
فقہ حنفی میں مشہور ہے کہ: جیسے نکاح سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح زنا سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح دواعیِ زنا (جیسے لمس بشہوت، بوسہ، اور نظر الی الفرج بشہوت وغیرہ) سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا آج کے دور میں بھی یہی احکام مفتی بہ ہیں؟ جبکہ موجودہ زمانے میں خصوصاً نوجوان طبقہ میں زنا عام ہو چکا ہے، بعض لڑکے کئی لڑکیوں سے اور بعض لڑکیاں کئی لڑکوں سے زنا کرتی ہیں، اسی طرح دواعیِ زنا بھی بہت زیادہ پھیل گئی ہیں۔ اگر ان سب سے واقعی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو تو مرد و عورت کے لیے یہ جاننا تقریباً ناممکن ہے کہ ان پر کون کون حرام ہے۔ سوال کا مقصد یہ ہے کہ کیا اس حکم پر آج بھی فتویٰ ہے یا تعاملِ ناس (یعنی لوگوں کی عمومی حالت و عمل) اور اس کے غلبہ کی وجہ سے یہ حکم ساقط یا غیر مفتی بہٖ سمجھا جائے گا؟ کیوں کہ یہ حکم نص صریح سے نہیں بلکہ قیاس سے ثابت ہے، جیسے کہ امام شافعیؒ وغیرہ نے اس کے قائل نہیں ہے اور اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ کسی غیر مشروع فعل (منہی عنہ) سے کسی مشروع حکم کا ثبوت نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ حرمتِ مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح زنا سے بھی ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح احناف کے نزدیک شرائطِ معتبرہ کے ساتھ دواعی زنا( شہوت کے ساتھ چھونے ) سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے یعنی اس عورت کے اصول وفروع ، مرد پر حرام ہوجاتی ہے اور اس مرد کے اصول وفروع ، عورت پر حرام ہوجاتی ہے یہی مسلک بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبارِ تابعین رحمہم اللہ کا ہے، اور دلائلِ نقلیہ اور عقلیہ سے مؤید ومبرہن اور نہایت ہی احوط ہے۔
نیز نکاح کے علاوہ دیگر اسباب کے ذریعے حرمتِ مصاہرت کا ثبوت مجتہد فیہ مسئلہ ہے، تو کیا اس مجتہد فیہ مسئلہ میں احناف کے مسلک پر عمل کرنا واقعۃً دشوار ہے ؟ یا اس پر عمل کی صورت میں عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور عمومِ بلوی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے؟اور کیا ضرورت اس درجہ کی شدید ہے کہ اس مسئلہ میں مذہبِ غیر پر فتوی ٰ دیا جائے؟ تو یہاں پہ کوئی ایسی صورت نہیں ہے جس کی وجہ سے مذہب غیر پر فتوی دیا جائے ؛ کیوں کہ حرمت مصاہرت ثابت ہونے کی بھی بہت سخت شرائط ہیں اور احناف اس باب میں زیادہ محتاط ہیں؛ تاکہ فتنہ وفساد برپا نہ ہو اور معاشرہ پاک وصاف ہو، عام طور پر روز مرہ کے جن مسائل کا حوالہ دے کر مذہبِ حنفی سے عدول کرنے کا کہا جاتا ہے تو اکثر و بیشتر ان میں یہ تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، اور جہاں حرمتِ مصاہرت کی شرائط پوری ہوجاتی ہیں تویہ عام طور پر وہاں ہوتا ہے جہاں مرد وزن کا اختلاط اور انتہائی درجہ کا بے تکلفانہ ماحول ہو، اور ایسی مغربی تہذیب سے متاثرہ افراد کی خود ساختہ ضرورت کی شرعاً کوئی حیثیت بھی نہیں، چہ جائے کہ اسے ضرورتِ شدیدہ یا اضطرار کا درجہ دیا جائے اور اس کے لیے رخصتیں تلاش کی جائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر یوں مصاہرت کے باب میں مذہبِ غیر پر عمل کا عمومی فتوی دے دیا جائے تو بے حیائی اور بے راہ روی کا ایک دروازہ کھل جائے گا اور یہ گویا غیر اقوام کی تہذیب سے متاثرہ اذہان کو کھلی چھوٹ دے دینے کے مترادف ہے، اس سے معاشرہ میں مزید مفاسد جنم لیں گے، اب تو پھر بھی حرمتِ مصاہرت کے ثابت ہونے کے خوف سے لوگ اس قبیح فعل سے بچتے ہیں ، جب اس طرح کی رخصت انہیں نظر آئیں گی تو پھر اس طرح کے فعل پر وہ جری ہوجائیں گے، یہ برائی اور خرابی اکا دکا مواقع پر حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مفاسد سے کہیں بڑھ کر ہے، اور یوں پھر ہر ہر مسئلہ میں لوگوں کی خود ساختہ ضرورتوں کو لحاظ رکھتے ہوئے گنجائش کے راستے نکالے جائیں تو شریعت ایک کھیل بن کر رہ جائے گی جس کی کسی صورت میں اجازت نہیں ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں استفتاء میں موجود مذکورہ وجوہات کی بناء پر حرمتِ مصاہرت کے باب میں مذہبِ غیر پر فتوی دینا جائز نہیں ، سائل نے جو مسائل بیان کیے ہیں ان کا حل یہ ہے کہ علماءِ کرام ومفتیانِ کرام عوام الناس کے سامنے اس مسئلہ کو اجاگر کریں اور انہیں اسلامی تہذیب سے آشنا کریں، اور اس بے حیائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں سے آگاہ کریں؛ تاکہ معاشرہ ان برائیوں سے پاک صاف ہو، نیز احناف زنا کے ذریعے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے قائل اس لیے ہیں کہ زنا بلا شبہ کبیرہ گناہ اور موجبِ معصیت ہے، تاہم حرمتِ مصاہرت کا ثبوت اس کے معصیت ہونے پر موقوف نہیں، بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ یہ زنا اولاد کا سبب ہے، اور ولد والدین کا جزء ہوتا ہے اور ولد کی ذات میں کوئی گناہ نہیں، لیکن چونکہ شریعت نے سبب کو مسبب کے قائم مقام رکھا ہے، اس لیے وطی کو اولاد کے قائم مقام مان کر اس کے ذریعے حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے قائل ہیں، نیز اسی طرح چونکہ دواعی زنا جیسے بوسہ لینا وغیرہ مفضی الی الزنا ہے اور زنا اولاد کا سبب ہے، لہذا اس بناء پر دواعی زنا سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔
مصنف ابن ابی شیبۃ میں ہے:
"عن حجاج، عن أبي هانئ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من نظر إلى فرج امرأة، لم تحل له أمها، ولا ابنتها".
ترجمہ:ابو ہانیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی عورت کی شرم گاہ کو دیکھے اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائیں گی۔
(کتاب النکاح، باب الرجل يقع على أم امرأته أو ابنة امرأته ما حال امرأته، ج:3، ص:480، ط: مکتبة الرشد)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
"عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن أم الحكم، أنه قال: قال رجل: يا رسول الله، إني زنيت بامرأة في الجاهلية وابنتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا أرى ذلك، ولايصلح ذلك: أن تنكح امرأة تطلع من ابنتها على ما اطلعت عليه منها".
ترجمہ:ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کرچکا ہوں، کیا میں اب اس کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں اس کو جائز نہیں سمجھتا اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ تو ایسی عورت سے نکاح کرے جس کی بیٹی کے جسم کے ان حصوں کو تو دیکھ چکا ہے جو حصے تو بیوی کے دیکھے گا۔
(کتاب الطلاق، باب الرجل یزنی بأخت إمرأتہ، ج:7، ص:157، ط:دار التأصیل)
وفیہ ایضاً:
"عن قتادة، عن عمران بن حصين في الذي يزني بأم امرأته، قد حرمتا عليه جميعاً".
ترجمہ:ایک شخص نے اپنی ساس سے زنا کرے تو اس کے بارے میں عمران بن حصین ؓ نے فرمایا کہ یہ دونوں(ساس،بیوی) اس پر حرام ہوگئے ہیں۔
(کتاب الطلاق، باب الرجل یزنی بأم إمرأته،وإبنتھا، وأختھا، ج:7، ص:155، ط:دار التأصیل)
مصنف ابن ابی شیبۃ میں ہے:
"عن علقمة، عن عبد الله، قال: «لاينظر الله إلى رجل نظر إلى فرج امرأة وابنتها".
ترجمہ: اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص کسی عورت کی شرم گاہ دیکھے اور اسی کی بیٹی کی بھی شرم گاہ دیکھے تو اللہ تعالی اس کی طرف(ناراضگی کی وجہ) سے نہیں دیکھیں گے۔
(کتاب النکاح، باب الرجل يقع على أم امرأته أو إبنة امرأته ما حال امرأته، ج:3، ص:480، ط: مکتبة الرشد)
البنایہ فی شرح الہدایہ میں ہے:
"وقال الشافعي _ رحمه الله _: الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور. ولنا أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا فتصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه،وكذلك على العكس. والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة، والوطء محرم من حيث إنه زنا لا من حيث إنه سبب الولد.
(إلى كل واحد منهما) ش: أي من الزاني والزانية، حتى يقال: ابن فلان، وابن فلانة، م: (كملا) ش: على وجه الكمال إضافة حقيقية وعرفا وهذه علة ثبوت الجزئية بين الواطئ والموطوءة......
(والوطء محرم) ش: بكسر الراء جواب عن قوله: فلا ينال بالمحظور، وتقديره أن يقال: إن الوطء حرام م: (من حيث إنه زنا من حيث إنه سبب الولد) ش: وفي بعض النسخ والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد، لا من حيث إنه زنا، والذي يظهر من كلام الشراح هنا أن هذه النسخة هي الصحيحة.فإن الأكمل قال: بيانه أن الوطء ليس سبب الحرمة من حيث ذاته، ولا من حيث إنه زنا، وإنما سبب لها من حيث إنه سبب للولد أقيم مقامه كالسفر مع المشقة ولا عدوان ولا معصية للسبب الذي هو الوطء، لعدم اتصافه بذلك، لا يقال: ولد عصيان ولا عدوان، والشيء إذا قام مقام غيره يعتبر فيه صفة أصله لا صفة نفسه كالتراب في التيمم.وقال الشبلي لا عدوان ولا عصيان في المسبب الذي هو الولد، فكذا لا عصيان في المسبب الذي قام مقامه في ذلك الوجه وهو الزنا، لأن وصف النائب إنما يوجب في وصف المنوب كما في التيمم مع الوضوء.وقال الكاكي: معنى ابتناء الحرمة بالوطء بواسطة أنه سبب للماء، والماء سبب للولد، ووجود الولد هو الأصل في الإعتاق باعتبار أنه جزء لوالدين ولا عصيان فيه، فكان الوطء قائما مقام الماء نظرا لكون الماء مطهرا وسقط وصف التراب، انتهى."
(کتاب النکاح، فصل في بیان المحرمات، ج:5، ص:35، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101403
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن