
1)سوال یہ ہے کہ میرا کاروبار کھجوروں کا ہے۔ جب میں درختوں سے کھجور توڑتا ہوں تو اس کا عشر ادا کر دیتا ہوں۔ پھر انہی کھجوروں کو مارکیٹ اور دکانوں میں فروخت کرتا ہوں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان کھجوروں کی مالیت پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی، یا صرف عشر ادا کرنا کافی ہوگا؟ واضح رہے کہ کھجور کے درختوں کی سیرابی اپنے ٹیوب ویل کے پانی سے کی جاتی ہے۔
2)دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی زمین کرائے پر لے، جس میں کھجور کے درخت موجود ہوں، تو کیا اس زمین کو بالکل پھل آنے سے پہلے، یعنی ایک موسم کا پھل کٹ جانے کے فورا بعد، کرائے پر لینا درست ہے؟ جب کہ اس زمین کے ساتھ درخت بھی موجود ہوں۔
3)تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر زمین کرائے پر لی جائے اور اس میں کھجور کے درخت بھی موجود ہوں، تو کیا درخت زمین کے تابع شمار ہوں گے، اور کیا ان درختوں پر محنت کرکے ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا؟
اس سوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب کھجور کا موسم مکمل ہوجاتا ہے تو آئندہ سال پھل آنے تک تقریباً نو ماہ کا عرصہ ہوتا ہے، جس میں ابتدا ہی سے عمدہ اور بہترین پھل حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبابارہ قسم کے کام کیے جاتے ہیں، جن میں صفائی، آبپاشی، قلم لگانا، چنائی وغیرہ شامل ہیں، اور یہ امور مرحلہ وار انجام دیے جاتے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر زمین کو کرائے پر لیا جائے اور درخت اس کے تابع ہوں، تو کیا اس میں یہ لحاظ کرنا ضروری ہے کہ پھل ابتدائی مرحلے میں ہے یا بدوّ صلاح کو پہنچ چکا ہے یا نہیں؟ یا پھر کسی بھی مہینے اور کسی بھی وقت زمین کو کرائے پر لیا جاسکتا ہے؟
1)واضح رہے کہ جب ایک مرتبہ کھجور وغیرہ کا عشر ادا کردیا جائے، تو پھر انہی کھجوروں پر دوبارہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ البتہ اگر ان کھجوروں کو فروخت کرکے ان کی رقم محفوظ کرلی جائے، اور اس رقم پر ایک سال گزر جائے، تو اگر وہ مال نصاب کے برابر ہو، اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔ یا اگر وہ نصاب سے کم ہو، لیکن اس کی ملکیت میں اس کے علاوہ نقدی، سونا یا چاندی بھی موجود ہو، تو مجموعی مالیت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے اور قمری سال گزر جائے، تو اس پر بھی زکوۃ فرض ہوگی۔ ایسی صورت میں مجموعی مالیت کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ کے طور پر ادا کرنا لازم ہوگا۔
تاہم اگر کھجور کے درختوں کی سیرابی ٹیوب ویل کے پانی سے کی جاتی ہو، تو اس صورت میں ان کھجوروں میں نصف عشر ادا کرنا لازم ہوگا۔
2)چوں کہ درختوں کو اجارے پر دینا یا لینا شرعا جائز نہیں، لہٰذا سائل کے لیے خالی زمین اجارے پر لینا جائز ہے، لیکن اس پر موجود کھجور کے درختوں کو اجارے پر لینا جائز نہیں۔ ایسی صورت میں درختوں کا پھل مکمل طور پر مالک ہی کا شمار ہوگا۔
البتہ اس معاملے کی بہتر اور شرعا جائز صورت یہ ہے کہ سائل زمین کو اجارے پر حاصل کرے اور درختوں کے معاملے کو عقد مساقات کے تحت طے کیا جائے۔
مساقات ایسے معاہدے کا نام ہے جس میں حاصل ہونے والے پھلوں کے ایک حصے کے بدلے باغ میں کام کیا جاتا ہے،اور بدلے میں پیدا ہونے والے پھلوں میں سے ایک طے شدہ حصہ عامل کو دیتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کے جواز کی دیگر تمام شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔
(1) مالک اور عامل دونوں عاقل ہوں، (2) باغ میں ایسا پھل موجود ہو جس کی نشوونما اور تکمیل عامل کے عمل پر موقوف ہو، (3) پیدا ہونے والا پھل دونوں کے درمیان مشترک ہو، (4) دونوں کا حصہ معلوم ہو، جیسے نصف یا ثلث، (5) باغ عامل کے حوالے کیا جائے اور کام عامل ہی کے ذمہ ہو، (6) درختوں کی دیکھ بھال، پانی دینا، ان کی حفاظت کرنا اور پھل کی نشوونما کے لیے جو ضروری کام ہوں وہ سب عامل کے ذمہ ہوں،(7)درختوں سے متعلق جو ضروری اخراجات ہوں، جیسے کھاد وغیرہ، وہ دونوں فریق اپنے اپنے حصے کے مطابق برداشت کریں،(8)عامل کا حصہ پھل میں مشاع طور پر مقرر کیا جائے، کسی متعین مقدار کی صورت میں نہیں۔لہذا عقد مساقات میں مذکورہ تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اگر مذکورہ شرائط میں ایک شرط بھی موجود نہیں ہو تو عقد مساقات فاسد ہوگی۔
3)زمین کو اجارے پر لینے کی صورت میں کھجور کے درخت اس کے تابع شمار نہیں ہوں گے، اور نہ ہی ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا۔ لہٰذا اس کی بہتر صورت یہی ہے کہ زمین کو اجارے پر لیا جائے اور کھجور کے درختوں کو مساقات پر لیا جائے۔
جواز کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے باغ، مساقاۃ یعنی حصۂ معینہ( مثلاًپیداوار کے ایک تہائی حصہ یا نصف وغیرہ) پر دے دے، پھر اسی شخص کو باغ کی زمین اجارہ پر دے دے، اور جو حصہ باغ کے مالک نے باغ کے پیداوار میں اپنے لیے رکھا تھا، وہ کرایہ دار کے لیے مباح کرکے اُسے بخش دے،یا مساقی کو اجازت دے دے کہ وہ حصہ اس باغ کے اخراجات میں لگادے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مالک، درختوں کو مساقاۃ(بٹائی) پر اس شرح سے دے دےکہ ایک ہزار میں سے ایک حصہ مالک کا، اور باقی تمام حصے مُساقی(بٹائی کرنے والے) کے، اور اس کے بعد اُسی شخص کو وہ زمین اتنے کرایہ پر دے دے کہ جو زمین کے کرایہ اور پھلوں کی قیمت کے برابر ہو(یعنی مارکیٹ میں عموماً باغ کی جو قیمت ہواتنی رقم میں کرایہ پر دے دے)۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وهو فرض وسببه الأرض النامية بالخارج حقيقة ۔۔۔ وكذا لو مات من عليه العشر والطعام قائم يؤخذ منه بخلاف الزكاة، وكذا ملك الأرض ليس بشرط للوجوب؛ لوجوبه في الأراضي الموقوفة، ويجب في أرض المأذون والمكاتب ۔۔۔۔ وما سقي بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر كذا في خزانة المفتين. .ووقته وقت خروج الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. فلو عجل عشر أرضه قبل الزرع لا يجوز."
(كتاب الزكاة، ألباب السادس في زكاة الزرع والثمار، ج: 1، ص: 185، ط: دارالفكر بيروت)
وفيه أيضا:
"ولا تجوز إجارة الشجر على أن الثمر للمستأجر وكذلك لو استأجر بقرة أو شاة ليكون اللبن أو الولد له. كذا في محيط السرخسي."
(كتاب الاجارة، الفصل الثاني فيما يفسد العقد فيه لمكان الشرط، ج: 4، ص: 442، ط: دارالفكربيروت)
وفيه أيضا:
أما تفسيرها فهي عبارة عن العقد على العمل ببعض الخارج مع سائر شرائط جوازها.
وأما شرائطها (فمنها) أن يكون العاقدان عاقلين فلا يجوز عقد من لا يعقل، وأما البلوغ فليس بشرط وكذا الحرية.۔۔(ومنها) أن يكون المدفوع من الشجر الذي فيه ثمر معاملة مما تزيد ثمرته بالعمل، فإن كان المدفوع نخلا فيه طلع أو بسر قد احمر أو اخضر إلا أنه لم يتناه عظمه جازت المعاملة، وإن كان قد تناهى عظمه إلا أنه لم يرطب فالمعاملة فاسدة، ويكون الخارج كله لصاحب النخيل. (ومنها) أن يكون الخارج لهما فلو شرطا أن يكون الخارج لأحدهما فسد. (ومنها) أن تكون حصة كل واحد منهما من بعض الخارج مشاعة معلومة القدر. (ومنها) التسليم إلى العامل وهو التخلية حتى لو شرط العمل عليهما فسد فأما بيان المدة فليس بشرط لجواز المعاملة استحسانا، ويقع على أول ثمرة تخرج في أول السنة لتعامل الناس في ذلك من غير بيان المدة، ولو دفع أرضا ليزرع فيها الرطاب أو دفع أرضا فيها أصول رطبة باقية، ولم يسم المدة، فإن كان شيئا ليس لابتداء نباته ولا لانتهاء جذه وقت معلوم فالمعاملة فاسدة، فإن كان وقت جذه معلوما يجوز ويقع على الجذة الأولى كما في الشجر المثمر.
وأما حكم المعاملة الصحيحة فأنواع: (منها) أن كل ما كان من عمل المعاملة مما يحتاج إليه الشجر والكرم والرطاب وأصول الباذنجان من السقي وإصلاح النهر والحفظ وتلقيح النخيل فعلى العامل، وكل ما كان من باب النفقة على الشجر والكرم والأرض من السرقين وتقليب الأرض التي فيها الكرم والشجر والرطاب ونصب العريش ونحو ذلك على قدر حقهما، وكذلك الجذاذ والقطاف. (ومنها) أن يكون الخارج بينهما على الشرط.(ومنها) أنه إذا لم يخرج الشجر شيئا لا شيء لواحد منهما. (ومنها) أن هذا العقد لازم من الجانبين حتى لا يملك أحدهما الامتناع والفسخ من غير رضا صاحبه إلا من عذر. (ومنها) ولاية الجبر على العمل إلا من عذر (ومنها) جواز الزيادة على الشرط والحط عنه، والأصل فيه أن كل موضع احتمل إنشاء العقد احتمل الزيادة وإلا فلا، والحط جائز في الموضعين فإذا دفع نخلا بالنصف معاملة فخرج الثمر، فإن لم يتناه عظمه جازت الزيادة منهما أيهما كان، ولو تناهى عظم البسر جازت الزيادة من العامل لرب الأرض ولا تجوز الزيادة من رب الأرض للعامل شيئاومنها) أن العامل لا يملك أن يدفع إلى غيره معاملة إلا إذا قال له رب الأرض اعمل برأيك.
(کتاب المعاملة، الباب الأول في تفسيرالمعاملةوشرائطها وأحكامها، ج: 5، ص: 277، ط: دارالفکربیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) تصح إجارة (أرض للزراعة مع بيان ما يزرع فيها، أو قال على أن أزرع فيها ما أشاء) كي لا تقع المنازعة وإلا فهي فاسدة للجهالة، وتنقلب صحيحة بزرعها ويجب المسمى،(قوله للجهالة) المفضية إلى المنازعة في عقد المعارضة، فإن من الزرع ما ينفع الأرض ومنه ما يضرها. (قوله وتنقلب صحيحة بزرعها) أي استحسانا."
(کتاب الإجارۃ، باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها، ج: 6، ص: 29، ط: دارالفکربیروت)
وفيه أيضا:
"المساقاة (وهي) المعاملة بلغة أهل المدينة فهي لغة وشرعا معاقدة (دفع الشجر) والكروم،(إلى من يصلحه بجزء) معلوم من ثمره...(قوله معاقدة دفع الشجر) أي كل نبات بالفعل أو بالقوة يبقى في الأرض سنة أو أكثر بقرينة الآتي فيشمل أصول الرطبة والفوة وبصل الزعفران وذلك بأن يقول دفعت إليك هذه النخلة مثلا مساقاة بكذا ويقول المساقي قبلت، ففيه إشعار بأن ركنها الإيجاب والقبول كما أشير إليه في الكرماني وغيره قهستاني."
(کتاب المساقاۃ، ج: 6، ص: 285، ط: دار الفکربیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو استأجر أرضا فيها زرع أو كرم يمنع الزراعة فهي فاسدة فإن قلع وسلمها إلى المستأجر جاز لأنه زال المانع ۔۔۔ ولو استأجر أرضا فيها رطبة سنة فالإجارة فاسدة عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى فإن قلع رب الأرض الرطبة وقال للمستأجر اقبض الأرض بيضاء فهو جائز ۔۔۔۔ ثم الزرع إذا لم يدرك فأراد جواز الإجارة في الأرض فالحيلة في ذلك أن يدفع الزرع إليه معاملة إن كان الزرع لرب الأرض على أن يعمل المدفوع إليه في ذلك بنفسه وأجرائه وأعوانه على أن ما رزق الله تعالى من الغلة فهو بينهما على مائةٍ، سهم من ذلك للدافع وتسعة وتسعون سهما للمدفوع إليه ثم يأذن له الدافع أن يصرف السهم الذي له إلى مؤنة هذه الضيعة أو إلى شيء أراد ثم يؤاجر الأرض منه۔۔۔وكذلك الحيلة في الشجر والكرم يدفع الشجر والكرم معاملةّ كذا في المحيط."
(کتاب الإجارۃ، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز، الفصل الرابع في فساد الإجارة إذا كان المستأجر مشغولا بغيره، 4/ 446،447، ط:دار الفکر)
الدر مع الرد میں ہے:
وأفاد فساد ما يقع كثيرا من أخذ كرم الوقف أو اليتيم مساقاة،فيستأجر أرضه الخالية من الأشجار بمبلغ كثير، ويساقي على أشجارها بسهم من ألف سهم، فالحظ ظاهر في الإجارة لا في المساقاة فمفاده فساد المساقاة بالأولى؛ لأن كلا منهما عقد على حدة.
وفي الرد: (قوله وأفاد) أي المصنف حيث قال بعد عبارة الخانية: قلت يستفاد من هذا فساد ما يقع إلخ (قوله فيستأجر أرضه الخالية) أي بياضها بدون الأشجار، وإنما لا يصح استئجار الأشجار أيضا لما مر أنها تمليك منفعة، فلو وقعت على استهلاك العين قصدا فهي باطلة.
قال الرملي: وسيأتي في إجارة الظئر أن عقد الإجارة على استهلاك الأعيان مقصود كمن استأجر بقرة ليشرب لبنها لا يصح، وكذا لو استأجر بستانا ليأكل ثمره.
قال: وبه علم حكم إجارات الأراضي والقرى التي في يد المزارعين لا كل خراج المقاسمة منها، ولا شك في بطلانها والحال هذه، وقد أفتيت بذلك مرارا اهـ(قوله بمبلغ كثير) أي بمقدار ما يساوي أجرة الأرض وثمن الثمار (قوله ويساقي على أشجارها) يعني قبل عقد الإجارة وإلا كانت إجارة الأرض مشغولة فلا تصح كما سيأتي.وفي مسائل الشيوع من البزازية: استأجر أرضا فيها أشجار أو أخذها زراعة وفيها أشجار، إن كان في وسطها لا يجوز إلا إذا كان في الوسط شجرتان صغيرتان مضى عليهما حول أو حولان لا كبيرتان؛ لأن ورقهما وظلهما يأخذ الأرض والصغار لا عروق لها، وإن كان في جانب من الأرض كالمسناة والجداول يجوز لعدم الإخلاء اهـ.
(کتاب الإجارۃ، 6/6۔8، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102442
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن