
میں نے اپنی بیوی کو تین سال پہلے ایک مرتبہ طلاق دی تھی،طلاق کےا الفاظ یہ تھے" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس کے بعد دورانِ عدت رجوع ہو گیا ،اب چھ ماہ پہلے ہمارا جھگڑا ہو گیا ،تو میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی،اب تک نہیں آئی، اب ان کے بھائی کہہ رہے ہیں کہ اگر عورت تین ماہ سے زائد اپنے شوہر سے الگ رہے تو اس کو طلاق ہو جاتی ہے۔ تو اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح بیوی کے الگ رہنےسے طلاق ہوجاتی ہے؟
صورت مسئولہ میں بیوی کی بھائی کی بات کہ ” اگر عورت تین ماہ سے زائد اپنے شوہر سے الگ رہے تو اس کو طلاق ہو جاتی ہے“ شرعاًدرست نہیں ہے، محض الگ رہنے سےطلاق نہیں ہوتی بلکہ شوہرکےطلاق دینےسے طلاق ہوتی ہے ،لہذااگرآپ نے ایک طلاق دینےکےبعدرجوع کرلیاتھا اوراس سےپہلےیابعد میں کوئی طلاق نہیں دی تونکاح برقرار ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله! (وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي".
(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ص:230، ج:3، ط:سعيد)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"(أما تفسيره) شرعافهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق...(وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا".
(كتاب الطلاق، الباب الأول في تفسيره وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه وفيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج:1، ص:148، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100818
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن