بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا حکم


سوال

میرے چار بچے ہیں، دو بیٹے، دو بیٹیاں، میں اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے نام اپنی جائیداد کرنا چاہ رہا ہوں، میرے دو گھر 45، 45 گز کے ہیں، ایک 80 لاکھ روپے اور دوسرا 105 لاکھ روپے کا ہے، اگر میں اپنی زندگی میں حصہ دوں تو کیسے  دوں؟ جب کہ ایک حصہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،یعنی کل پانچ حصے کرنا چاہتا ہوں، اور اگر میں یہ چاہوں کہ حصہ ابھی متعین کر دوں اور تقسیم میرے مرنے کے بعد ہو جائے تو کیا طریقہ اور حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل  جب تک زندہ ہے اس کی جائیدادمیں کسی کاحق نہیں ہے، اورنہ ہی کسی کواس کی تقسیم کے مطالبے کاحق ہے ، لہذا بلاضرورت سائل تقسیم نہ کرے، تا کہ اپنے گھر میں سہولت سے زندگی بسر کر سکے، اور رہائش وغیرہ کے حوالے سے کسی کا محتاج نہ ہو،تاہم  اگر سائل اپنی خوشی سےزندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتاہے، تو کر سکتا ہے، اور یہ وراثت نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ کہلاتا ) ہے،اور ہبہ سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے سائل جس قدرچاہے اپنے لیے رکھ لے تا کہ بقیہ زندگی میں کسی کا محتاج نہ ہو، اور اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں، سائل اپنی ضروریات دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے، اس کے بعد اگربیوی زندہ ہو تو  بقیہ مال کے آٹھویں حصے کے بقدر بیوی کو دےدے ،ا س کے بعد بقیہ مال اپنے تمام بیٹے  ،بیٹیوں کے درمیان برابر، برابر تقسیم کر دے ، بعض ورثاء کو دینا اور بعض کو محروم کرنا شرعاً جائز نہیں، اس لیے کسی کو محروم نہ کرے۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ  سائل  جس کوجوکچھ حصہ ہبہ کر دے اس کے حصے کو الگ کرکے  مکمل مالکانہ قبضہ اورتصرف کے ساتھ اس کے حوالے کر دے، ورنہ  محض نام کردینے سے شرعاً ہبہ (گفٹ )درست اور مفید ملک نہیں ہوگا، لہذا اگر سائل محض حصے متعین کرے گا ، اور قبضہ نہیں دے گا ، تو  ایسی صورت میں بعد میں ورثاء کی رضامندی پر ہو گا کہ سائل کے متعین کردہ حصوں کو تسلیم کرتے ہوئے اسی طرح تقسیم کریں، اور  چاہیں تواس تقسیم و تجویز کے بجائے سائل  کےانتقال کے بعد شرعی میراث کےحصوں کے مطابق تقسیم کریں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض."

( الفتاوی الھندیة  ۴/ ۳۷۴ ط: رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."

(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 690، ط : دار الفكر بيروت)

شرح المجلۃ لسلیم رستم باز  میں ہے:

" تنعقد الھبة بالایجاب و القبول ،و تتم بالقبض الکامل، لانھا من التبرعات ، والتبرع لایتم الا بالقبض."

(شرح المجلة المادۃ ۸۳۷ , ص: ۴٦۳ -۴٦۲ ط: دارالاشاعة العربیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101718

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں