بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی رقم سے خریدے ہوئے مکان کا حکم


سوال

میرے بھائی نے ایک پلاٹ اپنے ذاتی پیسوں سے خریدکر اپنے   پیسوں سے اس پر مکان تعمیر کیا، جس میں ہمارے والدین اور اس کی  رہائش تھی، اس مکان کے کاغذات بھی بھائی کے  نام پر ہیں، گھر میں کچھ غیر شرعی ماحول کی بناء پر اس  نے اس سے رہائش ختم کرکے دوسری جگہ رہائش اختیار کی، والد صاحب نے انتقال سے قبل ایک وصیت لکھی، جس میں انہوں نے وہ مکان ہماری ایک  بہن کو ہدیہ کردیا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ جس مکان کا مالک بھائی  تھاکیا  والد صاحب کا ہماری بہن کو ہدیہ کرنا درست تھا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًامذکورہ پلاٹ سائل کے بھائی نے اپنی ذاتی پیسوں سے خرید کر اس پر ذاتی پیسوں سے مکان بنایا تھا اور  کسی کی کوئی رقم  اس میں شامل نہیں تھی اور نہ ہی سائل کے بھائی نے یہ مکان اپنے والد صاحب کو  مالکانہ حق اور قبضے کے ساتھ دیا تھا تو   یہ مکان سائل کے بھائی کی ملکیت ہے، والد صاحب کا مذکورہ مکان کے متعلق وصیت کرکے بیٹی(سائل کی بہن) کو ہدیہ کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

سنن  بیہقی میں ہے:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «‌كل ‌أحد أحق بماله من والده وولده والناس أجمعين»"

(كتاب النفقات،باب نفقة الوالدين، 3/ 192، ط: دراسات الاسلامية)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."

(‌‌الكتاب العاشر: الشركات، ‌‌الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، ‌‌الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، ج:1، ص:230، ط:نور محمد)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی،کذا فی البحرالرائق ."

(باب التعزیر، ج:2، ص:167، ط:رشيدیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101518

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں