
ارادہ ہے کہ زمزم شریف کی ایک واضح اور متعین فیصدی حد صاف پانی میں شامل کر کے بوتل بند پانی کے طور پر فروخت کیا جائے اور اس مقدار کو واضح طور پر ظاہر کیا جائے گا۔یہ پانی خالص زمزم کے طور پر فروخت نہیں کیا جائے گا،بلکہ اس میں زمزم بطور ِ تبرک شامل کیا جائے گا اور اسی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔براہ ِ کرم درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:
1.کیا زمزم کو اس طرح متعین مقدار میں پانی میں ملانا جائز ہے؟
2.کیا اس طرح کے پانی کو تجارتی طور پرفروخت کیا جاسکتا ہے؟
3. مذکورہ طریقہ ( واضح فیصدی حد کے ساتھ پیش کرنا) شرعا درست ہے؟
1. صورتِ مسئولہ میں زمزم کی متعین مقدار کو عام پانی میں ملانا جائز ہے۔
2.زمزم کو بطورِ تبرک صاف پانی میں شامل کر کے بوتل بندکے طور پر فروخت کرنا جائز ہے بشرط یہ کہ خریدار کو ملاوٹ سے آگاہ کرکے فروخت کیا جائے۔
3.مذکورہ طریقہ کارمیں اگر زمزم کی شامل کردہ متعین فیصدی حد کو واضح طور پر لکھا جائے تو اس کی خرید و فروخت شرعا جائز ہے۔
مصنف ابن أبي شیبۃ میں ہے:
"عن ابن جريج فيما قرأ عليه عن عطاء قال: قلت له: بيع الماء في القرب؟ قال: لا بأس به، وهو يستقيه، وهو يحمله، ليس كفضل الماء الذي يذهب في الأرض."
(كتاب البيوع والأقضية، في بيع الماء وشرائه، رقم: 22218، ج: 11،ص: 487، ط: دار كنوز إشبيليا)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أنواع المياه فنقول : المياه أربعة أنواع : الأول : الماء الذي يكون في الأواني والظروف والثاني الماء الذي يكون في الآبار والحياض والعيون والثالث ماء الأنهار الصغار التي تكون لأقوام مخصوصين والرابع : ماء الأنهار العظام كجيحون وسيحون ودجلة والفرات ونحوها أما بيان حكم كل نوع منها على القسمة أما الأول فهو مملوك لصاحبه لا حق لأحد فيه ؛ لأن الماء وإن كان مباحا في الأصل لكن المباح يملك بالاستيلاء إذا لم يكن مملوكا لغيره كما إذا استولى على الحطب والحشيش والصيد فيجوز بيعه كما يجوز بيع هذه الأشياء."
(كتاب الشِرب، ج: 6، ص: 188، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی تاتار خانیہ میں ہے؛
"وروی بشر بن الوليد عن أبي يوسف اذا هيّأ الرجل مصنعه و استقى الماء بالأوعية حتى جمع فيها ماء كثيرا ثم باعه جاز البيع."
(كتاب البيوع، فصل في الماء والجمد، ج: 8، ص: 367، ط: مكتبة زكريا بديوبند)
امداد الفتاوی میں ہے :
”[آب زمزم کی تجارت کے متعلق سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ] بظاہر اس تجارت سے کوئی امر مانع جواز نہیں ، متقوم بھی ہے ، احراز سے ملک میں بھی داخل ہوجاتا ہے ، اور بلانکیر زمزم بیچنے کا تعامل بھی ہے ، جس میں دونوں جزء مبیع ہوتے ہیں ، اور متبرک ہونا بھی مانع نہیں ہوسکتا ، قرآن مجید سب سے زیادہ متبرک ہے ، اور اس کی بیع و شراء سب جائز ہے،اور مشتری کا کافر ہونا بھی بظاہرمانع صحت بیع نہیں،ہاں احتمالا مخل احترام ہونے کی بناء پر خلاف ِ اولیٰ یا مکروہ کہا جاسکتا ہے،باقی ثواب ہونا محتاج نقل ہے۔ولم أجد النقل.“
( کتاب البیوع ، فصل جائز ، ناجائز یا مکروہ معاملات بیع ِ،، ج : 6،ص:521، ط :رشیدیۃ )
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100786
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن