
میری والدہ کی عمر ستانوے سال سے زیادہ ہے، اس وقت ان کا حافظہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے، انہیں کوئی بات یاد نہیں رہتی، بعض اوقات وہ مجھے بھی نہیں پہچان پاتیں، انہیں نماز اور قرآن مجید پڑھنا بھی یاد نہیں رہا، ان کی گفتگو بھی بامعنی اور معقول نہیں ہوتی، وہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں، اور زیادہ تر دن لیٹی رہتی ہیں، ہم انہیں پہیوں والی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں، اور خود کھلا دیتے ہیں۔
والدہ کے پاس موجود رقم کے اعتبار سے وہ صاحبِ نصاب ہیں، اور زکوٰۃ دینا ان پر فرض ہوتی ہے، ایک سال پہلے تک جب ان کی ذہنی حالت نسبتاً بہتر تھی، تو میں ان سے اجازت لے کر ان ہی کے پیسوں میں سے ہر سال ان کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردیا کرتا تھا، لیکن اب اگر ان سے کچھ پوچھا جائے، تو وہ کوئی معقول جواب دینے کے قابل نہیں رہیں۔
ان حالات کے پیشِ نظر درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
(1) والدہ کی موجودہ ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیا ان پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟
(2) اگر زکوٰۃ فرض ہو، تو کیا میں ان کی طرف سے، ان ہی کے پیسوں میں سے زکوٰۃ ادا کرسکتا ہوں یا نہیں؟جب کہ وہ خود بتا نہیں سکتی۔
(3) جب ان کی ذہنی حالت بہتر تھی، تو وہ متعدد مرتبہ مجھ سے کہتی تھیں کہ ان کے پیسے کسی صدقۂ جاریہ میں لگا دیے جائیں، اور میں ان سے پوچھ کر ان کے پیسے صدقۂ جاریہ میں خرچ کرتا تھا، کیا اب بھی میں ان کے پیسے نکال کر صدقۂ جاریہ میں دے سکتا ہوں؟
(4) کیا ان کے پیسے نکال کر ان کے علاج و معالجہ، یا ان کے ذاتی اخراجات کی مد میں خرچ کرنا شرعاً جائز ہے؟
(1) صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کا حافظہ کمزور ہو، لیکن موجودہ حالت میں عقل بالکلیہ زائل نہ ہوئی ہو، بلکہ وہ اکثر و بیشتر باتوں کو سمجھتی ہوں، اور اپنے بچوں کو بھی پہچانتی ہوں، تو اس صورت میں ان کے مال میں، چاہے صحت کی حالت ہو یا کمزوری کی حالت، زکوٰۃ فرض ہوگی۔
(2) سائل کی والدہ جب تک حیات ہیں، ان پر اپنے مال کی زکوٰۃ خود ادا کرنا فرض ہے، لہٰذا اگر سائل ان کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہے، تو ان سے اجازت لینا ضروری ہوگا، ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا درست نہ ہوگا۔
(3) والدہ کی اجازت کے بغیر، سائل کے لیے ان کے مال میں سے صدقہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
(4) سائل کے لیے والدہ کے مال کو ان کے علاج و معالجہ، اور ان کے ذاتی و ضروری اخراجات میں، حسبِ ضرورت، خرچ کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ اگر سائل اپنے مال کو والدہ کی ذاتی ضروریات میں خرچ کریں تو اس پر وہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(فيحترز به عمن يفيق أحيانا أي يزول عنه ما به بالكلية، وهذا كالعاقل البالغ في تلك الحالة، وهو محمل كلام الزيلعي)."
(كتاب الحجر، ج:6 ،ص:145، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الجنون الطارئ فإن دام سنة كاملة فهو في حكم الأصلي ألا ترى أنه في حق الصوم كذلك كذا في حق الزكاة؛ لأن السنة في الزكاة كالشهر في الصوم، والجنون المستوعب للشهر يمنع وجوب الصوم فالمستوعب للسنة يمنع وجوب الزكاة ولهذا يمنع وجوب الصلاة والحج فكذا الزكاة وإن كان في بعض السنة ثم أفاق روي عن محمد في النوادر أنه إن أفاق في شيء من السنة وإن كان ساعة من الحول من أوله أو وسطه أو آخره تجب زكاة ذلك الحول وهو رواية ابن سماعة عن أبي يوسف أيضا وروى هشام عنه أنه قال: إن أفاق أكثر السنة وجبت وإلا فلا.
وجه هذه الرواية أنه إذا كان أكثر السنة مفيقا فكأنه كان مفيقا في جميع السنة؛ لأن للأكثر حكم الكل في كثير من الأحكام خصوصا فيما يحتاط فيه."
(كتاب الزكاة،فصل شرائط فرضية الزكاة، ج:2، ص:5، ط:دار الكتب العلمية)
وفیه ایضاً:
"وهو أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب، وإذا، أوصى فقد أناب وإذا لم يوص فلم ينب، فلو جعل الوارث نائبا عنه شرعا من غير إنابته لكان ذلك إنابة جبرية والجبر ينافي العبادة إذ العبادة فعل يأتيه العبد باختياره ولهذا قلنا إنه ليس للإمام أن يأخذ الزكاة من صاحب المال من غير إذنه جبرا، ولو أخذ لا تسقط عنه الزكاة."
(كتاب الزكوة، فصل شرائط جواز النصاب، ج:2، ص:53، ط: دارالكتب العلمية)
الموسوعة الفقهية الكويتيةمیں ہے:
"نص الفقهاء على أنه يلزم على ولي المجنون والمجنونة تدبير شئونه ورعاية أموره بما فيه حظ المجنون، وبما يحقق مصلحته، فينفق عليه في كل حوائجه من ماله بالمعروف، ويداويه ويرعى صحته، ويقيده ويحجزه عن أن ينال الناس بالأذى أو ينالوه به إن خيف ذلك منه، صونا له، وحفظا للمجتمع من ضرره."
(أنواع الولاية الخاصة،السبب الثاني الجنون، ج:45، ص:172، ط: دارالسلاسل- الکویت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101382
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن