
اگر کوئی شخص خود کماتا ہے اور اپنی بچت سے کوئی جائیداد خریدتا ہے، تو اس کی زندگی میں اس کی جائیداد پر اس کے بیوی بچوں کا کیا حق ہے؟
ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف کرنے سے منع کرے ،نیز والد کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں کوئی حق و حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا، تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی ورضا سے اپنی بیوی اور اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے توکرسکتاہے۔
فتاویٰ شامی ہے:
"لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص."
(كتاب البيوع، ج:4، ص:502، ط: سعيد)
درر الحكام في شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:
"[ (المادة ٩٧) لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي]
(المادة ٩٧) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا؛ لأن اللعب في السرقة جد فعلى ذلك يجب أن ترد اللقطة التي تؤخذ بقصد امتلاكها أو المال الذي يؤخذ رشوة أو سرقة أو غصبا لصاحبها عينا إذا كانت موجودة وبدلا فيما إذا استهلكت."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج: 1، ص:98، ط: دار الجيل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100055
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن