بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرضہ دے کربیوپاری کومال اپنے پاس لانے کاپابند بنانے کاحکم ؟


سوال

1)میں پھلوں کی آڑھت کاکاکروبارکرتاہوں،اس میں باغبان ایڈوانس پیسےطلب کرتےہیں،اوریہ ایڈوانس پچھلی فصل کےاعتبارسےدیاجاتاہے(یعنی گذشتہ سال کل مال 20 لاکھ ہوا تواس سال سے اندازہ لگاکراسی کےمطابق ایڈوانس دیتےہیں)،یہ ایڈوانس  بیوپاری باغ کی اخراجات  کےلیےلیتےہیں ،جب فصل آتی ہے تووہ سارےپھل ہمیں دیتاہے،اورہم اس کوفروخت کرتےہیں،اور یہ بیوپاری پرلازم نہیں ہے کہ مال ہماراحوالہ کرے، اگرہم سے زیادہ قیمت پرکوئی اس سے لےرہاتھاتواس کوبھی فروخت کرسکتاہے،اس فروخت کرنےپرہم اس سے وہ کمیشن  وصول کرتےہیں جوعام مارکیٹ میں دوسرے آڑھتی اس سےوصول کرتےہیں،اورایڈوانس کومنہاکرکےپھلوں کی بقیہ رقم ہم باغبان کواداکردیتےہیں ،شریعت کی رو سے قبل ازوقت باغبان کوایڈوانس  اداکرناجائز ہے؟اگرناجائزہےتواس کاشرعی حل کیاہے؟

2ـ ) ا س آڑھت کے کام میں میرےدوشریک ہیں،پیسہ ساراکاساران دونوں کا ہے،اورمحنت میری، شراکت داری کی تفصیل منسلک ہے،اس میں اگرکوئی شرعی سقم ہو تواس پرمطلع فرمائیں،اوراس کاحل تجویز فرمائے۔

معاہدہ بابت شراکت:

محمدکاشف ، عشرت حسین ، نعمان حیدرکےمابین یہ شراکت داری طےہواہےکہ بلوچستان سےاوردوسری جگہ سےجومال آئےگا،اس میں محمدکاشف اورعشرت حسین پیسہ  لگائیں گے نعمان حیدرکاکوئی پیسہ نہیں لگےگا۔

دفتراورمنشی وغیرہ کاحساب مشترکہ ہوگا،دفتراوردکان کاکرایہ وغیرہ کوئی نہیں ہوگا،اوردفترکاراشن وغیرہ نعمان دےگا،اورتینوں شراکت دارنفع اورنقصان میں اس تناسب سے حصہ دارہوں گے،نعمان حیدرکا40فیصد ،محمدکاشف کا30 فیصد،سیدعشرت حسین 30 فیصدہوگا،اورجورقم نعمان حیدربیوپاری کودےگاوہ اس سے واپس لینےکابھی پابندہوگا،ایک سال لگےیادوسال لگیں،اگرکوئی  رقم ڈوب جاتی ہے توتینوں فریق  اپنے حصےکےحساب سےنقصان برداشت کریں گے۔

جواب

1)واضح رہے کہ اگر بیوپاری حضرات باغ خریدنے کے لیے يازمیندار کاشتکاری کے لیے آڑھتی سے قرض لیتے ہیں، اور آڑھتی اس شرط پر قرض دیتا ہے کہ بیوپاری  یازمیندار بعد میں اپنا مال اُسی آڑھتی کے ذریعے فروخت کرائے گا  تو شرعاً  اس طرح شرط لگاکر قرض دینا شرعاً جائزنہیں ،بلکہ یہ بھی قرض دےکر نفع حاصل کرنے کی ایک صورت ہے،لیکن اگر قرض کے ساتھ مذکورہ شرط نہ لگائی جائے اوربیوپاری خود اخلاقًااس آڑھتی کے پاس  مال لے آئے تویہ صورت جائز ہے،البتہ آڑھتی اس صورت میں صرف اتنا ہی کمیشن لے سکتا ہے جتنا دوسرےآڑھتی لیتےہیں، بازار کے رواج سے زیادہ کمیشن لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ قرض پر مشروط نفع ہونے کی صورت میں سود کے حکم میں آ جائے گا، جو کہ شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر غیرمشروط طورپر قرضہ دیتاہو توسائل  کا مذکورہ طریقے سے کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ سائل  معروف اور بازار کے مطابق کمیشن لےاس سے زائد نہ لے۔

2)مذکورہ معاملہ، جو سائل اور اس کے دو شریکوں کے درمیان طے پایا ہے، شرعاً درست نہیں ہے،  کیونکہ سرمایہ کاروں کے سرمایہ سے کوئی کاروبار نہیں کیاجاتا، بلکہ ان کے سرمائے کوبطور قرض بیوپاری یازمینداروں کو دیاجاتاہے،اورقرض پرمنافع بنتاہی نہیں بلکہ وہ تو سود ہوتاہے،اس لیے یہ معاملہ درست نہیں ،كمائی فقط سائل کے بروکری کی ہے،اس لیے جتنے بھی منافع ہووہ سب سائل  (آڑھتی) ہی کے ہوں گے،باقی شریکوں کوان منافع سے کچھ نہیں ملتا،اس لیے کہ ان کے پیسوں سے کوئی حقیقی کاروبارنہیں ہورہا،ان کے پیسوں کوتوفقط قرض کے طور پر دیاجارہاہے، اور قرض سے نفع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں،  اس لیے یہ معاملہ درست نہیں ہے۔

المبسوط السرخسی میں ہے:

"وإذا اشترى بيعا على أن يقرضه فهذا فاسد لنهي النبي صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيع ‌وسلف ولنهيه صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط. والمراد شرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين لا يقتضيه العقد وقد وجد ذلك."

(كتاب الصرف، باب القرض والصرف فيه، ج:14، ص: 40، ط:دار المعرفة - بيروت)."

 فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) فيها (القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا كان باطلا) وكذا لو أقرضه طعاما بشرط رده في مكان آخر (وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز ويجبر الدائن على قبول الأجود وقيل لا بحر ، وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، مطلب كل قرض جرنفعاّ حرام، ج:5، ص:165، ط: دارالفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا."

(کتاب البیوع، فروع في البیوع، ج:4، ص:516، ط:دارالفکر)

 آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

"چوں کہ زمین دار ان کویہ رقم پیشگی  کےطور پر دیتے ہیں، یعنی ان کا مال آتا رہے گا اور اس میں سے ان کی رقم وضع ہوتی رہے گی، اس لیے یہ ٹھیک ہے، اس پر کوئی قباحت نہیں,اس کی مثال ایسی ہوگی کہ دکان دار کے پاس کچھ روپیہ پیشگی جمع کرا دیا جائے اور پھر اس سے سودا سلف خریدتے رہیں، اور آخر میں حساب کر لیا جائے۔"

(کمیشن، ج7، ص386،ط:لدھيانوی جدید ۔  ج6، ص278، ط:لدھیانوی قدیم) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100805

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں