بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی کمائی سے خریدی گئی زمین کی ملکیت کا حکم


سوال

میں ایک مستری ہوں، اور میرے والد صاحب حیات ہیں، والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، سوتیلی ماں زندہ ہے، ہم کل سات بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، میں نے اپنی ذاتی کمائی سے ایک جریب زمین خریدی ہے، جس میں نہ والد صاحب نے ایک روپیہ دیا ہے اور نہ بھائیوں نے اس کے لیے پیسے دیے ہیں، ہم سب جوائنٹ فیملی کی صورت میں رہتے ہیں، تو میں جو کچھ کماتا تھا اس میں سے کچھ بچت کر کے ان پیسوں سے یہ زمین خرید لی، اب میرے بھائی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا بھی اس زمین میں آپ کے ساتھ حصہ بنتا ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ زمین جو میں نے اپنے ذاتی پیسوں سے لی ہے میرے بھائی بہنوں کا اس میں حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ سائل نے مذکورہ زمین اپنی ذاتی کمائی سے خریدی ہے، تو ایسی صورت میں اس  زمین کا تنہا مالک  صرف سائل ہی ہے، اس میں بھائیوں کا یا کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے، لہذا بھائیوں کا یہ دعوی کرنا کہ "اس زمین میں ہمارا  حصہ بھی بنتا ہے" شرعا باطل ہے۔

شرح المجلہ میں ہے:

"وكذا قولهم اب وابن يكتسبان الخ ، أنه لولم يكن للاب عمل ولا كسب بل العمل والكسب للابن يكون المال المتحصل للا بن خاصة ؛لأن الأب حينئذ في عيال ابنه وهو ظاهر . ثم رأيت التصريح في الخانية وفي رد المحتار عن الخيرية."

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں