بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ذو الحجة 1447ھ 14 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذمی کے اسلام سے انکار کی صورت میں اس پر کس کی شہادت معتبر ہوگی؟


سوال

اگر کوئی ذمی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ کفر اختیار کرلے اور پھر اس بات کا انکار کرے کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا، حالانکہ دو ذمی یا دو مسلمان اس بات کی  گواہی دیں  کہ اس نے   اسلام قبول کیا ہے، تو اس شخص پر کیا حکم جاری ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی ذمی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ کفر اختیار کرلے اور پھر اس بات کا انکار کرے کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا، تو اگر اس کے اسلام قبول کرنے پر صرف دو ذمی گواہی دیں کہ اس نے اسلام قبول کیا ہے، تو اس شہادت کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ وہ بدستور ذمی ہی شمار ہوگا اور اسے اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

البتہ اگر ذمی کے اسلام قبول کرنے پر دو مسلمان مرد، یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں گواہی دیں، تو اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے، اور اسے اسلام کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا جائے گا۔ تاہم اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا تقبل شهادة ذميين على ذمي أنه أسلم؛ لأنهما يزعمان أنه مرتد وشهادة أهل الذمة على المرتد باطلة،كذا في محيط السرخسي."

"ولو شهد رجل وامرأتان من أهل الإسلام أنه أسلم، وهو يجحد يجبره الإمام على الإسلام ويحبسه، ولا يقتله، كذا في الظهيرية."

(كتاب الشهادات، الباب العاشر في شهادة أهل الكفر،  ج:3، ص:518، ط:دار الفكر بيروت)

فقط وألله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں