
ایک عورت سے بدفعلی ہوئی، اس عورت کا فوراً اسی مرد سے نکاح ہو جاتا ہے، اس بد فعلی کی وجہ سے حمل بھی ٹھہر جاتا ہے، نکاح کے آٹھ ماہ بعد بچہ پیدا ہو تاہے، کیا اس بچے کا نسب اس مرد سے ثابت ہوگا؟ اور کیا اس مرد کے انتقال کے بعد وراثت میں حصے دار ہو گا؟
اس مرد نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یہ بچہ میرا ہے، وہ بچہ اب جوان ہو چکا ہے، لیکن اب وہ شخص اس بات کا انکار کر رہا ہے کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں نکاح کے آٹھ مہینے بعد چوں کہ بچہ کی پیدائش ہوئی تھی، اور اس خاتون کے شوہر نے اقرار بھی کیا تھا کہ یہ بچہ میرا ہے، تو وہ بچہ ثابت النسب قرار پایا، لہذا کئی سالوں بعد والد کا انکار کرنا شرعا معتبر نہیں ہوگا، والد کی وفات کے بعد مذکورہ لڑکا اس کا وارث بھی ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقاً، والولد له ولزمه النفقة.
(قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر، مختارات النوازل."
(كتاب النكاح، جلد : 3، صفحه: 49، طبع: سعيد)
المحیط البرہانی میں ہے:
"رجل زنى بامرأة فحملت منه فلما استبان حملها تزوجها الذي زنى بها فالنكاح جائز، فإن جاءت بالولد بعد النكاح لستة أشهر فصاعداً يثبت النسب منه وترث منه، لأنها جاءت به في مدة حمل بأنه عقيب نكاح صحيح، فإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لا يثبت النسب ولا ترث منه إلا أن يقول: هذا الولد مني ولم يقل من الزنى."
(کتاب النکاح ، ج: 3 ، ص: 125 ، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102161
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن