بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر تعمیر پلاٹ، قابلِ وصول قرضوں اور اولاد کے لیے رکھے گئے پلاٹس پر زکات کا حکم


سوال

 آپ سے زکوٰۃ کے حوالے سے چند مسائل کی وضاحت درکار ہے۔ گزارش ہے کہ درجِ ذیل نکات کے مطابق رہنمائی فرما دیں، جزاکم اللہ خیراً:

1) اگر کسی شخص کے پاس ایک گھر ہو جو اس وقت زیرِ تعمیر (Under Construction) ہو، اور نیت یہ ہو کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے کرائے پر دیا جائے گا، تو کیا اس زیرِ تعمیر مکان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

2) اگر کسی شخص کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا تھا جو کچھ سال پہلے خریدا تھا  اور اب وہ فروخت ہو چکا ہو، اور اس کی رقم ملنا طے ہو، اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اسی زیرِ تعمیر گھر میں لگانی ہو، تو ایسی صورت میں:

  • اگر وہ رقم رمضان سے پہلے وصول ہو جائے تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟
  •  اور اگر رمضان کے بعد وصول ہو تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

3) اگر ایک پراپرٹی (مثلاً پلازا) فروخت ہو چکی ہو، سودا طے پا گیا ہو لیکن ابھی رقم وصول نہ ہوئی ہو، اور وہ رقم رمضان کے بعد (مثلاً جون میں) ملنی ہو، اور اس رقم کو بھی زیرِ تعمیر گھر میں استعمال کرنا ہو، تو کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

4) اس کے علاوہ اگر کسی شخص کے پاس دو پلاٹس ہوں جو اس نے اپنی اولاد کے لیے رکھے ہوں، نیت یہ ہو کہ مستقبل میں بچوں کے کام آئیں گے اور فی الحال ان کو بیچنے یا کاروبار میں لگانے کا ارادہ نہ ہو، تو کیا ایسے پلاٹس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

ان تمام سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

1) صورتِ مسئولہ میں مذکورہ زیرِ تعمیر گھر جسے تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد کرایہ پر دینے کی نیت ہو اس کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہے۔

3، 2) واضح رہے کہ زکات کے وجوب کا تعلق رمضان کے ساتھ نہیں ہے بلکہ صاحبِ نصاب ہونے کے بعد ایک سال گزرنے کے ساتھ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص بالفرض یکم شعبان کو پہلی مرتبہ صاحب نصاب ہوا، یعنی اس کی ملکیت میں اپنی ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی آگئی یا اس کی ملکیت میں موجود نقد اور سامان تجارت کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ گئی پھرجب  ہجری تاریخ کے اعتبار سے سال پورا ہوگا  تو یکم شعبان کے دن وہ جس قدر مال کا مالک ہوگا اس پر زکات فرض ہوگی ،بشرطیکہ اس وقت بھی یہ شخص صاحب نصاب ہو، ، لہذا زکات کا حساب کرنے کے لیے صاحبِ نصاب ہونے کی تاریخ کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جس دن مذکورہ شخص کی زکات کا سال قمری سال کے اعتبار سے پورا ہوتا ہو اگر اس سے ایک دن پہلے یہ شخص اس رقم کو وصول کر کے زیرِ تعمیر مکان میں صرف کر چکا ہے تو اس رقم پر زکات لازم نہیں ہے اور اگر سال پورا ہونے کے دن وہ رقم اس کے پاس موجود ہے یا وہ رقم اب تک وصول نہیں ہوئی تو اس رقم پر بھی زکات لازم ہوگی۔

4)مستقبل میں بچوں کے کام آنے کی نیت غیر واضح ہے، بہرحال اگر خریدتے وقت یہ نیت کی تھی کہ مستقبل میں بچوں کی رہائش کے لیے استعمال کرے گا یا بچوں کو مالک بنائے گا تو پھر ان پر زکات نہیں آئے گی اور اگر یہ نیت تھی کہ بعد میں فروخت کر کے اس کی قیمت اولاد کی شادی بیاہ وغیرہ میں استعمال کرے گا تو پھر یہ مال زکات میں شمار ہو گا اور ہر سال کی مالیت پر زکات لازم ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة، وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها إذا لم يكن للتجارة، وكذا لو اشترى فلوسا للنفقة كذا في العيني شرح الهداية وكذا كتب العلم إن كان من أهله وآلات المحترفين كذا في السراج الوهاج".

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، 1/ 172، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وتجب الزكاة في الدين مع عدم القبض، وتجب في المدفون في البيت فثبت أن الزكاة وظيفة الملك والملك موجود فتجب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بالأداء للحال لعجزه عن الأداء لبعد يده عنه وهذا لا ينفي الوجوب كما في ابن السبيل... وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا.

وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر".

(كتاب الزكاة، فصل:وأما الشرائط التي ترجع إلى المال2/ 9، ط: سعيد)

الدر المختار میں ہے:

"(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا".

وفي الرد:

"(قوله: وهو في ملكه) أي والحال أن نصاب المال في ملكه التام كما مر، والشرط تمام النصاب في طرفي الحول كما سيأتي".

(‌‌كتاب الزكاة، 2/ 267، ط: سعيد)

وفي الدر المختار أيضاً:

"(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها

(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل (إلا الذهب والفضة) والسائمة، لما في الخانية: لو ورث سائمة لزمه زكاتها بعد حول نواه أو لا".

وفي الرد:

"(قوله فنوى بعد ذلك خدمته) أي، وأن لا يبقى للتجارة لما في الخانية عبد التجارة: إذا أراد أن يستخدمه سنتين فاستخدمه فهو للتجارة على حاله إلا أن ينوي أن يخرجه من التجارة ويجعله للخدمة. اهـ...

(قوله فيتم بها) لأن التروك كلها يكتفى فيها بالنية ط".

(‌‌أيضاً،2/ 272)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں