بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذکری فرقہ کے پیروکاروں کا مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونے کا حکم / ذکریوں کے لیے ایصالِ ثواب کا حکم


سوال

1) ہمارے علاقے میں ذکری فرقہ کے پیروکار مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوتے ہیں۔ کیا ان کا مسلمانوں کے جنازے میں شریک ہونا شرعاً جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو کیا انہیں نمازِ جنازہ سے نکال دیا جائے، جب کہ ایسا کرنے میں فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو؟

2) کیا ہمارے مسلمان ذکری فرقہ کے پیروکاروں کا نکاح پڑھا سکتے ہیں، جب کہ ان کے اپنے مذہبی پیشوا موجود نہ ہوں؟

3) ذکری فرقہ کے فوت شدہ افراد کے لیے مسلمان بچے قرآنِ مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ کیا ان کے لیے ایصالِ ثواب کرنا شرعاً درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ذکری فرقہ عقیدۂ ختمِ نبوت اور اسلام کے بنیادی ارکان یعنی پنج وقتہ نماز، رمضان کے روزے، زکوٰۃ اور حجِ بیت اللہ وغیرہ  کا منکر ہونے کی وجہ سے کافر اور زندیق ہے۔ لہٰذا ان کے پیروکاروں سے میل جول، لین دین اور سماجی تعلقات رکھنا جائز نہیں  ۔

مزید تفصیل کے لئے   ”  کیا ذکری مسلمان ہیں “ ، ط: مکتبہ بینات،علامہ  بنوری ٹاؤن کراچی کا مطالعہ  کیجیے۔ اس وضاحت کے بعد مطلوبہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1) ذکری فرقہ کے پیروکاروں کو مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونے دینا شرعاً درست نہیں، لہذا اگر منع کرنے کی قدرت ہو، تو مقامی علماۓ کرام اور معززین کو چاہیے کہ وہ حکمت و دانائی کے ساتھ انہیں مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت سے منع کریں  اور اگر فتنہ فساد کا اندیشہ ہو تو مسلمان کے غسل ، تکفین و تدفین کا انتظام دیگر مسلمان خود کریں، جنازہ یا تدفین میں ذکریوں کی  محض شرکت ہو ، کوئی عمل دخل نہ ہو تو گنجائش ہے۔

2) مسلمان کے لیے ذکری فرقہ کے پیروکاروں کا نکاح پڑھانا جائز نہیں۔

3) ان کے مردوں کے لیے مسلمان بچوں یا دیگر مسلمانوں کا قرآنِ کریم پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا ناجائز  ہے، لہٰذا اس سے بھی مکمل طور پر اجتناب ضروری ہے۔

المبسوط للامام السرخسی میں ہے:

"ولم يبين أن الابن المسلم إذا كان هو الميت هل يمكن أبوه الكافر من القيام بغسله وتجهيزه وينبغي أن لا يمكن من ذلك بل يفعله المسلمون لأن «اليهودي لما آمن برسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته ما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات ثم قال لأصحابه: لوا أخاكم ولم يخل بينه وبين والده اليهودي» ويكره أن يدخل الكافر قبر ابنه من المسلمين لأن الموضع الذي فيه الكافر ينزل فيه السخط واللعنة فينزه قبر المسلم من ذلك وإنما يدخل قبره المسلمون ليضعوه على سنة المسلمين ويقولون عند وضعه: بسم الله وعلى ملة رسول الله والله تعالى أعلم. "

(كتاب الصلاة، باب الشهيد، ج:2، ص:55، ط:دار المعرفة - بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويكره أن يدخل ‌الكافر قبر أحد من قرابته من المؤمنين؛ لأن الموضع الذي فيه ‌الكافر تنزل فيه السخطة واللعنة فينزه قبر ‌المسلم عن ذلك، وإنما يدخل قبره المسلمون ليضعوه على سنة المسلمين، ويقولوا عند وضعه: باسم الله وعلى ملة رسول الله."

(كتاب الصلاة، فصل بيان وجوب الدفن، ج:1، ص:319، ط:دار الكتب العلمية)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"وليس للكافر غسل قريبه المسلم. (قوله: وليس للكافر إلخ) أي إذا لم يكن للمسلم قريب مسلم فيتولى تجهيزه المسلمون. ويكره أن يدخل الكافر في قبر قريبه المسلم ليدفنه بحر، وقدمنا أنه لو مات مسلم بين نساء معهن كافر يعلمنه الغسل ثم يصلين عليه، فتغسيل الكافر المسلم فيه للضرورة فلا يدل على أنه يمكن من تجهيز قريبه المسلم عند عدمها خلافا للزيلعي، أفاده في البحر."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:231، ط:سعيد)

وفیہ أیضاً:

"والحق حرمة الدعاء بالمغفرة للكافر."

(كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، ج:1، ص:522، ط:سعيد)

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

”سوال:(2628)مسلمان کی لاش غیر مسلم مس کرے یا مسلمان کے لیے استغفار کرے یا اس کے جنازہ کی نماز پڑھے تو اس کو ممانعت کرنا ضروری ہے؟

الجواب: مسلمانوں کو جو اُن کے ذمہ فرض ہے غسل اور نماز جنازہ وغیرہ اس کو پورا کر لیں، پھر اگر کوئی کافر مس کرے یا استغفار کرے یا اپنے طور سے نماز پڑھے اس سے نہ کچھ نفع نہ کسی کو کچھ ضرر ہے، اگر قدرت ہو منع کریں ورنہ خاموش رہیں۔ فقط واللہ تعالی أعلم“

(کتاب الصلاۃ، احکامِ میت، غسلِ میت کا بیان، ج:5، ص:311، ط:مکتبہ دار العلوم دیوبند)

فتاویٰ مفتی محمودؒ میں ہے:

”سوال:کیا فرماتے  علماء دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک مولوی صاحب جن کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے اور مذہب شیعہ کے لوگوں کا جن لوگوں کے متعلق ہمیں یقین ہے کہ وہ سبِّ شیخین رضی اللہ عنہما کرتے ہیں، پورے شیعہ ہیں،  ان کا نکاح کرتے ہیں، ان کے طریقہ پر پڑھتے ہیں۔ مسئلہ یہ دریافت ہے کہ مولوی اہل سنت والجماعت شیعہ کا نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے، تو پورے طور پر وضاحت فرما دیں۔ اگر ناجائز ہے تو پڑھنے والے پر شریعت کوئی سزا دیتی ہے یا نہیں؟ ایسا مولوی سنیوں کو نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا شیعہ سب کرنے والے کا جنازہ اہل سنت امام پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ شیعہ مذہب کے جنازہ کے اندر اہل سنت والجماعت لوگ مل سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بعض ہمارے لوگ ان کے جنازہ کے اندر شریک ہو جاتے ہیں۔ نیز سنیوں کے جنازے میں مثلا امام اہل سنت ہو اور میت بھی سنی ہو، تو اس میں شیعہ شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا و توجرو۔

جواب: جو سبِّ صحابہ کرام خصوصاً حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کرتے ہیں، اسے حلال بلکہ ثواب سمجھتے ہیں، ان کا جنازہ پڑھنا، ان سے نکاح کرنا وغیرہ اور پڑھنا شریک ہونا کسی سنی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ ایسے شخص کی امامت ناجائز ہے، ایسے شخص کو امامت سے معزول کرنا ضروری ہے۔ نیز ایسے شخص کو سنی مسلمان کے جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ واللہ اعلم“

(کتاب العقائد، ج:1، ص:281، ط: جمعیت پبلیکیشنز)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100970

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں