
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ مردوعورت کو ناجائز تعلقات کی بنا پر موقع پاکر قتل کردیتے ہیں، جس میں مختلف صورتیں ہوتی ہیں، جیسے بعض مرد و عورت کی کال لیک ہوجاتی ہے، بعض مرتبہ ان کے ویڈیو یا میسج وغیرہ مل جاتے ہیں، بعض دفعہ اپنے گھر کے صحن، اصطبل وغیرہ میں اجنبی مرد کو دیکھتے ہیں، بعض اوقات مرد وعورت کو دواعی زنا میں پاتے ہیں، ان سب صورتوں میں بلاقیدِ اذنِ حاکم، بلا قیدِ محصن وغیر محصن، بلا فرقِ زنا و دواعی زنا، اور بلا شرط بینۂ زنا، مرد وعورت دونوں کو موقع پاکر قتل کردیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ قتل مذکورہ صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں عند الاحناف یا کسی بھی مذہب میں شرعًا اس کی کوئی گنجائش ہے؟
ہمارے ہاں بعض عوام وخواص کہتے ہیں کہ اگر قاتل زنا یا دواعی زنا کے ثبوت پر دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں گواہ لائے، یا قاتل اس بدکاری کے وقوع اور ثبوت پر پکی قسم اٹھاسکے تو یہ قتل شرعًا جائز ہے، اس میں قاتل پر قصاص یادیت کچھ بھی لازم نہیں ہوں گے، اس پر یہ حضرات درج ذیل مقامات سے استدلال کرتے ہیں:
1۔ صحیح مسلم میں ہے:
"عن أنس: أن رجلا كان يتهم بأم ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: اذهب فاضرب عنقه، فأتاه علي فإذا هو في ركي يتبرد فيها، فقال له علي: اخرج، فناوله يده فأخرجه، فإذا هو مجبوب ليس له ذكر، فكف علي عنه، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إنه لمجبوب ما له ذكر."
(صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة، 8/ 119، ط: دار المنهاج)
2۔ بعض آثار صحابہ میں ہے :
"روي عن عمر: أنه كان يوما يتغدى إذ جاء رجل يعدو وفي يده سيف ملطخ بالدم و وراءه قوم يعدون خلفه فجاء حتى جلس مع عمر فجاء الآخرون فقالوا: يا أمير المؤمنين إن هذا قتل صاحبنا فقال له عمر ما تقول؟ فقال: يا أمير المؤمنين إني ضربت فخذي امرأتي فإن كان بينهما أحد فقد قتلته، فقال عمر: ما تقولون؟ قالوا: يا أمير المؤمنين إنه ضرب بالسيف فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة، فأخذ عمر سيفه فهزه ثم دفعه إليه و قال: إن عاد فعد، رواه سعيد."
(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، 7/ 275)
3۔ فتاوی شامی میں ہے:
"(ويكون) التعزير (بالقتل كمن) وجد رجلا مع امرأة لا تحل له، و لو أكرهها فلها قتله ودمه هدر، و كذا الغلام، وهبانية (إن كان يعلم أنه لاينزجر بصياح و ضرب بما دون السلاح وإلا) بأن علم أنه ينزجر بما ذكر (لا) يكون بالقتل (وإن كانت المرأة مطاوعة قتلهما) كذا عزاه الزيلعي للهندواني."
4۔ عام بینہ اور قسم کے کافی ہونے میں علامہ رافعی کا فتاوی شامی میں اس مسئلہ کے تحت کلام:
قال الرافعي ... قال العلامة الطرابلسي: لكن رأيت العلامة أبا سعود نقل أنه يجوز قضاءً لكن حيث تفحص الحاكم وظهر له أن المقتول متهم في ذلك، ويكتفي من القاتل باليمين ... وأفاد البزازي أنه إن لم يكن معروفا بالشر والسرقة قتل القاتل قصاصاّ وإن كان متهما به فكذلك قياسا وفي الاستحسان الدية في ماله لورثة المقتول ... ثم رأيت منسوبا للكبري أنه لا يحتاج إلى البينة هنا واليمين تقوم مقام البينة ولا يفعل إلا عند فوران الغضب. قال: هذا أوسع."
5۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کا اس مسئلہ سے متعلق رسالہ: "الحكم الحقاني في قتل الزاني" خصوصاً اس کا الحاق۔
حاصلِ استدلال ان سب مقامات سے یہ ہے کہ : یہ قتل حد نہیں ہے، بلکہ تعزیر ہے، اور تعزیر غیر حاکم بھی جاری کرسکتا ہے، یا یہ قتل نہی عن المنکر ہے، جو ہر مسلمان کرسکتا ہے، اس لیے اس میں محصن اور غیر محصن کا فرق بھی نہیں ہے، زنا اور دواعی زنا میں فرق نہیں ہے، نیز اس میں حدزنا والے بینہ کی بھی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اگر یہ قاتل زنا یا دواعی کے ثبوت پر دو گواہ (دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں ) یا صرف قسم اٹھائے تو قصاص اور دیت سے بچ جائے گا۔
اب آپ حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ مقامات سے ان حضرات کا استدلال درست ہے؟ اگر نہیں تو ان مقامات کا جواب اور درست توجیہ کیا ہوگی؟ اگر درست ہے تو اس مسئلہ پر صریح قرآنی آیات، صحیح اور صریح روایات اور جمہور امت کی مدلل رائے اور واضح موقف کا بیان کریں۔
جواب سے پہلے مندرجہ ذیل چند اصولی باتوں کا جاننا ضروری ہے:
1۔ اسلام نے حیا اور پاک دامنی کا حکم دیا ہے اور بے حیائی کو ایمان و اخلاق کے منافی اور سماجی و خاندانی بربادی کا سبب قرار دیا ہے(1)، اس لیے نہ صرف بے حیائی سے روکا، بلکہ اس کے قریب جانے تک سے منع فرمایا(2)، اور اس کے انسداد کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر اصلاحی اقدامات اور اہم معاشرتی احکام وآداب واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ نگاہوں کی حفاظت(3)، فکر کی پاکیزگی (4)، ستر وحجاب کے احکام(5)، نکاح کرنے (6) اور اسے آسان بنانے کا حکم(7)، حیا و اخلاقی اقدار کی تعلیم و تربیت (8)، بے حیائی کے تذکرے سے بھی اجتناب (9) اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (10) وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
2۔ اگر گناہ سرزد ہوجانے کے بعد مسلمان اس پر اصرار نہ کرے اورصدقِ دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالی اسے معاف فرمادیتے ہیں،نیزنیکیوں کی برکت سے بھی گناہ دھل جاتے ہیں، چناں چہ قرآنِ کریم میں ہے:
﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [هود: 114]
ترجمہ: ”البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو، یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو۔“
صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کابوسہ لیا، وہ نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی:﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ (ترجمہ: اور قائم کر نماز کو دونوں طرف دن کے اور کچھ ٹکڑوں میں رات کے، البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو، یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو)، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ (حکم) صرف میرے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میری تمام امت کے لیے ہے جو کوئی اس پر عمل کرے۔(11)
نیز مسند امام احمد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا کہ اس ذات کی قسم! جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تم اتنے گناہ بھی کرلو جن سے آسمان اور زمین کے درمیان (پوری دنیا) بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردیں گے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تم خطا کرنا چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم پیدا کریں گے جو خطائیں کرے گی، پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گی اور اللہ تعالیٰ انہیں معاف کریں گے۔ (12)
3۔ شریعت نے مسلمان کی ستر پوشی کی ترغیب دی ہے، چناں چہ اگر کوئی شخص کسی کے گناہ پر مطلع ہوجائے تو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ہزال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر تم اسے اپنی چادر میں چھپا لیتے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ جب کہ حضرت ہزال رضی اللہ عنہ نے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کی بات کو افشا بھی نہیں کیا تھا، بلکہ صرف رسول اللہ ﷺ تک جانے کا مشورہ دیا تھا۔(13)
4۔اگر کوئی شخص کھلی بے حیائی کرے اور اللہ کی حدود کو پامال کرے تو معاشرے کو بے حیائی اور فحاشی سے پاک رکھنے کے لیے، شریعت نے ریاست و حکومت کو حدود و تعزیرات کا جامع مکمل نظام دیا ہے، حد یا تعزیر جاری کرنے کا یہ اختیار عام آدمی، جرگہ یا پنچائیت کو حاصل نہیں ہے۔(14)
5۔ اگر مرد وعورت کو زنا کرتے ہوئے پایا گیا تو انہیں قتل کرنا جائز نہیں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ (15)
صحیح بخاری کی روایت میں مزید یہ ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو تلوار سے اسے ماردوں گا، جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے؟ بلاشبہ میں ان سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والے ہیں۔(16)
موطا امام مالک میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ملک شام میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاکر اسے یا اپنی بیوی کو قتل کردیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سےاس مسئلے کے بارے میں معلوم کریں،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر قاتل چار گواہ پیش نہ کرے تو اسے قصاص کے لیے حوالے کردیا جائے۔(17)
جب عین زنا کی حالت میں پاکر قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے تو بعد میں زنا کی تہمت کی وجہ سے قتل کرناتو بالکل جائز نہیں ہے۔(18)
البتہ اگر کوئی شخص عین زنا کی حالت میں پایا گیا تو اسے اس برائی سے دور کرنے کی ہر ممکن جائز کوشش کی جائے گی، آواز لگاکر، یا چیخ کر، یا کوئی بھی عمل کرکے دونوں کو گناہ سے دور کیا جائے گا، فقہاءِ کرام نے ایسے مرحلہ میں بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، ورنہ قصاص لازم ہوگا۔(19)
6۔شریعت کی نگاہ میں دواعی جماع قابلِ حد جرم نہیں ، بلکہ زنا قابلِ حد جرم ہے؛ لہذا جب کوئی مکلف شخص جبر واکراہ کے بغیر کسی اجنبی مشتہاۃ خاتون سے اگلی شرمگاہ میں دخول کرے اور یہ دخول نکاح کے شبہے کے طور پر بھی نہ ہو توشرائط کے پائے جانے کے بعد عدالت اس پر حد جاری کرے گی،ان شرائط کی تفصیل کتبِ فقہ میں مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زنا کا ثبوت دو طرح سے ہوسکتا ہے:اقرار کے ذریعہ یا گواہوں کے ذریعہ(20)۔
اگر زانی کسی دباؤ کے بغیراز خود اپنے زنا کااعتراف کرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ چار علیٰحدہ علیٰحدہ مجلسوں میں عدالت کے روبرومخصوص کیفیت و شرائط کے ساتھ زناکا اقرار کرے۔
اگر زناکا ثبوت گواہوں کے ذریعہ ہو تو ضروری ہے کہ چار عادل مرد گواہ ایک ہی مجلس میں عدالت کے روبرو زنا کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے زنا کی گواہی دیں، عدالت گواہوں سے زنا کے وقت، اس کی جگہ، کیفیت اور جس مرد و عورت پر زنا کا الزام ہے ان کے بارے میں معلوم کرے،اور گواہوں کے عادل ہونے کی ظاہری اور خفیہ طور پرتحقیق بھی کرے۔
اگر گواہوں کی تعداد مکمل نہ ہو، یا گواہوں کے بیان میں فرق ہو یا واقعہ کو طویل مدت گزر چکی ہو تو تمام گواہوں پر عدالت حدِ قذف جاری کرے گی، اور ان کی گواہی ہمیشہ کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی۔(21)
مذکورہ بالا تمہیدی اصولوں کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں قتل کرنا شرعًا حرام ہے، اگر کسی نے قتل کردیا تو وہ قانوناً وشرعًا قتل کا مجرم ہوگا۔قتل ناجائز ہونے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
نیز ائمۂ احناف کی طرح ائمہ ثلاثہ کے ہاں بھی مذکورہ تمام صورتوں میں لڑکا لڑکی یا دونوں میں سے کسی کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
ائمۂ ثلاثہ کی کتب سے حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں:
قال صاحب الإكمال: إذا وجد مع امرأته رجلًا فقتله قال ش يقتل به إلا أن يأتي بأربعة شهداء واكتفى أحمد بشاهدين وقال ابن القاسم يهدر دمه كان محصنا أم لا إلحاقا له بالمحارب وتستحب الدية في غير المحصن.
(الذخيرة للقرافي، كتاب النكاح، الباب الأول في أقطاب العقد، الفصل الأول في المرضعة، البحث الثالث في الملاعن، 4/ 296، ط: دار الغرب الإسلامي)
الرجل يجد مع امرأته رجلا فيقتله أو يدخل عليه بيته فيقتله
أخبرنا الربيع قال أخبرنا الشافعي قال أخبرنا مالك بن أنس عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن سعدا قال يا رسول الله: أرأيت إن وجدت مع امرأتي رجلا أأمهله حتى آتي بأربعة شهداء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم نعم، أخبرنا الربيع قال أخبرنا الشافعي قال أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن رجلا من أهل الشام يقال له ابن خيبري وجد مع امرأته رجلا فقتله، أو قتلهما فأشكل على معاوية القضاء فيه فكتب معاوية إلى أبي موسى الأشعري يسأل له علي بن أبي طالب عن ذلك فسأل أبو موسى عن ذلك علي بن أبي طالب كرم الله وجهه فقال له علي إن هذا الشيء ما هو بأرضنا عزمت عليك لتخبرني فقال له أبو موسى: كتب إلي في ذلك معاوية فقال علي أنا أبو حسن إن لم يأت بأربعة شهداء فليعط برمته.
(قال الشافعي): - رحمه الله -: وبهذا نقول فإذا وجد الرجل مع امرأته رجلا فادعى أنه ينال منها ما يوجب الحد وهما ثيبان معا فقتلهما أو أحدهما لم يصدق وكان عليه القود أيهما قتل إلا أن يشاء أولياؤه أخذ الدية أو العفو.
(قال الشافعي): ولو ادعى على أولياء المقتول منهما أنهم علموه قد نال منها ما يوجب عليه القتل إن كان الرجل أو نيل من المرأة إن كانت المرأة المقتولة كان على أيهما ادعى ذلك عليه أن يحلف ما علم فإن حلف فله القود وإن لم يحلف حلف القاتل وبرئ من القود والعقل.
(الأم للإمام الشافعي، كتاب جراح العمد، 6/ 31، ط: دار الفكر)
فصل: وإذا قتل رجلا، وادعى أنه وجده مع امرأته، أو أنه قتله دفعا عن نفسه، أو أنه دخل منزله يكابره على ماله، فلم يقدر على دفعه إلا بقتله، لم يقبل قوله إلا ببينة، ولزمه القصاص. روي نحو ذلك عن علي - رضي الله عنه - وبه قال الشافعي، وأبو ثور، وابن المنذر. ولا أعلم فيه مخالفا، وسواء وجد في دار القاتل، أو في غيرها، أو وجد معه سلاح، أو لم يوجد؛ لما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه سئل عمن وجد مع امرأته رجلا فقتله، فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء، فليعط برمته. ولأن الأصل عدم ما يدعيه، فلا يثبت بمجرد الدعوى.
وإن اعترف الولي بذلك، فلا قصاص عليه ولا دية؛ لما روي عن عمر - رضي الله عنه - أنه كان يوما يتغدى، إذ جاءه رجل يعدو، وفي يده سيف ملطخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين، إن هذا قتل صاحبنا. فقال له عمر: ما يقولون؟ فقال: يا أمير المؤمنين، إني ضربت فخذي امرأتي، فإن كان بينهما أحد فقد قتلته. فقال عمر: ما يقول؟ قالوا: يا أمير المؤمنين، إنه ضرب بالسيف، فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة. فأخذ عمر سيفه فهزه، ثم دفعه إليه، وقال: إن عادوا فعد. رواه سعيد في "سننه"، وروي عن الزبير، أنه كان يوما قد تخلف عن الجيش، ومعه جارية له، فأتاه رجلان فقالا: أعطنا شيئا. فألقى إليهما طعاما كان معه، فقالا: خل عن الجارية. فضربهما بسيفه، فقطعهما بضربة واحدة. ولأن الخصم اعترف بما يبيح قتله، فسقط حقه، كما لو أقر بقتله قصاصا، أو في حد يوجب قتله. وإن ثبت ذلك ببينة، فكذلك.
(المغني لابن قدامة، كتاب الجراح، 8/ 270، ط: مكتبة القاهرة)
سوال میں ذکر کردہ وہ دلائل جن سے مذکورہ صورتوں میں قتل کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے، ان سے استدلال کرنا درست نہیں، ذیل میں ان مستدلات کاتفصیلی جواب دیا جاتا ہے:
صحیح مسلم کی مذکورہ روایت کا پسِ منظر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے 7ھ کو حضرت ماریہ قبطیہ اور ان کی بہن سیرین تحفہ میں پیش کیں، ان کے ساتھ ایک ہزار دینار، بیس جوڑے، اپنا خچر دُلدل، گدھا یعفور اور حضرت ماریہ کا چچازاد بھائی مابور بھی بھیجا، یہ نامرد تھا، مقوقس نے یہ سب کچھ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھوں بھیجا تھا، حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کو اسلام کی دعوت دی، وہ اور ان کی بہن اسلام لے آئیں، جب کہ مابور اس وقت تو اپنے مذہب پر قائم رہا، لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی مدینہ منورہ میں اسلام قبول کیا، چچازاد بھائی ہونے کی وجہ سے حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اس کا آنا جاناتھا،جس پر منافقین نے پروپیگنڈہ کیا تو اللہ تعالی نے حضور ﷺ کے حرم کو تدبیرِ نبوی کے ذریعہ اس الزام سے پاک کردیا۔(27)
مذکورہ روایت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں یا اقرار کے بغیر اس کے قتل کا حکم کیسے دیا؟ صحیح مسلم کی مذکورہ روایت اور دیگر معتد بہ روایات کو سامنے رکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا، بلکہ تحقیقِ حال کے لیے روانہ فرمایا تھا، نیز یہ حکم حد یا تعزیر کے طور پر قتل کرنے کا نہیں تھا۔
آپ ﷺ کے مذکورہ حکم کے مختلف مقاصد اور وجوہات تھیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1۔ آپ ﷺ کو اپنے حرم کی براءت کا علم تھا، آپ ﷺنےتدبیر کے طور پریہ حکم دیا، تاکہ لوگوں کے سامنے بھی حقیقت واضح ہوجائے۔(28)
2۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا، اگر صرف قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اختیار نہ دیتے اور وہ قتل کیے بغیر واپس نہ لوٹتے(29)
3۔نبی کریم ﷺ کا یہ حکم اس شخص کو ڈرانے اور باز رکھنے کے لیے تھا، ہر زبان کےمحاورات میں اس طرح کی تعبیرات استعمال ہوتی ہیں جن میں حقیقی معانی کے بجائے دیگر معانی مقصود ہوتے ہیں ، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ حکم تخویف کی غرض سے دیا تھا،یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نےایک مرتبہ دو عورتوں کے درمیان فیصلہ فرمایا، جن کا ایک بچے کے متعلق تنازع تھا، دونوں کا دعوی تھا کہ یہ بچہ میرا ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ چھری لاؤ، میں اسے تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا کردوں، جس پر حقیقی ماں نے انہیں روک دیا،حضرت سلیمان علیہ السلام نے ڈرانے اور حقیقتِ حال تک پہنچنے کے لیے ایسا فرمایا، حقیقتًادو حصوں میں تقسیم کرنا مقصودنہیں تھا۔(30)
مذکورہ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس کے ہاتھ میں خون سے لت پت تلوار تھی، اس کے پیچھے کچھ لوگ دوڑے چلے آئے، انہوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! اس نے ہمارے بندے کو قتل کیاہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! میں نے اپنی بیوی کی رانوں میں تلوار چلائی ہے، اب اگر اس کے درمیان کوئی تھا تو اسے میں قتل کرچکا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنے والے لوگوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے اسی صورت میں قتل کی تصدیق کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا کہ اگر کوئی دوبارہ کرے تو تم دوبارہ یہی کرو۔
مذکورہ روایت متونِ حدیث، کتبِ تخریج وزوائد، کتبِ اجزاءِ حدیثیہ، اور شروحِ حدیث میں کافی تلاش کے باوجود نہیں مل سکی۔البتہکتبِ فقه حنابلہ میں سے ’’المغني‘‘ لابن قدامة المقدسي الحنبلي(ت: 620)(31)، ’’دقائق أولي النهى‘‘لمنصوربن يونس البهوتى الحنبلى (ت:1051)(32)، ’’الفوائد المنتخبات‘‘ لعثمانبن عبد الله الحنبلي (ت:1240)(33)،’’مطالب أولي النهى‘‘ لمصطفى الرحيباني، الحنبلي (ت:1243)(34)‘‘ و دیگر کتب میں مذکورہ روایت ’’سنن سعيد بن منصور‘‘ کے حوالے سے مذکورہے۔ ممکن ہے کہ یہ روایت ’’سنن سعيد بن منصور‘‘ کے کسی مفقود جز میں ہوگی، اس لیےکہ ’’سنن سعيد بن منصور‘‘ کے دستیاب نسخوں میں یہ روایت ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، البتہ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ کا اس روایت کو نقل کرکے اس کی توجیہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ روایت ان حضرات کے نزدیک ثابت ہے۔
اس روایت سے شک کی بنیاد پر قتل کرنےکا استدلال درست نہیں، کیوں کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اس روایت کو اس مسئلے کے اثبات کے لیے پیش ہی نہیں کیا، بلکہ اسے اس ضمن میں ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو عین زنا کی حالت میں پاکر اسی وقت مرد کو قتل کردے اور بعد میں مقتول کے ولی اس کا اعتراف کرلیں یا قاتل اس پر گواہ پیش کردے تو قاتل سے قصاص اور دیت ساقط ہوجائے گی۔چنانچہ اگر قاتل گواہ پیش نہ کرسکے اور مقتول کے اولیاء بھی اعتراف نہ کریں تو اصل حکم وہی ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے معلوم ہوا کہ قاتل، قتل کی سزا کا مستحق ہوگا۔(35)
یہ عبارت متن "الدر المختار" کی ہے، اس عبارت سے آگے مزید عبارت بھی اسی مسئلے سے متعلق ہے، متن کی عبارت اور "رد المحتار" کی عبارت کو سامنے رکھتے ہوئے بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اگر کوئی شخص کسی مرد کو اپنی بیوی، محرم یا کسی بھی عورت کے ساتھ زنا یا دواعی زنا کرتے دیکھے تو وہ نہی عن المنکر کے تحت دونوں کو اس گناہ سے روکے، ان پر چیخے چلائے ، اگر وہ پھر بھی نہ رکیں تو جان لیے بغیر انہیں مارے پیٹے، تاکہ وہ علیحدہ ہوجائیں، اگر وہ پھر بھی علیحدہ نہ ہوں اور گناہ میں لگے رہیں تو پھر اس کے لیے قتل کرنے کی گنجائش ہے، لیکن ضروری نہیں۔(36)
اور فقہاء نے اس مخصوص نوعیت میں قتل کی جو گنجائش دی تھی وہ اس زمانے کے قانون کے مطابق فساد فی الارض کے سدِّ باب کے لیے تھی(37)، لیکن اب جب قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور بزورِ بازو امر بالمعروف و نہی عن المنکر، صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کرسکتے ہیں تو ہر کس و ناکس کو قتل کی گنجائش دینا خود فساد فی الارض کا موجب ہوگا؛ لہٰذا اب کسی ایسے وقوعہ کی صورت میں از خود قتل کرنے کے بجائے یہ معاملہ متعلقہ قانونی اداروں کے حوالے کیا جائے۔ (38)
اس عبارت سے شکوک و شبہات کی بنیاد پر یا کسی کی ویڈیو یا پیغامات ظاہرہونے کی وجہ سے یا کسی مرد کو صرف گھر کے صحن یا اصطبل میں پائے جانے کی وجہ سے اسے قتل کرنے کے جائز ہونے کا استدلال کرنا بھی درست نہیں ہے۔
یہ عبارت بھی زنا كے دوران قتل كرنےسے متعلق ہے کہ اگر زنا کے دوران زانی کو قتل کیا جائے تو قاتل سے اس وقت قصاص نہیں لیا جائے گا اور صرف یمین پر اکتفا کیا جائے گا جب زانی اپنے عمل میں حد درجہ مشہور ہو کہ بغیر گواہی کے بھی لوگ اس کے فساد سے باخبر ہوں، اور اس کے اولیاء بھی ایک طرح سے اس فعلِ قبیح کے معترف ہوں، لیکن اس صورت میں بھی قصاص تب ساقط ہوگا جب عدالت خود تلا ش و جستجو کرکے زانی کے فساد سے مطمئن ہوجائے(39)۔
لہذا زنا کے بعد قتل کرکے قصاص سے بچنے کی خاطر مذکورہ عبارت بطورِ استدلال پیش کرنا درست نہیں ہے۔
مفتی رشید احمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”احسن الفتاوی“ میں مذکورہ مسئلہ پر مستقل رسالہ ”الحکم الحقانی فی قتل الزانی“ کے نام سے لکھا ہے اس میں بھی یہ بات لکھی ہے کہ شرائط کے پائے جانے کے وقت زانی کو قتل کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اولین اقدام قتل نہیں، بلکہ قتل کرنے سے پہلے ڈرانے یا مارنےاور پیٹنے سے روکنا اور منع کرنا ضروری ہے، باز نہ آنے کی صورت میں قتل کا جواز لکھا ہے، اور اسی صورت میں اگرچہ قتل کا جواز لکھا ہے، لیکن عدالت میں گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا بھی ضروری سمجھا ہے، ورنہ قاتل سے قصاص لینے کا حکم لکھا ہے۔
البتہ مذکورہ رسالہ کے الحاق میں مفتی صاحب نے اپنی پہلی رائے سے ہٹ کر حکم لکھا ہے، جس کا خلاصہ اس طرح ہے کہ:
1۔ زانی کا قتل کرنا حالتِ مباشرت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
2۔ اسی طرح دورانِ زنا قتل کرنے سے پہلے ڈرانے کی شرط بھی ضروری نہیں ہے۔
یہ رائے قرآن و سنت اور عباراتِ فقہاء کے برخلاف ہے؛ لہٰذا اس سے بھی استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ جات
(1)﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ﴾ [الأعراف: 33]
ترجمہ: آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام فحش باتوں کو ان میں جو علانیہ ہیں وہ بھی اور ان میں جو پوشیدہ ہیں وہ بھی اور ہر گناہ کی بات کو ۔
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾ [النور: 19]
ترجمہ: جو لوگ (بعد نزول ان آیات کے بھی) چاہتے ہیں کہ بےحیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں سزائے دردناک (مقرر) ہے۔
وعن ابن عمر–رضي الله عنهما–أن النبيصلى الله عليه وسلمقال: إن الحياء والإيمان قرناء جميعا، فإذا رفع أحدهما رفع الآخر.
(مشكاة المصابيح، كتاب الآداب، باب الرفق و الحياء، الفصل الثالث 3/ 1410 ط: المكتب الإسلامي)
وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: إذا لم تستحى فاصنع ما شئت
(صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب إذا لم تسحي إلخ 5/ 2268 ط:دار ابن كثير)
(2)﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَمِنْهَاوَمَا بَطَنَ﴾ [الأنعام: 151]
ترجمہ:اور بیحیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں ۔(بیان القرآن)
(3)قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ [النور: 30]
ترجمہ: آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بیشک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔(بیان القرآن)
عن ابن بريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى، وليست لك الآخرة.
(سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب في ما يؤمر به من غض البصر، 2/ 212، ط: المطبعة الأنصارية)
(4)﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ [الإسراء: 36]
﴿وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ﴾ [الأنعام: 120]
قوله تعالى: (وذروا ظاهر الإثم وباطنه) للعلماء فيه أقوال كثيرة وحاصلها راجع إلى أن الظاهر ما كان عملا بالبدن مما نهى الله عنه، وباطنه ما عقد بالقلب من مخالفة أمر الله فيما أمر ونهى، وهذه المرتبة لا يبلغها إلا من اتقى وأحسن، كما قال:" ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا وأحسنوا". وهي المرتبة الثالثة. حسب ما تقدم بيانه في المائدة. وقيل: هو ما كان عليه الجاهلية من الزنا الظاهر واتخاذ الحلائل في الباطن. وما قدمنا جامع لكل إثم (وموجب لكل أمر.
(تفسير القرطبي، سورة الأنعام، 7/ 74، ط: دار الكتب المصرية)
(5)﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [الأحزاب: 59]
ترجمہ: اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمان کی بیبیوں سے بھی کہہ یجیئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ (بیان القرآن)
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ [النور: 31]
ترجمہ: اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں ، مگر جس اس (موقع زینت) میں سے (غالباً ) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں اور اپنی زینت (کے مواقع مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں۔(بیان القرآن)
(6) عن عبد الله قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب، من استطاع منكم الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء.
(صحيح مسلم، كتاب النكاح، 4/ 128، ط: دار المنهاج)
(7)عن عائشة قال: النبي صلى الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة
(شعب الإيمان، باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل، 5/ 254، ط: دار الكتب العلمية)
عبد الرزاق، عن معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن أبي العجفاء أن عمر بن الخطاب قال: لا تغالوا في صدق النساء.
(مصنف عبد الرزاق، كتاب النكاح، باب غلاء الصداق، 6/ 249، ط: دار التأصيل)
أخبرنا عبد الرزاق، قال: أخبرنا ابن جريج، قال: حدثني ابن أبي الحسين، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تياسروا في الصداق، إن الرجل يعطي المرأة حتى يبقى ذلك في نفسه عليها حسيكة.
(مصنف عبد الرزاق، كتاب النكاح، باب غلاء الصداق، 6/ 249، ط: دار التأصيل)
(8)عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الحياء شعبة من الإيمان.
(مسند أحمد، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص، 15/ 443، ط: مؤسسة الرسالة)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق
(مسند البزار، 15/ 364، ط: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة)
(9) حدثنا عبد العزيز بن عبد الله: حدثنا إبراهيم بن جعد، عن ابن أخي ابن شهاب، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله قال: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل أمتي معافى إلا المجاهرين، وإن من المجاهرة أن يعمل الرجل بالليل عملا، ثم يصبح وقد ستره الله، فيقول: يا فلان، عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه، ويصبح يكشف ستر الله عنه.
ترجمہ:سالم بن عبد اللہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کے گناہ معاف ہوں گے ، مگر وہ لوگ جو علانیہ گناہ کرتے ہیں (ان کو معافی نہیں ملے گی) بے شک یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے کہ ایک آدمی رات کو کوئی کام ( برائی) کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈالے لیکن صبح ہونے پر وہ آدمی خود (اعلان کر کے ) کہے ، اے فلاں ! میں نے رات کو یہ یہ حرکت کی، حالانکہ اس نے رات اس حال میں گزاری کہ اللہ تعالٰی نے اس پر پردہ ڈال دیا تھا، لیکن اس نے صبح ہوتے ہی اللہ کے پردہ کو اٹھا دیا۔
(كتاب الأدب، باب: ستر المؤمن على نفسه، 5/ 2254، ط: دار ابن كثير)
(10)﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران: 104]
ترجمہ: اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہونگے۔(بیان القرآن)
﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ﴾ [آل عمران: 110]
ترجمہ: تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو ۔(بیان القرآن)
فقال أبو سعيد : أما هذا فقد قضى ما عليه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان.
(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان، 1/ 50، ط: دار المنهاج)
(11) عن ابن مسعود - رضي الله عنه: أن رجلا أصاب من امرأة قبلة، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فأنزلت عليه: {وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين} قال الرجل: ألي هذه؟ قال: لمن عمل بها من أمتي.
(صحيح البخاري، سورة هود، 6/ 75، ط: دار طوق النجاة)
(12) أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: والذي نفسي بيده - أو والذي نفس محمد بيده - لو أخطأتم حتى تملأ خطاياكم ما بين السماء والأرض، ثم استغفرتم الله لغفر لكم، والذي نفس محمد بيده - أو والذي نفسي بيده - لو لم تخطئوا لجاء الله بقوم يخطئون، ثم يستغفرون الله، فيغفر لهم.
(مسند الإمام أحمد بن حنبل، 21/ 146، ط: مؤسسة الرسالة)
(13)"عن يزيد بن نعيم عن أبيه: أن ماعزا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأقر عنده أربع مرات، فأمر برجمه، وقال لهزال: لو سترته بثوبك كان خيرا لك."
ترجمہ: ”حضرت نعیم سے روایت ہے کہ حضرت ماعز اسلمی رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور چار مرتبہ آپ کے سامنے زنا کا اقرار کیا اور وہ شادی شدہ تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا اور ہزال سے (جنہوں نے ماعز کو اقرار کرنے کا کہا تھا) سے فرمایا کہ کاش تو اس کے جرم کو اپنے کپڑے میں چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوتا۔“
(سنن أبي داود، كتاب الحدود، باب في الستر على أهل الحدود، 6/ 430، ط: دار الرسالة العالمية)
(و الشهادة في الحدود يخير فيها الشاهد بين الستر و الإظهار) لأنه بين حسبتين إقامة الحد و التوقي عن الهتك (و الستر أفضل).
قال (والشهادة في الحدود يخير فيها الشاهد بين الستر والإظهار إلخ) الشاهد في الحدود يخير بين أن يستر وأن يظهر؛ لأنه مخير بين أن يشهد حسبة لله فيقام عليه الحد، وبين أن يتوقى عن هتك المسلم حسبة لله، والستر أفضل نقلا وعقلا."
(العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير، كتاب الشهادات، 7/ 367، ط: دار الفكر، بيروت)
(14) البحر الرائق، کتاب الحدود، فصل فی التعزیر، 5/ 45، ط: دار الکتاب الاسلامی - حاشية ابن العابدين، کتاب الحدود، باب التعزیرات، 4/ 60، ط: سعید
(15) عن أبي هريرة، أن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله، الرجل يجد مع امرأته رجلا، أيقتله؟ قال: لا.
(سنن أبي داود،كتاب الديات، باب من وجد مع أهله رجلا فقتله، رقم الحدیث: 4532، 6/ 590، ط: دار الرسالة العالمية)
(16) عن المغيرة قال: قال سعد بن عبادة: لو رأيت رجلا مع امرأتي لضربته بالسيف غير مصفح، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: تعجبون من غيرة سعد، والله لأنا أغير منه، والله أغير مني، ومن أجل غيرة الله حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا أحد أحب إليه العذر من الله، ومن أجل ذلك بعث المبشرين والمنذرين، ولا أحد أحب إليه المدحة من الله، ومن أجل ذلك وعد الله الجنة
(صحيح البخاري، كتاب التوحيد، باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: لا شخص أغير من الله، رقم الحدیث: 6980، 6/ 2698، ط: دار ابن كثير)
(17)عن سعيد بن المسيب، أن رجلا من أهل الشام ، يقال له: ابن خيبري، وجد مع امرأته رجلا ، فقتله ، أو قتلها، فأشكل على معاوية بن أبي سفيان القضاء فيه، فكتب معاوية بن أبي سفيان إلى أبي موسى الأشعري، يسأل له عن ذلك علي بن أبي طالب رضي الله عنه، فقال له علي: إن هذا شيء ما هو بأرضي، عزمت عليك لتخبرني، فقال أبو موسى الأشعري: كتب إلي معاوية بن أبي سفيان فقال علي: أنا أبو حسن، إن لم يأت بأربع شهداء ، فليعط برمته.
(موطأ مالك، كتاب الرهون، باب القضاء فيمن وجد مع امرأته رجلا، 2/ 502، ط: مؤسسة الرسالة)
(18) الفتاوى الهندية، کتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزیر، فصل في التعزیر، 2/ 167، ط: دار الفکر- البحر الرائق، کتاب الحدود، فصل في التعزیر، 5/ 45، ط: دار الکتاب الاسلامی- عمدۃ القاري، کتاب التفسیر، 19/ 75، ط: دار احیاء التراث العربی
(19) اختلف العلماء فيمن قتل رجلا وزعم أنه وجده قد زنا بامرأته، فقال جمهورهم: لا يقتل بل يلزمه القصاص إلا أن تقوم بذلك بينة أو تعترف به ورثة القتيل، والبينة أربعة من عدول الرجال يشهدون على نفس الزنا ويكون القتيل محصنا، وأما فيما بينه وبين الله تعالى فإن كان صادقا فلا شيء عليه.
(عمدة القاري، كتاب التفسير، باب قوله عز وجل: والذين يرمون أزواجهم، 19/ 75، ط: دار إحياء التراث العربي)
ومنهم من منع ذلك مطلقا، فقال المهلب: الحديث دال على وجوب القود فيمن قتل رجلا وجده مع امرأته لأن الله عز وجل وإن كان أغير من عباده، فإن أوجب الشهود في الحدود فلا يجوز لأحد أن يتعد حدود الله.
(عمدة القاري، كتاب الحدود، باب من رأى مع امرأته رجلا فقتله، 24/ 22، ط: دار إحياء الترث العربي)
وقد اختلف العلماء فيمن وجد مع امرأته رجلا فتحقق الأمر فقتله هل يقتل به فمنع الجمهور الإقدام وقالوا يقتص منه إلا أن يأتي ببينة الزنا أو على المقتول بالاعتراف أو يعترف به ورثته فلا يقتل القاتل به بشرط أن يكون المقتول محصنا وقيل بل يقتل به لأنه ليس له أن يقيم الحد بغير إذن الإمام.
(فتح الباري، كتاب الطلاق، باب اللعان، 9/ 449، ط: المكتبة السلفية، مصر)
(20) لأن الزنا في اللغة والشرع بمعنى واحد، وهو وطء الرجل المرأة في القبل في غير الملك و شبهته.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحدود، 4/ 4، ط: سعيد)
(21) (ويثبت بشهادة أربعة) رجال (في مجلس واحد) فلو جاءوا متفرقين حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجرد لفظ (الوطء والجماع) ... (ولو) كان (الزوج أحدهم إذا لم يكن) الزوج (قذفها) ... (فيسألهم الإمام عنه ما هو) أي عن ذاته وهو الإيلاج عيني (وكيف هو وأين هو ومتى زنى وبمن زنى) لجواز كونه مكرها أو بدار الحرب أو في صباه أو بأمة ابنه، فيستقصي القاضي احتيالا للدرء (فإن بينوه وقالوا رأيناه وطئها في فرجها كالميل في المكحلة) هو زيادة بيان احتيالا للدرء (وعدلوا سرا وعلنا) إذا لم يعلم بحالهم (حكم به) وجوبا، وترك الشهادة به أولى ما لم يكن متهتكا فالشهادة أولى نهر. (ويثبت) أيضا (بإقراره) صريحا صاحيا، ولم يكذبه الآخر."
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحدود، 4/ 9، ط: سعيد)
(22) (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ولذا تثبت به حرمة المصاهرة ... وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، 6/ 368، ط: سعيد)
فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، 1/ 406، ط: سعيد)
ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا ...
(قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، 6/ 369، ط: سعيد)
(23) أما أقسام الشهادة فمنها الشهادة على الزنا وتعتبر فيها أربعة من الرجال، ومنها الشهادة ببقية الحدود والقصاص تقبل فيها شهادة رجلين، ولا تقبل في هذين القسمين شهادة النساء هكذا في الهداية. ومنها الشهادة في الولادة والبكارة وعيوب النساء فيما لا يطلع عليه الرجال وتقبل فيها شهادة امرأة واحدة مسلمة حرة عدلة والثنتان أحوط هكذا في فتح القدير.
(كتاب الشهادات،الباب الأول في تعريف الشهادة وركنها وسبب أدائها وحكمها وشرائطها وأقسامها،3/ 451، ط: دار الفكر)
(24)﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ﴾ [النور: 4]
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:لما أتى ماعز بن مالك النبي صلى الله عليه وسلم قال له: لعلك قبلت، أو غمزت، أو نظرت. قال: لا يا رسول الله، قال: أنكتها. لا يكني، قال: فعند ذلك أمر برجمه.
(صحيح البخاري، كتاب المحاربين، باب: هل يقول الإمام للمقر: لعلك لمست أو غمزت، 6/ 2502، ط: دار ابن كثير)
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ادرءوا الحدود عن المسلمين بالشبهات ما استطعتم؛ فإذا وجدتم للمسلم مخرجا فخلوا سبيله، فإن الإمام لأن يخطئ في العفو خير له من أن يخطئ في العقوبة.
(الخراج لأبي يوسف، فصل: في أهل الدعارة، والتلصص والجنايات وما يجب فيه من الحدود، ص:167، ط: المكتبة الأزهرية للتراث)
قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: لأن أعطل الحدود بالشبهات أحب إلي من أن أقيمها بالشبهات.
(فتح القدير للكمال بن الهمام، كتاب الحدود، 5/ 248، ط: دار الفكر)
(25) قالوا لكل مسلم إقامة التعزير حال مباشرة المعصية وأما بعد المباشرة فليس ذلك لغير الحاكم قال في القنية رأى غيره على فاحشة موجبة للتعزير بغير المحتسب فللمحتسب أن يعزر المعزر إن عزره بعد الفراغ منها كذا في البحر الرائق.
(الفتاوى العالمكيرية، كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير، فصل في التعزير، 2/ 167، ط: دار الفكر)
(26)إن عزره بعد الفراغ منها فيه إشارة إلى أنه لو عزره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك وأنه حسن؛ لأن ذلك نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به وبعد الفراغ ليس بنهي عن المنكر؛ لأن النهي عما مضى لا يتصور فيتمخض تعزيرا وذلك إلى الإمام.
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، 5/ 45، ط: دار الكتاب الإسلامي)
رجل قبل أجنبية حرة أو أمة أو عانقها أو مسها بشهوة يعزر. وكذا لو جامعها فيما دون الفرج، فإنه يعزر وكذا إذا تلوط في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى . وفي قول صاحبيه رحمهما الله تعالى إذا تلوط حد حد الزنا. وإن كان المفعول به بالغاً عزر في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وفي قول صاحبيه يحد.
(الفتاوى الخانية،كتاب الحدود، فصل في ما يوجب التعزير، 3/397، ط: دار الكتب العلمية)
(27) قال في الإصابة: مارية القبطية أم ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ذكر ابن سعد من طريق عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة قال: بعث المقوقس صاحب الإسكندرية إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في سنة سبع من الهجرة بمارية، وأختها سيرين، وألف مثقال ذهبا، وعشرين ثوبا لينا، وبغلته الدلدل، وحماره عفيرا، ويقال: يعفور، ومع ذلك خصي يقال له: مأبور شيخ كبير كان أخا مارية، وبعث بذلك كله مع حاطب بن أبي بلتعة، فعرض حاطب بن أبي بلتعة على مارية الإسلام، ورغبها فيه، فأسلمت، وأسلمت أختها، وأقام الخصي على دينه، حتى أسلم بالمدينة بعد في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ... وذكر القاضي عياض أن ذلك الرجل كان قبطيا، وكان يتكلم مع مارية القبطية رضي الله عنها؛ لكونها من أهل وطنه، فاتهمه بعض الناس من أجل ذلك ... وأن النبي صلى الله عليه وسلم نهاه عن التحدث إليه، فلما خالفه استحق بذلك القتل؛ إما للمخالفة، أو لتأذي النبي صلى الله عليه وسلم بسببه، ومن آذى النبي صلى الله عليه وسلم بشيء ملعون كافر يستحق القتل،
(البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج، كتاب التوبة، باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة، 43/ 201 - 205، ط: دار ابن الجوزي)
(28) ويحتمل أن النبي صلى الله عليه وسلم علم براءته، وكونه مجبوبا، وأمر عليا بما أمره به لما ذكر له هو أو غيره خلوه ليتجلى أمره وترتفع تهمته.
(البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج، كتاب التوبة، باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة، 43/ 201 - 205، ط: دار ابن الجوزي)
(29) ذكر في الباب حديث أنس أن رجلا كان يتهم بأم ولده صلى الله عليه وسلم فأمر عليا رضي الله عنه أن يذهب يضرب عنقه فذهب فوجده يغتسل في ركي وهو البئر فرآه مجبوبا فتركه قيل لعله كان منافقا ومستحقا للقتل بطريق آخر وجعل هذا محركا لقتله بنفاقه وغيره لا بالزنى وكف عنه علي رضي الله عنه اعتمادا على أن القتل بالزنى وقد علم انتفاء الزنى والله أعلم.
(المنهاج شرح صحيح مسلم للنووي، كتاب التوبة، باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة، 17/ 119، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثنا أبو كريب، قال: نا يونس بن بكير، عن محمد بن إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن علي بن أبي طالب، رضي الله عنه عن أبيه، عن جده علي، قال: كثر على مارية أم إبراهيم في قبطي ابن عم لها كان يزورها، ويختلف إليها، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ هذا السيف فانطلق، فإن وجدته عندها فاقتله، قال: قلت يا رسول الله: أكون في أمرك إذا أرسلتني كالسكة المحماة لا يثنيني شيء حتى أمضي لما أمرتني به، أم الشاهد يرى ما لا يرى الغائب؟ قال: بل الشاهد يرى ما لا يرى الغائب، فأقبلت متوشح السيف، فوجدته عندها، فاخترطت السيف، فلما رآني أقبلت نحوه تخوف أنني أريده، فأتى نخلة فرقى فيها، ثم رمى بنفسه على قفاه، ثم شغر برجله، فإذا به أجب أمسح، ما له قليل ولا كثير، فغمدت السيف، ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخبرته، فقال: الحمد لله الذي يصرف عنا أهل البيت
(مسند البزار، مسند علي بن أبي طالب 2/ 237 ط: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة)
(30)وتأوَّله بعضُهم على أنَّه - صلى الله عليه وسلم - لم يرد حقيقة القتل، إنَّما أراد تخويفه ليزدجر عن مجيئه إليها. قال: وهذا كما قال سليمان للمرأتين اللتين اختصمتا إليه في الولد: علي بالسكين حتى أشقه بينهما، ولم يرد أن يفعل ذلك، بل قصد استعلام الأمر من هذا القول، ولذلك كان من تراجم الأئمة على هذا الحديث: باب الحاكم يوهم خلاف الحق ليتوصل به إلى معرفة الحق، فأحب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يعرف الصحابة براءته، وبراءة مارية، وعلم أنه إذا عاين السيف، كشف عن حقيقة حاله، فجاء الأمر كما قدره رسول الله - صلى الله عليه وسلم -
(زاد المعاد في هدي خير العباد،فصول في هديه، فصل في قضاءه صلى الله عليه و سلم5/ 24 ط: دار ابن حزم)
(31)فصل: وإذا قتل رجلاً، وادّعى أنه وجده مع امرأته، أو أنّه قتله دفعاً عن نفسه، أو أنّه دخل منزله يكابره على ماله، فلم يقدر على دفعه إلّا بقتله، لم يُقبل قوله إلّا ببينة، ولزمه القصاص. رُوي نحو ذلك عن علي - رضي الله عنه -، وبه قال الشافعي وأبو ثور وابن المنذر. ولا أعلم فيه مخالفاً، وسواء وجد في دار القاتل، أو في غيرها، أو وجد معه سلاح، أو لم يوجد؛ لما رُوي عن علي - رضي الله عنه - أنه سئل عمن وجد مع امرأته رجلاً فقتله، فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء، فليُعط برُمّته. ولأن الأصل عدم ما يدعيه، فلا يثبت بمجرد الدعوى. وإن اعترف الولي بذلك، فلا قصاص عليه ولا دية؛ لما رُوي عن عمر - رضي الله عنه - أنه كان يوماً يتغدّى، إذ جاءه رجل يعدو، وفي يده سيف ملطّخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين، إن هذا قتل صاحبنا. فقال له عمر: ما يقولون؟ فقال: يا أمير المؤمنين، إني ضربت فخذي امرأتي، فإن كان بينهما أحد فقد قتلته. فقال عمر: ما يقول؟ قالوا: يا أمير المؤمنين، إنه ضرب بالسيف، فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة. فأخذ عمر سيفه فهزه، ثم دفعه إليه، وقال: إن عادوا فعُد. رواه سعيد في سننه.
(المغني لابن قدامة، كتاب الجراح، فصل: قتل رجلا، وادعى أنه وجده مع امرأته، 8/ 270 - 271، ط: مكتبة القاهرة)
(32)(أو) قتل (شخصاً في دار) أي القاتل (وادّعى) القاتل (أنّه دخل لقتله أو أخذ ماله فقتله دفعاً عن نفسه وأنكر وليه) فالقود حيث لا بيّنة؛ لأنّ الأصل عدم ذلك، ويؤيّده ما رُوي عن علي أنّه سئل عمن وجد مع امرأته رجلاً فقتله، فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء فليُعط برُمّته، فإن اعترف الولي بذلك فلا قصاص على قاتل ولا دية؛ لما رُوي عن عمر: " أنّه كان يوماً يتغدّى، إذ جاء رجل يعدو، وفي يده سيف ملطّخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتّى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين! إنّ هذا قتل صاحبنا، فقال له عمر: ما تقول؟ فقال: يا أمير المؤمنين! إنّي ضربتُ فخذي امرأتي فإن كان بينهما أحد فقد قتلتُه، فقال عمر: ما تقولون؟ قالوا: يا أمير المؤمنين! إنّه ضرب بالسيف، فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة، فأخذ عمر سيفه، فهزّه ثم دفعه إليه. رواه سعيد.
(دقائق أولي النهى، كتاب الجنايات، 3/270، ط: عالم الكتب)
(33)أو قتل شخصاً في داره وادّعى أنّه دخل لقتله، أو أخذ ماله فقتله دفاعاً عن نفسه فالقود حيث لا بيّنة؛ لأنّ الأصل عدم [ذلك]، ويؤيّده ما رُوي عن علي أنّه سئل عمن وجد مع امرأته رجلاً فقتله، فقال: إن لم يأتِ بأربعة شهداء فليُعط برُمّته"، فإن اعترف الولي بذلك فلا قصاص على قاتل ولا دية؛ لما رُوي عن عمر أنه كان يوماً يتغدّى، إذ جاء رجل يعدو، وفي يده سيف ملطخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتّى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين! إنّ هذا قتل صاحبنا، فقال له عمر: ما تقول؟ قال: يا أمير المؤمنين! إنّي ضربتُ فخذي امرأتي، فإن كان بينهما أحد فقد قتلته، فقال عمر: ما تقولون؟ قالوا: يا أمير المؤمنين! إنّه ضرب بالسيف، فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة، فأخذ عمر سيفه، فهزّه، ثُمّ دفعه إليه. رواه سعيد.
(الفوائد المنتخبات، كتاب الجنايات، فصل في شروط وجوب القصاص، 4/ 719 - 720، ط: مؤسسة الرسالة)
(34)(أو) قتل مكلف (شخصاً في داره وادّعى) القاتل (أنّه دخل لقتله أو أخذ ماله) أو يكابره على أهله (ويتّجه ولا قرينة تُصدِّقه) أي: تُصدِّق مدعياً شيئاً ممّا تقدم، بأن كان المقتول موصوفاً بالعدالة، أو مستور الحال بأن لم يعهد فيه وقوع شيء من ذلك، أمّا إذا قامت قرائن من حال المقتول على صدق قاتله ككون المقتول من أهل الفجور، أو الفساق الذين لا يبالون بالارتكابات القبيحة على اختلاف أنواعها؛ فلا مانع من درء الحد عنه، وإلى هذا ميل صاحب الفروع ؛ لأنّ القرينة شبهة قوية، وهو متجه (فقتله دفعاً عن نفسه) أو ماله أو أهله (وأنكر وليّه) فالقود حيث لا بيّنة، لأنّ الأصل عدم ذلك، ويؤيّده ما رُوي عن علي أنّه سئل عمّن وجد مع امرأته رجلاً فقتله، فقال: إن لم يأتِ بأربعة شهداء فليُعط برُمّته، فإن اعترف الولي بذلك فلا قصاص على قاتل ولا دية؛ لما رُوي عن عمر أنه كان يوماً يتغدّى، إذ جاء رجل يعدو، وفي يده سيف ملطّخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتّى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين! إن هذا قتل صاحبنا، فقال له عمر: ما تقول؟ فقال: يا أمير المؤمنين! إنّي ضربتُ فخذي امرأتي، فإن كان بينهما أحد فقد قتلتُه، فقال عمر: ما تقولون؟ فقالوا: يا أمير المؤمنين! إنّه ضرب بالسيف فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة، فأخذ عمر سيفه، فهزّه، ثُمّ دفعه إليه، وقال: إن عادوا فعُد. رواه سعيد.
(مطالب أولي النهى، كتاب الجنايات، 6/41-42، ط: المكتب الإسلامي)
(35)فصل: وقوله في الحديث: (لو أن رجلا وجد مع امرأته رجلا يقتله فتقتلونه به) دليل على أن من قتل رجلا في داره وادّعى أنه وجده مع امرأته أو حريمه قتل فيه، ولا يُقبل قوله؛ إذ لو قبل قوله لأهدرت الدماء، وكان كل من أراد قتل رجل أدخله داره وادعى أنه وجده مع امرأته.
ولكن هاهنا مسألتان يجب التفريق بينهما: إحداهما: هل يسعه فيما بينه وبين الله تعالى أن يقتله أم لا؟ والثاني: هل يقبل قوله في ظاهر الحكم أم لا؟ وبهذا التفريق يزول الإشكال فيما نقل عن الصحابة -رضي الله عنهم -في ذلك، حتى جعلها بعض العلماء مسألة نزاع بين الصحابة، وقال: مذهب عمر رضي الله عنه أنّه لا يقتل به، ومذهب علي: أنّه يقتل به، والذي غرّه ما رواه سعيد بن منصور في " سننه" (أنّ عمر بن الخطاب رضي الله عنه بينا هو يوماً يتغدّى، إذ جاءه رجل يعدو، وفي يده سيف ملطّخ بدم، ووراءه قوم يعدون، فجاء حتّى جلس مع عمر، فجاء الآخرون فقالوا: يا أمير المؤمنين، إنّ هذا قتل صاحبنا، فقال له عمر -رضي الله عنه-: ما تقول؟ فقال له: يا أمير المؤمنين إنّي ضربتُ بين فخذي امرأتي، فإن كان بينهما أحد فقد قتلتُه، فقال عمر: ما تقولون؟ فقالوا: يا أمير المؤمنين إنّه ضرب بالسيف فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة، فأخذ عمر -رضي الله عنه- سيفه فهزّه، ثم دفعه إليه وقال: إن عادوا فعُد) فهذا ما نقل عن عمر رضي الله عنه.
وأما علي فسئل عمن وجد مع امرأته رجلا فقتله فقال: إن لم يأتِ بأربعة شهداء فليُعط برُمّته. فظن أنّ هذا خلاف المنقول عن عمر، فجعلها مسألة خلاف بين الصحابة، وأنتَ إذا تأمّلت حكميهما لم تجد بينهما اختلافا، فإن عمر إنما أسقط عنه القود لما اعترف الولي بأنّه كان مع امرأته، وقد قال أصحابنا - واللفظ لصاحب " المغني ": فإن اعترف الولي بذلك فلا قصاص ولا دية؛ لما روي عن عمر. ثم ساق القصة، وكلامه يعطي أنه لا فرق بين أن يكون محصنا وغير محصن، وكذلك حكم عمر في هذا القتيل، وقوله أيضا: " فإن عادوا فعد " ولم يفرق بين المحصن وغيره، وهذا هو الصواب، وإن كان صاحب " المستوعب " قد قال: وإن وجد مع امرأته رجلاً ينال منها ما يوجب الرجم فقتله وادّعى أنّه قتله لأجل ذلك فعليه القصاص في ظاهر الحكم، إلّا أن يأتي ببيّنة بدعواه، فلا يلزمه القصاص، قال: وفي عدد البيّنة روايتان؛ إحداهما: شاهدان، اختارها أبو بكر؛ لأنّ البيّنة على الوجود لا على الزنى. والأخرى: لا يُقبل أقل من أربعة، والصّحيح أنّ البينة متى قامت بذلك أو أقرّ به الولي سقط القصاص، محصناً كان أو غيره، وعليه يدلّ كلام عليّ، فإنّه قال فيمن وجد مع امرأته رجلاً فقتله: (إن لم يأت بأربعة شهداء فليُعط برُمّته) وهذا؛ لأنّ هذا القتل ليس بحد للزنى، ولو كان حداً لما كان بالسيف، ولاعتبر له شروط إقامة الحد وكيفيته، وإنّما هو عقوبة لمن تعدّى عليه وهتك حريمه وأفسد أهله.
(زاد المعاد، فصل من قتل رجلا في داره مدعيا زناه بحريمه قتل به إن لم يأت ببينة أو إقرار الولي، 5/ 362 - 363، ط: مؤسسة الرسالة)
ومن قتل شخصا في داره، وادعى أنه دخل لقتله أو أخذ ماله، أو وجده يفجر بأهله، فأنكر الولي: فعليه القود، لأن الأصل عدم ذلك. قال في المغنى: ولا أعلم فيه مخالفا. وروي عن علي، رضي الله عنه أنه سئل عمن وجد مع امرأته رجلا فقتله. فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء فليعط برمته، فإن اعترف الولي بذلك فلا قصاص ولا دية، لاعتراف الولي بما يهدر الدم. ولما روي عن عمر أنه كان يوما يتغدى، إذ جاء رجل يعدو وفي يده سيف ملطخ بالدم، ووراءه قوم يعدون خلفه، فجاء حتى جلس مع عمر، فجاء الآخرون، فقالوا: يا أمير المؤمنين إن هذا قتل صاحبنا، فقال له عمر: ما تقول؟ فقال: يا أمير المؤمنين إني ضربت فخذي امرأتي فإن كان بينهما أحد فقد قتلته فقال عمر: ما تقولون؟ قالوا يا أمير المؤمنين إنه ضرب بالسيف فوقع في وسط الرجل و فخذي المرأة فأخذ عمر سيفة فهزه، ثم دفعه إليه، وقال: إن عاد فعد رواه سعيد.
(منار السبيل، كتاب الجنايات، باب شروط القصاص في النفس، 2/ 323، ط: المكتب الإسلامي)
(36) (و) في منية المفتي (لو كان مع امرأته وهو يزني بها أو مع محرمه وهما مطاوعان قتلهما جميعا) اهـ وأقره في الدرر. وقال في البحر: ومفاده الفرق بين الأجنبية والزوجة والمحرم، فمع الأجنبية لا يحل القتل إلا بالشرط المذكور من عدم الانزجار المزبور، وفي غيرها يحل (مطلقا) اهـ. ورده في النهر بما في البزازية وغيرها من التسوية بين الأجنبية وغيرها، ويدل عليه تنكير الهندواني للمرأة؛ نعم ما في المنية مطلق فيحمل على المقيد ليتفق كلامهم، ولذا جزم في الوهبانية بالشرط المذكور مطلقا وهو الحق بلا شرط إحصان لأنه ليس من الحد بل من الأمر بالمعروف. وفي المجتبى: الأصل أن كل شخص رأى مسلما يزني يحل له أن يقتله، وإنما يمتنع خوفا من أن لا يصدق أنه زنى.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحدود، باب التعزير، 4/ 64، ط: سعيد)
(قوله بما في البزازية وغيرها) أي كالخانية، ففيها: لو رأى رجلا يزني بامرأته أو امرأة آخر وهو محصن فصاح به فلم يهرب ولم يمتنع عن الزنا حل له قتله ولا قصاص عليه.
(حاشية ابن عابدين، كتاب الحدود، باب التعزير، 4/ 63، ط: سعيد)
(37) ففى هذا من الفقه قطع الذرائع والتسيب إلى قتل الناس والادعاء عليهم بمثل هذا وشبهه، وفى حديث سعد من رواية مالك: النهى عن إقامة الحدود بغير سلطان وبغير شهود؛ لأن الله تعالى عظم دم المسلم وعظم الإثم فيه، فلا يحل سفكه إلا بما أباحه الله به، وبذلك أفتى على بن أبى طالب فيمن قتل رجلا وجده مع امرأته فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء؛ فليعط برمته. أى يسلم برمته للقتل، وعلى هذا جمهور العلماء. وقال الشافعى وأبو ثور: يسعه فيما بينه وبين الله قتل الرجل وامرأته إن كانا ثيبين وعلم أنه قد نال منها ما يوجب الغسل ولا يسقط عنه القود فى الحكم. وقال أحمد بن حنبل: إن جاء ببينة أنه وجده مع امرأته وقتله يهدر دمه إن جاء بشاهدين. وهو قول إسحاق وهذا خلاف قوله فى حديث مالك: أمهله حتى آتى بأربعة شهداء؟ قال: نعم وقال ابن حبيب: إذا كان المقتول محصنا، فالذى ينجى قاتله من القتل أن يقيم أربعة شهداء أنه فعل بامرأته، وأما إن كان المقتول غير محصن فعلى قاتله القود، وإن أتى بأربعة شهداء، هذا وجه الحديث عندى.
(شرح صحيح البخاري لابن بطال، كتاب الرجم، باب من رأى مع امرأته رجلا فقتله، 8/ 480، ط: مكتبة الرشد)
(38) سوال: کیا زانی اور زانیہ کو قاضی کے فیصلے کے بغیر قتل کرنا جائز ہے ؟
جواب (196) زانی کو اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھ لے تو اس کو خود قتل کرنا نہیں چاہیے کہ یہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے، قاضی کے سامنے پیش کرے، لیکن اگر جوش غضب میں خود قتل کر دے تو وہ عند اللہ قتل پر ماخوذ نہ ہو گا، ہاں قانو ناً مجرم قرار دیا جائے گا۔
(کفایت المفتی ، کتاب الحدود والجنایات، 2/ 223، ط: دار الاشاعت)
(39) قال العلامة الطرابلسي: لكن رأيت العلامة أبا سعود نقل أنه يجوز قضاءً لكن حيث تفحص الحاكم وظهر له أن المقتول متهم في ذلك، ويكتفي من القاتل باليمين وأجاب عن صبي قتل رجلا قصدا للواطة به فقتله بأنه لا يتعرض له حيث كان الرجل معروفا بالفساد كما نقل ذلك عنه العلامة الكواكبي وهو كلام حسن ينبغي حفظه وأفاد البزازي أنه إن لم يكن معروفا بالشر والسرقة قتل القاتل قصاصاّ وإن كان متهما به فكذلك قياسا، وفي الاستحسان الدية في ماله لورثة المقتول لأن دلالة الحال أورثت شبهة في القصاص لا في المال، ثم رأيت منسوبا للكبري أنه لا يحتاج إلى البينة هنا واليمين تقوم مقام البينة ولا يفعل إلا عند فوران الغضب. قال: هذا أوسع.
(تقرايرات الرافعي ص: 45، على حاشية ابن عابدين، كتاب الحدود، باب التعزيرات، 4/ 63، ط: سعيد)
فتویٰ نمبر : 144602101757
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن