بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زوال کے وقت قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے کا حکم


سوال

کیا زوال کے وقت قرآنِ مجید  پڑھنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلوع و غروبِ  آفتاب اوراستواءِ شمس(زوال)کے وقت قرآنِ کریم  کی تلاوت کرنا بلا کراہت جائز ہے، تاہم   ان اوقات  میں قرآن کریم کی تلاوت  کے بجائے درود شریف، تسبیح، تحمید ودیگر  ذکر و اذکار   میں مشغول رہنا زیادہ افضل  ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلي."

 (کتاب اوقات الصلوۃ، الأوقات المنهي عن الصلاة فيها، ج:1، ص:264، ط:دارالکتب)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفيه عن البغية: الصلاة فيها على النبي - صلى الله عليه وسلم - ‌أفضل ‌من ‌قراءة ‌القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها."

(کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:374، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509101297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں