
میری اولاد میں صرف ایک بیٹی ہے،جو کہ بالغ ہے، میری بیوی کافی عرصہ سے مجھے چھوڑ کر الگ رہتی ہے، میری بیٹی بھی اس کے ساتھ ہی رہتی ہے، میں جس گھر میں رہتا ہوں اس کو اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کو دینا چاہتا ہوں، تاکہ میرا مملوکہ گھر مکمل طور پر میری بیٹی کو مل جائے، کیوں کہ میرے مرنے کے بعد تو پورا گھر بیٹی کو نہیں مل سکتا ، تو سوال یہ ہے کہ بیٹی کو اپنا گھر گفٹ کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ اور کیا کاغذات نام کروائے بغیر میں اپنا گھر بیٹی کو گفٹ کرسکتا ہوں؟ نیز کیا میرے لیے اپنا یہ گھر بیٹی کو گفٹ کرنا جائز ہے؟
وضاحت: بیوی سے نکاح قائم ہے۔ ایک بھائی اور ایک بہن بھی زندہ ہے۔ میرے بھائی، بہن اور بیوی کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ میں اپنا گھر بیٹی کو گفٹ کردوں، سب راضی ہیں اور اجازت دے چکے ہیں۔
کاغذات نام کروائے بغیر گفٹ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ کاغذات نام کروانے پر تقریباً 8 سے 10 لاکھ خرچہ آرہا ہے جو کہ میرے پاس نہیں ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب کہ آپ کی بیوی اور بھائی، بہن کو کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ راضی ہیں تو آپ کے لیے اپنا مکان اپنی زندگی ہی میں اپنی بیٹی کو ہبہ (گفٹ) کرنا جائز ہے، البتہ کسی بھی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کی صورت میں ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے اورمالک بننےکے لیے ضروری ہے کہ 'واہِب' (ہبہ کرنے والا) ' موہوب لہ' (جس کو ہبہ کررہا ہے) کو 'موہوبہ چیز' (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف و قبضہ مکمل طور پر ختم کردے، صرف زبانی طور پر ہبہ کرنے یا نام کردینے سے شرعاً ہبہ تامّ (مکمل) نہیں ہوتا، نیز ہر چیز کا قبضہ اسی چیز کے حساب سے ہوتا ہے، مکان یا گھر کے قبضہ کے تام ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ واہب (مالک) اپنا سامان اس میں سے نکال دے اور خود بھی کچھ وقت کے لیے اس میں سے نکل جائے، پھر اگر خود بھی مکان میں رہنا چاہتا ہے تو موہوب لہ کی اجازت سے رہ سکتاہے، اس طرح موہوبہ چیز کا ہبہ موہوب لہ کے لیے تام (مکمل) ہوجائے گا ، اور واہب کی ملکیت ختم ہوجائے گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ اگر کاغذات میں نام کیے بغیر اپنے مملوکہ مکان کی ملکیت شرعی طور پر بیٹی کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ آپ بیٹی کو زبانی طور پر کہہ دیں کہ میں نے یہ مکان آپ کو ہبہ (گفٹ) کیا اور اس بات پر دو گواہ بھی بنا لیں، نیز گھر کے تمام کاغذات بھی بیٹی کے حوالہ کردیں اور تمام اختیارات بھی بیٹی کو دے دیں اور خود بھی کم از کم ایک مرتبہ اپنے سامان سمیت اس گھر سے باہر نکل جائیں تو بیٹی کا قبضہ اس گھر پر ثابت ہونے کی وجہ سے بیٹی شرعا اس گھر کی مالک بن جائے گی، پھر اگر آپ بیٹی کی اجازت سے اس گھر میں سامان سمیت رہنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
ایک دوسرا طریقہ یہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ آپ اپنا یہ گھر اپنی بیٹی کو فروخت کردیں، گھر فروخت کرنے کی صورت میں گھر قبضے کے بغیر ہی بیٹی کی ملکیت میں داخل ہوجائے گا اور گھر کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمے لازم ہوجائے گی اور پھر اگلے مرحلے میں آپ گھر کی قیمت بیٹی سے وصول کرنے کے بجائے معاف کردیں تو بیٹی کو قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑے گی، یہ دوسری صورت پہلی صورت کےمقابلے میں اس لیے آسان ہے کہ کیوں کہ اس میں قبضے کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ قبضے کے بغیر ہی بیٹی گھر کی مالک بن جائے گی، یعنی بظاہر تو یہ خرید و فروخت کا معاملہ ہوگا اس لیے ملکیت کے لیے قبضہ ضروری نہیں ہوگا، البتہ چوں کہ بیٹی کو قیمت ادا کیے بغیر ہی گھر کی ملکیت مل جائے گی اس لیے یہ آخر کار ہبہ (گفٹ) کی طرح ہی ہوجائے گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."
(كتاب الفرائض، 6/ 758، ط:سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، 4/ 376، ط: رشیدیة)
الفتاوى التاتارخانیة میں ہے:
"وفي المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته وأن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، وكذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار."
(فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، نوع منه،ج:14، ص:431،ط: زکریا،دیوبند،دہلی)
وفیه ایضا:
"وفي الفتاوى العتابية : ولو وهبه فارغًا وسلم مشغولًا لم يصح ولايصح قوله: أقبضها أو سلمت إليك إذا كان الواهب فيه أو أهله أو متاعه."
(فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، نوع منه،ج:14، ص:431،ط: زکریا،دیوبند،دہلی)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة.
(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ.
وفي المتن من الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة، وإن قال: جعلته باسم ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ... قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ.... (قوله: ليس بهبة) بقي ما لو قال: ملكتك هذا الثوب مثلا، فإن قامت قرينة على الهبة صحت، وإلا فلا لأن التمليك أعم منها لصدقه على البيع والوصية والإجارة وغيرها."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 689،688، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(هبة الدين ممن عليه الدين وإبراؤه عنه يتم من غير قبول) إذ لم يوجب انفساخ عقد صرف أو سلم لكن يرتد بالرد في المجلس وغيره لما فيه من معنى الإسقاط، وقيل: يتقيد بالمجلس، كذا في العناية لكن في الصيرفية لو لم يقبل، ولم يرد حتى افترقا ثم بعد أيام رد لا يرتد في الصحيح لكن في المجتبى: الأصح أن الهبة تمليك، والإبراء إسقاط.
(قوله: من غير قبول) لما فيه من معنى الإسقاط ح."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 708، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101291
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن