولأن حق الورثة تعلق بماله لانعقاد سبب الزوال إليهم وهو استغناؤه عن المال إلا أن الشرع لم يظهره في حق الأجانب بقدر الثلث ليتدارك تقصيره وأظهره في حق الورثة؛ لأن الظاهر أنه لا يتصدق به عليهم تحرزا عما يتفق لهم من التأذي بالإيثار وقد جاء في الحديث أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «الحيف في الوصية من أكبر الكبائر» وفسروه بالزيادة على الثلث وبالوصية للورثة."
(كتاب الوصايا، ٦ / ١٨٢، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100438
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن