بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، 6 بیٹے اور دو بیٹوں کے درمیان تقسیم میراث


سوال

 میرے والد گورنمنٹ ملازم تھے جو کہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو چکے ہیں ،والد صاحب نے ترکے میں 1500000 پندرہ لاکھ روپے پنشن کی مد میں چھوڑے ہیں ،اور ایک پلاٹ کی مد میں بھی 2000000 بیس لاکھ روپے چھوڑے ہیں،  ورثاء میں 6 بیٹے، 2 بیٹیاں اور زوجہ  ہیں۔

شریعت کی روشنی میں ہر وارث کے شرعی حصے کی وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو اُسے مابقیہ ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے مابقیہ ترکے کے ایک تہائی سے پورا کرنے کے بعد، ما بقیہ  ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 16 حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے مرحوم کی زوجہ کو، اور دو دو حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت والد : 16/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
222222211

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کے تر کہ کا 12.5 فیصد    مرحوم کی  زوجہ کو  اور  12.5 فیصد کر کے  مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  اور  6.25 فیصد کر کے  مرحوم کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144712100521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں