
زراعت کی جائز صورتیں کیا ہیں؟ ہم نے ایک صورت اختیار کی ہے کہ زمین میری ہے، جبکہ بیج، محنت ، دیگر اخراجات بھی، اور حاصل شدہ پیداوار نصف، نصف طے ہوئی ہے۔ شرعاً یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
دوسرا سوال: یہ ہے کہ گندم ابھی تیار ہونے والی ہے اور کٹائی و تھریشر وغیرہ کا عمل ابھی نہیں ہوا، اس سے پہلے اس گندم کا بھوسہ فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں، جبکہ بھوسہ ابھی موجود بھی نہیں ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں مزارعت کی جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
(1) زمین اور بیج ایک کے ہوں، جبکہ بقر (ٹریکٹر) اور محنت دوسرے کی ہو۔
(2) زمین ایک کی ہو اور باقی تمام چیزیں دوسرے کی ہوں۔
(3) محنت ایک کی ہو اور باقی تمام چیزیں دوسرے کی ہوں۔
سائل نے جو صورت ذکر کی ہے، وہ بھی شرعاً جائز ہے۔
البتہ بھوسہ وجود میں آنے سے پہلے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، اس لیے سائل گندم کی کٹائی اور تھریشر وغیرہ کے عمل کے بعد، جب بھوسہ کاوجود ہو جائے، تب اسے فروخت کرے، باقی وعدہ بیع کرنا جائز ہے، جب وجود میں آ جائے تو وعدہ کے مطابق بیع کر لے، تو جائز ہو گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(وكذا) صحت (لو كان الأرض والبذر لزيد والبقر والعمل للآخر) أو الأرض له والباقي للآخر (أو العمل له والباقي للآخر) فهذه الثلاثة جائزة."
(كتاب المضارعة،ج:6،ص:278،ط: سعيد)
وفيه ايضا:
"ولو كانت الأرض لأحدهما والبذر منهما وشرطا العمل عليهما على أن الخارج نصفان جاز؛ لأن كلا عامل في نصف الأرض ببذره فكانت إعارة لا بشرط العمل بخلاف الأول اهـ أي فلم تكن مزارعة حتى يقال شرط فيها إعارة كما أفاده في الفصولين، وتمام هذه المسائل في الخانية فراجعها."
(كتاب المضارعة،ج:6،ص:281،ط: سعيد)
شرح مشكلات القدوري میں ہے :
"مستور بحائل غلفله في الأصل، فصار كالجوز والرمان إذا [اشتريط] الدوس، والتذرية على البائع يجوز؛ لأنَّه شرط يقتضيه العقد، فأما إذا باع التبن لا يجوز؛ لأنَّه معدوم، والساق إذا [زُق] يكون تبنًا، فقبل الدّوس التبن ليس بموجود، أما إذا باع [الساق] يجوز؛ لأنَّه موجود."
(كتاب البيوع،ج:1، ص: 507، ط: التراث الذهبي الرياض)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100357
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن