
میرا نام اسود ہے میں نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دی کہ" میں تمہیں ایک ہی مرتبہ طلاق دیتاہوں"،پھر بیوی میکے چلی گئی اور انہوں نے یہاں سے فتویٰ لیاتھا کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں ،جبکہ میں نے ان ایک ہی طلاق دی تھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں کیا صحیح ہے کیا غلط ہے ؟جبکہ بیوی اب کسی مفتی صاحب کے پاس آنے کےلیے بھی تیار نہیں ،اب انہوں نے میری بیوی کو عدت میں بٹھادیا اور کسی کو ملنے نہیں دیتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کا دعویٰ ہے کہ اسے تین مرتبہ طلاق دی گئی ہے، جبکہ سائل دو طلاقوں کا انکار کرتے ہیں تو شوہر اور بیوی کےبیانات میں اختلاف اور تضاد ہے تو ایسے اختلاف کی صورت میں اس مسئلہ کا شرعی حل یہ ہے کہ فریقین کسی قریبی مستند دارالافتاء میں حاضر ہوکر وہاں کے کسی مفتی صاحب کو اپنا ثالث /منصف مقرر کریں،بعد ازاں حسب ضابطہ شرعی وہ جو فیصلہ کریں اس کے مطابق عمل کریں۔
اور جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو، اس وقت تک دونوں علیحدہ رہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ويصح التحكيم فيما يملكان فعل ذلك بأنفسهما وهو حقوق العباد و لايصح فيما لايملكان فعل ذلك بأنفسهما، وهو حقوق الله تعالى حتى يجوز التحكيم في الأموال والطلاق والعتاق والنكاح والقصاص وتضمين السرقة."
(کتاب ادب القاضی، الباب الرابع والعشرون، ج:3، ص:397، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:،2،ص:251 ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100600
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن