بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زوال کے وقت تلاوتِ قرآنِ کریم کا حکم


سوال

کیا زوال کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کی جا سکتی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ طلوع و غروبِ  آفتاب اوراستواءِ شمس(زوال)کے وقت قرآن شریف کی تلاوت کرنا ممنوع نہیں ہے، بلا کراہت جائز ہے۔ تاہم   ان اوقاتِ مکروہ میں قرآن شریف پڑھنے کے بجائے درود شریف ،تسبیح وغیرہ ذکر اللہ میں مشغول رہنا زیادہ افضل اور اولیٰ ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلي".

 (کتاب اوقات الصلوۃ، الأوقات المنهي عن الصلاة فيها، ج:1، ص:264، ط:دارالکتب)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفيه عن البغية: الصلاة فيها على النبي - صلى الله عليه وسلم - ‌أفضل ‌من ‌قراءة ‌القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها".

(کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:374، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100195

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں