بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چالیس دن تک زیر ناف بال نہ کاٹنے والے کی امامت


سوال

جو امام چالیس دن سے زیادہ مدت تک زیر ناف بال نہ کاٹے اس کا کیا حکم ہے؟ اگر عذر شرعی (یعنی بیماری جس کی وجہ سے زیر ناف بال نہیں کاٹ سکتا) کی وجہ سے ایسا کیا تو کیا حکم ہے اور اگر بغیر عذر ایسا کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب

 چالیس دن سے زیادہ زیر ناف بال نہ کاٹنا مکروہِ تحریمی ہے اور گناہ کا باعث ہے، البتہ آدمی ناپاک نہیں ہوتا، اس حالت میں نماز و دیگر عبادات ان کی شرائط  ( مثلًا  طہارت  وغیرہ )  کا  خیال رکھتے ہوئے اگر ادا کی  جائیں تو وہ ادا ہو جاتی ہیں ،تاہم بغیر کسی عذرِ شرعی عذر کے زیر ناف بال صاف نہ کرنا ثواب میں کمی کا باعث ہے، تاہم کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے چالیس دن سے زائد عرصہ صفائی نہ کرسکا، تو باعثِ پکڑ نہ ہوگا، بہر صورت ایسے شخص کی نماز ادا ہو جائےگی، اور امامت بھی درست ہوگی۔ 

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عشر من الفطرة: قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك واستنشاق الماء وقص الأظفار وغسل البراجم ونتف الإبط ‌وحلق ‌العانة وانتقاص الماء) يعني الاستنجاء - قال الراوي: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة. رواه مسلم."

(باب السواك، الفصل الأول، ج: 1، ص: 121، الرقم: 379، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

وفیہ ایضا:

"وعن أنس قال: وقت لنا في قص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط ‌وحلق ‌العانة أن لا تترك أكثر من أربعين ليلة. رواه مسلم."

(كتاب اللباس، باب الترجل، الفصل الأول، ج: 2، ص: 1261، الرقم: 4422، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وقلم الأظفار سنة إلا في دار الحرب فإن تركها مندوب إليه كذا في محيط السرخسي. الأفضل أن يقلم أظفاره ويحفي شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوما ولا يعذر في تركه وراء الأربعين فالأسبوع هو الأفضل والخمسة عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر فيالختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج: 5، ص: 358/ 357، ط: دار الفكر - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين مجتبى."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 406، ط: دار الفكر - بيروت)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"(سوال ۱۳۴۳) جو شخص زیر ناف کے بال نہ مونڈے اس کی نماز صحیح ہے یا نہیں۔

(جواب) نماز صحیح ہے لیکن یہ فعل برا ہے اور چالیس دن سے زیادہ موئے زیر ناف کو باقی رکھنا مکروہ ہے۔"

(کتاب الصلاۃ، جلد ۴، صفحہ ۵۷، دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں