بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی زمین میں مدرسے کے اوپر بنائے ہوئے گھر میں رہنے کا حکم


سوال

ایک مسجد کے سامنے میرا گھر تھا،مسجد کا وضوخانہ چھوٹاہونے کی وجہ سےمیں نے اپنے گھر کے نیچے والے پورشن کو وضوخانہ بنادیا،اور اس کے اوپر دومنزل میری رہائش تھی،اور اب ایک مخیر کے تعاون سےاس ساری جگہ کو گراکراس میں مزید توسیع کرتے ہوئےنیچے وضوخانہ اوپر دومنزل مدرسہ اور اس کے اوپر میں نے اپنی رہائش رکھ لی ہے،جب مخیر ساری جگہ گرا کرنئی عمارت تعمیر کروارہا تھا تو اس نے کہا دو منزل ہم مدرسہ بنائیں گےاورپھر تیسری منزل آپ کا گھر بناکر دیں گے، مدرسہ اور میرا گھر سب مخیر نے بنایا ہے،کیا میرا اوپر والی منزل پر رہنا درست ہے؟اور یہ جگہ مدرسہ کےلیے وقف نہیں کی، بلکہ میری اپنی ملکیت ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی زمین مدرسے کےلیے وقف نہیں کی ،تو وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے ،پھر سائل نے جب مخیر کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ سائل کے گھر کو گراکرتوسیع کرکے مدرسہ بنائے اور سائل کی رہائش کی جگہ بھی بنائے،اس کےبعدمخیر نے جب توسیع کرکے تین منزلیں بنائی جس میں سے ایک سائل کی رہائش کےلیے دی ،اور دومنزلیں مدرسے کےلیےبنائیں ،تو ایسی صورت میں سائل کا اس  منزل میں   رہنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."

(كتاب الهبة، ج:5، ص: 690، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى ‌لا ‌يثبت ‌الملك ‌للموهوب ‌له قبل القبض."

(كتاب الهبة،الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها،ج:4،ص:374،ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها)"

(كتاب الهبة،ج:5،ص: 688،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101503

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں