بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی کا ذاتی کمائی سے جائیداد خریدنا


سوال

میں اور میرا ایک بھائی رحیم گل ایک ساتھ رہتے تھے، البتہ میرا بھائی  کمر کی تکلیف کی وجہ سے کوئی کام نہیں کرسکتا تھا ،میں نے اس کا آپریشن بھی کرایا ہے ،میں 1990 سے کراچی میں مزدوری کرتا رہا ،پھر میں  نے2002 سے ٹھیکیداری کا  کام شروع کیا ہے،  میرا بھائی گاؤں میں گھر کا خیا ل رکھتا تھا گھر کا سودا سلف لاتا تھا، اور میں تمام اخراجات کے لئے رقم بھیجتا تھا، میں نے اپنے پیسوں سے کچھ نہ کچھ بچا کر اپنے لئے گاؤں میں بھی زمین لی اور کراچی  میں بھی زمین لی ہے  ،پھر میرا اپنے بھائی سے جھگڑا ہوا تو ہم دونوں الگ ہوگئے  ۔

اب میں   57 لاکھ کا مقروض ہوں، اب رحیم گل کا بیٹا کہتا ہے  آپ نے جو زمینیں خریدی ہیں اس میں ہمیں بھی آدھا دو ،جب کہ وہ زمین میں نے اپنے ذاتی کاروبار کے پیسوں سے خریدی ہیں ۔

تو کیا میرے بھتیجے کا یہ مطالبہ درست ہے ؟نیز مجھ پر جو قرض  ہے کیا  وہ صرف مجھےاکیلے  ادا کرنا ہوگا؟

 یا بھائی کو بھی اس قرض  میں سے ادا کرنا ہوگا ؟

وضاحت : سائل نے بتایا کہ میرا اپنے بھائی سے اپنی ذاتی کمائی کے متعلق  کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا  ۔

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل نے  چوں کہ زمینیں اپنے پیسوں سے خریدی ہیں، اور اپنے بھائی سے کسی قسم کا شراکت داری کا معاہدہ نہیں ہوا ہے ، تو سائل ہی ان کا مالک ہے ، اس میں سائل کے بھائی یا بھتیجے کا  حق نہیں ہے ،اور سائل پر جو قرضہ  ہے وہ سائل کو خود ہی ادا کرنا ہوگا ۔بھتیجوں کا سائل سے سائل آدھی جائیداد کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ، البتہ اگر سائل اپنی رضا وخوشی سے انہیں کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔ 

ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (188﴾

ترجمہ :اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق(طور)  مت کھاؤ اور ان (کے جھوٹے مقدموں کو )حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو (کہ اس کے ذریعے سے )لوگوں  کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ (یعنی ظلم )کے کھا جاؤ اور تم کو( اپنے جھوٹ اور ظلم کا )علم بھی ہو  (       بیان القرآن )

تفسیر قرطبی میں ہے:

"فيه ثماني مسائل: الأولى- ... الثانية- الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه."

(سورۃ البقرۃ، آیت 188، ج:2، ص: 338، ط: دارالکتب المصرية القاهرة)

مشكاة المصابيح  میں ہے :

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ ‌إلا ‌بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى"

 ترجمہ "ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خبردار! ظلم نہ کرو، یاد رکھو! کسی شخص کا مال حلال نہیں ہوتا (دوسرے کے لیے) مگر اس کی خوش دلی  سے۔"

 (كتاب البيوع ،باب الغصب والعارية، ج: 2، ص: 889، ط: المكتب الإسلامي،بيروت)

مجلة الأحكام العدلية  میں ہے:

" لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97/96، ص: 27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

 ‌"والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال، والدين هو أن يبيع له شيئا إلى أجل معلوم مدة معلومة كذا في التتارخانية.قال الفقيه - رحمه الله تعالى - لا بأس بأن يستدين الرجل إذا كانت له حاجة لا بد منها وهو يريد قضاءها ولو استدان دينا وقصد أن لا يقضيه فهو آكل السحت كذا في القنية."

(کتاب الکراهية، ج :5، ص: 366،ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں