
میرے والد ذہنی ڈپریشن کے مریض ہیں، وہ خود اپنے آپ سے باتیں کرتے رہتے ہیں، مثلاً:”میرے بھائیوں نے میرا ساتھ نہیں دیا، میں اکیلا رہ گیا ہوں“، اسی طرح تنہائی میں اپنے والدین کو — جو کہ وفات پا چکے ہیں — گالیاں دیتے ہیں، اور اپنے بڑے بھائی کو بھی گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی عمر ستر سال ہوچکی ہے۔
ایک دن صبح کے وقت نیند سے چلا کر اٹھے، اور ادھر اُدھر دیکھا، پھر اپنی بیوی یعنی میری والدہ کو دیکھتے ہوئے کہا کہ”طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں“۔ حالانکہ نہ کوئی لڑائی تھی اور نہ ہی کوئی جھگڑا، بس اچانک نیند سے چلاتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔اور پھر یک دم بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ باہر آجائیں اور والد کو لیکر باہر نکلا، اور یہ واقعہ پہلی مرتبہ ہوا ہے اس سے پہلے کوئی جھگڑا تک نہیں ہوا ہے۔
جب ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا کہا آپ نے؟آپ نے تو طلاقیں دے دی ہے؟
تو کہنے لگے کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، اور نہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا کہا ہے۔
سائل کے والد خود یہ کہتے ہیں کہ میں نیند میں تھا اور مجھے کچھ بھی یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا تھا، کس کو کہا تھا، کچھ بھی یاد نہیں۔
طلاق کے مذکورہ الفاظ بیٹے، بہو اور بیوی نے سنے تھے، اور انہوں نے ہی یہ الفاظ لکھوائے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل کے والد کی کیفیت وہی تھی جو سوال میں بیان کی گئی ہے کہ وہ ڈپریشن کے بیمار ہیں۔ الفاظ کہتے وقت ان پر اختیار نہیں تھا اور نہ ہی ہوش و حواس برقرار رتھے، وہ کیا کہہ رہا ہے ہیں، کس کو کہہ رہے ہیں، اس کا شعور بھی نہیں تھا، اور اس حال میں صبح کے وقت نیند سے چلا کر اٹھے اور اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ”میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔“ تو اس سے ان کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح برقرار ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و سئل نظمًا فيمن طلق زوجته ثلاثًا في مجلس القاضي و هو مغتاظ مدهوش فأجاب نظمًا أيضًا بأن الدهش من أقسام الجنون فلايقع و إذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرةً يصدق بلا برهان اهـ قلت: و للحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنّه على ثلاثة أقسام أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله و يعلم ما يقول و يقصده و هذا لا إشكال فيه، الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول و لايريده فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، و الأدلّة تدلّ على عدم نفوذ أقواله اهـ ملخصًا من شرح الغاية الحنبلية ... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش و نحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله و أفعاله الخارجة عن عادته و كذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال و الأفعال لاتعتبر أقواله و إن كان يعلمها و يريدها؛ لأنّ هذه المعرفة و الإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لاتعتبر من الصبي العاقل."
(کتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج: 3، ص: 244، ط: سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"والحاصل أنه إذا قصد السبب عالما بأنه سبب رتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده إلا إن أراد ما يحتمله. وأما أنه إذا لم يقصده أو لم يدر ما هو فيثبت الحكم عليه شرعا وهو غير راض بحكم اللفظ ولا باللفظ فمما ينبو عنه قواعد الشرع."
(كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، ج 4، ص: 5، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100895
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن