
میرے ایک دوست کو ایک لاکھ روپےکیش کی ضرورت تھی ۔ میں نے اس کو ایک جاننے والے کے پاس بھیجا، اس نے میرے دوست کو گاڑیوں کے شوروم پر بلایا۔ اور ایک عدد موٹر سائیکل شوروم والے سے ایک لاکھ روپے میں خریدی، پیمنٹ کردی اور اپنے نام پر متعلقہ ڈاکومنٹس ، مطلب رسید وغیرہ بنائی ۔ اور پھر مذکورہ بالا موٹر سائیکل میرے دوست کو 175 ہزار روپے میں مع کاغذات کے، 8 ماہ کی ادھار ی پر فروخت کردی۔ میرا دوست رقم کی پہلی قسط 5 ماہ بعد اور دوسری یعنی آخری قسط 8 ماہ بعد اداکرےگا۔ پوچھنا یہ تھا ،کیابیع کایہ طریقہ اسلام کے رو سے جائز ہے؟
نقد موٹر سائیکل خرید کر مہنگے داموں ادھار فروخت کرنا فی نفسہ جائز ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے جاننے والے نے شوروم سے ایک لاکھ میں خرید نے اور مکمل قبضہ کے بعد 8 ماہ کی ادھاری پر سائل کے دوست کو ایک لاکھ پچھتر ہزار میں جو فروخت کی ہے، یہ سودا شرعا درست ہے، بشرطیکہ فروخت کنندہ نے خریدار سے واپس خریدنے کی کوئی شرط نہ لگائی ہو، بصورت دیگر اگر واپس خرید نے کی شرط لگائی ہو، تو یہ صورت بیع عینہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگی، کیوں کہ بیع عینہ سود کی ہی ایک قسم ہے۔
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"(قوله: أمر كفيله ببيع العينة) بكسر العين المهملة وهي السلف، يقال باعه بعينة: أي نسيئة مغرب. وفي المصباح وقيل لهذا البيع عينة؛ لأن مشتري السلعة إلى أجل يأخذ بدلها عينا أي نقدا حاضرا اهـ، أي قال الأصيل للكفيل اشتر من الناس نوعا من الأقمشة ثم بعه فما ربحه البائع منك وخسرته أنت فعلي فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوبا يساوي عشرة مثلا بخمسة عشر نسيئة فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل."
(کتاب الکفالة،مطلب فی بیع العینة، ج: 5، ص: 325، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144709102117
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن