بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1448ھ 01 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

زنا ایک قرض ہے اس کی حقیقت


سوال

جیساکہ عرف میں مشہور ہے کہ آدمی فاحش زناکارہو،  اور زناکرےیاکسی کی عزت لوٹےتواس عمل قبیح کابدلہ اس کےاہل وعیال بیوی بچیوں وغیرہ سے۔۔ مطلب یہ ایک قرض ہوگیا ، اوریہ قرض اسےاداکرناہی پڑےگا ۔

اور اس کے برعکس جو آدمی طہارت ، پاکیزگی اور تقویٰ اختیار کرےاوربچپن سےہی ایک پاکیزہ زندگی کے ساتھ پلے اور بڑا ہوجائے  توکس حدتک یقین کرناچاہئے کہ اس آدمی کی اولاد ، اہل وعیال،  بیوی بچیاں وغیرہ یقینا ہی اس   آدمی ہی  کی طرح نیک اور پاکیزہ اوصاف کے مالک ہوں گے ۔ اورکسی طرح ظاہرا  باطنا کسی فحاشی کے مرتکب نہ ہوں گے ، یعنی ان کے سربراہ مطلب شوہر، باپ خودجیسےاوصاف خوبیوں خامیوں کے مالک ہوں۔تو ان کی بیوی بچیوں کوبھی ایساہی اگرتصورکیاجائےتودرست ہے ؟ الخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ اوراس آیت مبارکہ سے یہی مطلب لینادرست  ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ زنا کا قرض ہونا یعنی  زانی  شخص کے اس  قبیح عمل کی  مکافات دنیا میں ہی اس کے گھرکی عورتوں کے ذریعہ ہونے کے اس تصور کی حقیقت عرف میں مشہور ہونے کی حد تک ہی ہے  لیکن   اسے قاعدہ کلیہ  قرار دیا نہیں جاسکتا   کہ جس شخص سے بھی  زنا ہوگیا اس کے گھر کی کسی عورت کو یہ قرض ادا کرنا ہی پڑے گا، بلکہ  غالبًا یہ جملہ ایسے شخص  کے بارے میں  کہا  گیا ہے جو زنا کرتا رہتا ہے  اور باز نہیں آتا تو اسے چاہیے کہ وہ  یہ سوچے  کہ جس طرح وہ دوسرے گھروں کی عزت تار تار کر رہا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے گھر کی کوئی عورت اس میں مبتلا ہوجائے، جیساکہ بہت سے بزرگوں کے تجربات میں یہ بات آئی ہے۔  اور  بلاشبہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک آدمی (غیر متعدی) گناہ کرے تو اس کے گناہ کی سزا  دوسرے کو نہیں ملے گی، کیونکہ اللہ  رب العزت کی ذات ظالم نہیں کہ  کسی ایک شخص کے گناہوں کی سزا  دوسروں کو دیں گے۔

مذکورہ تفصیل سے واضح  ہے کہ زنا کا قرض ہونا ، بعینہ یہ  مضمون تو کسی نص سے ثابت نہیں   ، البتہ زنا سے ڈرانے کی خاطر تجربہ اور مشاہدہ  کی بنیاد پر اس مضمون کوبطور مشاہدہ وتجربہ  بیان کرنے میں حرج بھی نہیں ہے،  جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مذکورہ ضعیف روایت" تم پاک دامن رہو گے تو تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی" میں  یہ مشاہدہ نقل ہوا ہے کہ  ’’إِن بني فلَان زنوا فزنت نِسَاؤُهُ‘‘ یعنی فلاں  نے زنا کیا تو اس کی عورتوں نے بھی زنا کیا۔

اور ايك صحيح روايت ميں وارد ہے کہ :نبی کریم ﷺ سے جب ایک شخص نے زنا کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اسے حکمت کے ساتھ منع فرمایا اور اسے اس کی قباحت کا احساس دلاتے ہوئے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اگر کسی نے اس کے گھر کی عورتوں  کے ساتھ زنا کیا تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟ لہذا جس سے بھی زنا کیا جائے گا، وہ عورت بھی کسی کی بیٹی ، بہن ، ماں ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

" عن أبي أمامة قال: إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه. مه. فقال: " ادنه، فدنا منه قريبا ". قال: فجلس قال: " أتحبه لأمك؟ " قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: " ولا الناس يحبونه لأمهاتهم ". قال: " أفتحبه لابنتك؟ " قال: لا. والله يا رسول الله جعلني الله فداءك قال: "ولا الناس يحبونه لبناتهم". قال: "أفتحبه لأختك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لأخواتهم". قال: "أفتحبه لعمتك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لعماتهم". قال: لا. "أفتحبه لخالتك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لخالاتهم". قال: فوضع يده عليه وقال: "اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه، وحصن فرجه" قال فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء. "

(مسند أحمد (36/ 545) برقم (22211 ) ط/مؤسسة الرسالة)

ترجمہ: ”حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ !   مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجیے،  لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(اسے) فرمایا:  (میرے) قریب آجاؤ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی ماں کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعا  کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ  کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔“

اس کے برعکس یہ بات بھی واضح ہے کہ جو آدمی تقویٰ ، طہارت اور نیکیوں کا حریص ہو اورحتی الامکان  گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو یہ پاکیزہ صفات دنیا میں اس کی اولاد یعنی اس کے اہل میں بھی لازمی طور پر منتقل ہوتی ہیں ۔

قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے ذخیرہ میں سے کئی آیات و روایات سے اس کا مضمون معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی نیکی و صلاح ان کی آل  اولاد میں بھی منتقل ہوتی ہے ، آباء و اسلاف کے اعمال و خیرات کا اثر ان کے اخلاف میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ان کی بعض کمزوریوں کے باوجود باری تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور ان کے والدین کے نیک اعمال کے طفیل آخرت میں ان کی معیت نصیب فرمادیتے ہیں ۔

جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ(طور21)

ترجمہ :”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس) اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم نے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیا اور اُن (والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کی، ہر آدمی اپنے اعمال میں گِروی ہے۔“ 

اس آیت  سے مستفاد ہوتا ہے کہ باپ کی نیکی کی بدولت اولاد بھی وہ مقام پا جاتی ہے اگرچہ اعمال و کردار میں اپنے پیشرؤں سے کم درجہ پر ہوں ، اس طرح اللہ تعالی ٰ اپنے نیک بندوں کی اولاداور ان کی پشتوں کی بھی حفاظت فرماتے ہیں ۔ 

نیز سورۃ النور کی مذکورہ  آیت نمبر 26  :

اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  ۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ  ۚ اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ ۭلَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ"(النور:26)

ترجمہ:(اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ) گندی عورتیں گندے لوگوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں یہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں ان (حضرات) کے لیے (آخرت میں) مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔“(بیان القران)

اس آیت مبارکہ  میں  کسی حکمِ شرعی کا بیان نہیں، بلکہ ایک عام ضابطہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے،گندی اور بدکار عورتیں ،بدکار مردوں کی طرف،او ر گندے، بدکار مرد،گندی،بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیاکرتے ہیں، اسی طرح پاک،صاف عورتوں کی رغبت،پاک، صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے،اورپاک، صاف مردوں کی رغبت، پاک، صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے،اور ہر ایک اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہےاور قدرتاً اس کو وہی مل جاتا ہے، البتہ اس طرح اکثری طور پر ہوتا ہے، کہیں اس کے خلاف بھی ہوسکتا ہے؛ لہٰذا اگرسائل اس آیت مبارکہ سے  مذکورہ مطلب مراد لیتے ہیں تو اس میں حرج نہیں البتہ اس کو حرف آخر نہ سمجھیں   کیوں کہ اس میں قطعی حکم نہیں بتلایا گیا ہے، بل کہ  ایک اغلبی اور اکثری عادت بتلائی گئی ہے  ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں