
میرے والدین وفات پا چکے ہیں ،میری والدہ کا انتقال پہلے ہو چکا تھا جس میں سے ہم دو بہن بھائی ہیں میں اور میری ہمشیرہ ،اس کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کی جس میں سے میرے دو سوتیلے بھائی ہیں ،اور میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔
میرے والد صاحب سرکاری آفیسر تھے ان کی پینشن کا ایک حصہ میری سوتیلی والدہ کو جاتا ہے اور دوسرا حصہ میری سگی بہن جو میرے ساتھ رہتی ہے اس کو آتا ہے جو کہ میں وصول کرتا ہوں ،عدالت نے مجھے میری ہمشیرہ کا پیسوں اور جائیداد کا گارڈین مقرر کیا ہے کیونکہ میری ہمشیرہ ذہنی معذور ہے ، ہماری جائیداد میں دو گھر ہیں جسمیں میرا او میری ہمشیرہ اور میری سوتیلی ماں اور سوتیلے بھائیوں کا حصہ ہے،میں نے ہمشیرہ کے پیسے کے لیے ایک الگ سے اکاؤنٹ کھلوا رکھا ہے جس میں اس کے پیسوں کو میں جمع کرتا جا رہا ہوں ،میں بھی ایک سرکاری ملازم ہوں۔
میرا سوال یہ تھا کہ میں ہمشیرہ کے ان پیسوں کو کس حد تک استعمال کر سکتا ہوں کیا صرف اسی کے خرچے کے لیے استعمال کر سکتا ہوں؟ یا اپنے گھر کے خرچوں کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہوں کیونکہ میں اور میری بیگم ہم مل کر میری ہمشیرہ کی کفالت کر رہے ہیں۔
اور اس کے علاوہ یہ بھی بتا دیں کہ اس کی وراثت کا کیا طریقہ کار ہوگا اگر میں ہمشیرہ سے پہلے وفات پا جاتا ہوں تو میری ہمشیرہ کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی، میرے تین بیٹے ہیں، اور اگر ہمشیرا کی وفات پہلے ہو جاتی ہے تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی اور کس کس میں تقسیم ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ہمشیرہ کے پاس اپنا ذاتی مال موجود ہے، اور سائل محض تبرعاً احسان کے طور پر اس کی کفالت کر رہا ہے، تو سائل کے لیے ہمشیرہ کے مال میں سے صرف اسی کی ذات پر ہونے والے خرچے کے بقدر لینے کی اجازت ہوگی ،اسے اپنے گھر کے ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ہاں اگر ہمشیرہ اپنی خوشی اور رضامندی (بشرطیکہ ذہنی طور پر سمجھ بوجھ رکھتی ہو) سے اجازت دے دے تو پھر سائل اسے اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے،البتہ اگر سائل غریب ہے اس کے پاس اپنا مال نہیں ہے ، تو اس کی کفالت کی خدمت کے بدلے میں اجرت متعین کر کے اسے بقدر ضرورت خرچہ لے سکتا ہے لیکن اس میں سائل پر اسراف سے بچنا لازم ہے ۔
نیز اگر سائل کی ہمشیرہ کے پاس اپنا کوئی مال نہیں ہے اور وہ محتاج ہےتو پھر سائل ہی شرعاً اس کے نفقے کا ذمہ دار ہوگا۔
باقی وراثت کے معاملے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ دونوں (بہن بھائی) میں سے جس کا بھی پہلے انتقال ہوگا، تو اس کے انتقال کے وقت جو شرعی ورثاء زندہ ہوں گے ،مالِ وراثت انہی کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے :
"وقوله: (وَلا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا) ينهى تعالى عن أكل أموال اليتامى من غير حاجة ضرورية إسرافا ومبادرةً قبل بلوغهم...وحدثنا الأشج وهارون بن إسحاق قالا حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام، عن أبيه، عن، قالت: نزلت في والي اليتيم الذي يقوم عليه ويصلحه إذا كان محتاجا أن يأكل منه.
قال الفقهاء: له أن يأكل أقل الأمرين: أجْرَةَ مثله أو قدر حاجته. واختلفوا: هل يرد إذا أيسر، على قولين: أحدهما: لا؛ لأنه أكل بأجرة عمله وكان فقيرا. وهذا هو الصحيح عند أصحاب الشافعي؛ لأن الآية أباحت الأكل من غير بدل. وقد قال الإمام أحمد:حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حسين، عن عَمْرو بن شُعَيب، عن أبيه، عن جده: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ليس لي مال ولي يتيم؟ فقال: "كُلْ من مال يتيمك غير مُسْرِف ولا مُبذر ولا متأثِّل مالا ومن غير أن تقي مالك -أو قال: تفدي مالك -بماله" شك حسين.
وقال ابن أبي حاتم: حدثنا أبو سعيد الأشج، حدثنا أبو خالد الأحمر، حدثنا حسين المكتب، عن عَمْرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن عندي يتيما عنده مال -وليس عنده شيء ما -آكل من ماله؟ قال: "بالمعروف غير مُسرف."
( سورة النساء، أيت: 6، ج: 2،ص: 216 ،ط: دار طيبة للنشر والتوزيع، الرياض السعودية)
مشكاة المصابيح میں ہے :
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى"
ترجمہ "ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خبردار! ظلم نہ کرو، یاد رکھو! کسی شخص کا مال حلال نہیں ہوتا (دوسرے کے لیے) مگر اس کی خوش دلی سے۔"
(كتاب البيوع ،باب الغصب والعارية، ج: 2، ص: 889، ط: المكتب الإسلامي،بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى كما قدمه في الحضانة عن المؤيدية. قال الخير الرملي: لو استغنت الأنثى بنحو خياطة وغزل يجب أن تكون نفقتها في كسبها كما هو ظاهر."
(باب النفقة،مطلب الصغير والمكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه،ج: 3 ، ص: 612 ،ط: سعيد)
وفيه ايضا:
"(و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (قوله مطلقا) قيد للأنثى: أي سواء كانت بالغة أو صغيرة صحيحة أو زمنة كما أفاده بقوله ولو كانت إلخ، والمراد بالصحيحة، القادرة على الكسب، لكن لو كانت مكتسبة بالفعل كالقابلة والمغسلة لا نفقة لها كما مر."
(باب النفقة،مطلب في نفقة الأصول، ج: 3، ص: 627، ط: سعيد )
السراجی مع الشریفیه میں ہے :
"ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة. ثم يقسم الباقي ھذارابع الاربعة ، وھو أن يقسم ما بقي من ماله بعد التكفين والدين والوصية بين ورثته أي الذين ثبت إرثھم بالكتاب كلمذكورين في الايات القرآنيه ، والسنة ،واجماع الامة."
(مقدمة الكتاب ،ص: 29، ط: مكتبة البشریٰ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100887
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن