
میں اپنی اولاد کو حیات ہی میں جائیداد شرعی طور پر تقسیم کر کے دینا چاہتا ہوں،شرعی حصص کے حساب سے یعنی بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ، جب کہ شریعت کے رو سے اس طرح کرنا جائز نہیں ہے، جب کہ میرے بیٹے اور بیٹیاں اس تقسیم پر راضی ہیں، تو کیا میرے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟ کیا اس طرح کرنے سے مجھے کوئی گناہ تو نہیں ہو گا؟
زندگی میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق شرعی تعلیمات تو یہی ہیں کہ وہ تمام بیٹوں ، بیٹیوں میں برابری کرے، کسی معتبر وجہ کے بغیر کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے اور نہ ہی بیٹے اور بیٹیوں میں فرق کرے، اگر بلا وجہ بیٹے اور بیٹیوں میں سے کسی کو کم دے گا یا محروم کرے گا تو گناہ گار ہوگا، البتہ اگر اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی نیکی، خدمت، محتاجی یا کسی اور معقول وجہ کی بنا پر زیادہ دے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن کسی ایک کو بھی بالکل محروم کرنا درست نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اولا تو سائل کو چاہیے کہ بلاوجہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دگنا نہ دے، بلکہ برابری کی بنیاد پر ہی تقسیم کرے، لیکن اگر اس طرح تقسیم سے سائل کا مقصد کسی اولاد کی حق تلفی یا ضرر پہنچانا نہیں، اور تمام اولاد بھی اس تقسیم پر راضی ہے تو ایسی صورت میں شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
باقی جس کو جو حصہ دیا جائے اسے مکمل قبضہ تصرف کے ساتھ دینا ضروری ہے، ورنہ محض زبانی یا تحریری طور پر نام کرنے سے ہبہ شرعاً مکمل اور مفیدِ ملک نہیں ہو گا۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".
(مشکاة المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی)
ترجمہ:حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ … آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل."
(كتاب الوقف، ٤/ ٤٤٤، ط: سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.
رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الهبة، الباب السادس في الهبة للصغير، ٤/ ٣٩١، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل".
(کتاب الہبہ،5/ 690 ، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102822
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن