
میری بیٹی کا نام ظل ہُما احمد ہے، کیا یہ نام بہترین ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ نام "ظاء" کے ساتھ لکھا جائے، تو یہ درست ہے، کیونکہ "ظِلّ" کے معنی ہیں: سایہ۔ جبکہ "ہُما" فارسی اور اردو زبان کا ایک خیالی پرندہ ہے، جسے لوگ نیک فال اور خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں، اس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جس کے سر پر سے ہُما پرندہ گزر جائے، وہ بادشاہ بن جاتا ہے۔
"احمد" رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام ہے۔ اس طرح پورے نام "ظِلِّ ہُما احمد" کا مفہوم یہ ہوگا:
"احمد ﷺ کے مبارک نام اور نسبت کے ساتھ سعادت و خوش بختی کا سایہ"۔
لہٰذا سائلہ کے لیے اپنی بیٹی کا یہ نام رکھنا درست ہے، لیکن اگر یہ "ذال"، "زا" یا "ضاد" کے ساتھ لکھا جائے تو معنی میں بگاڑ آجائے گا اور نام درست نہ ہوگا۔
جیساکہ المعجم الوسیط میں ہے:
"(الظل) ضوء شعاع الشمس إذا استتر عنك بحاجز (ج) ظلال وأظلال ومن كل شيء شخصه ومن الشيء أوله يقال ظل الشباب وظل الشتاء وظل الليل سواده يقال أتانا في ظل الليل ومن السحاب ما وارى الشمس و (في اصطلاح المصورين) الظل الخلفي ما يرسم في الخلفية من قتمة والظل الممدود ظل أو خيال يقع على شيء مجاور للمرسوم من سقوط الضوء عليه والظل الدامس درجة التظليل التي يشبع فيها لون المداد (مج) ويقال هو في ظل فلان في كنفه ووجهه كظل الحجر أسود أو وقح ومشيت على ظلي وانتعلت ظلي أي في منتصف النهار وقت القيظ فلم يكن لي ظل وهو يباري ظل رأسه إذا اختال وملاعب ظله طائر أسود المنقار والرجلين أبيض الصدر مرقط الظهر والجناحين والذنب ويعرف في مصر بصياد السمك وفي العراق بالقرلي"
(باب الظاء، ج: 2، ص: 577،ط: مجمع اللغة العربیة)
فیروزاللغات میں ہے:
"ہما(ہ۔ما)(ف۔ا۔مذ)ایک خیالی مشہور پرند جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس کے سر پر سے گزر جائے وہ بادشاہ ہوجاتا ہے"
(ص: 1514، ط: فیروز سنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101545
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن