
ہمارے علاقے میں سونا نکالنے کا کام ہوتا ہے، اور ہماری اپنی زمینیں ہیں، اس سے متعلق کچھ فقہی مسائل کی رہنمائی مطلوب ہے:
1- زمین سے اگر ایک لاکھ کا سونا نکلا ہے اور اس کو نکالنے کا خرچہ ایک لاکھ بیس ہزار آیا ہےتو کیا اب بھی خمس یا زکات واجب ہے ؟
2- جتنا سونا نکلا ہے اتنا ہی اس کی نکالنے پر خرچ ہوا ہے یعنی برابر سرابر تو خمس یا زکات واجب ہے؟
3- کیا زمین میں جب کام شروع کرتے ہیں تو اس پر خمس ادا کرنا صرف پہلی بار میں فرض ہے یا ہر بار ادا کرنا لازم ہے؛ کیونکہ ایک زمین پر اگر کام شروع کرتے ہیں تو تقریبا ہر ہفتے یا ہر دس دن بعد وہ سونا فروخت کردیتے ہیں۔
4- ایک لاکھ کا سونا نکلا ہے، اور 80 ہزار اس کو نکالنے پر خرچ ہوا ہے، 20 ہزار کی بچت ہوئی ہے، تو اب کیا زکوۃ اس پوری کو ملا کے ایک لاکھ زکات یا خمس ادا کرنا ہے یا صرف 20 ہزار بچت پر ادا کرنا ہے ؟
ذاتی زمین سے حاصل ہونے والے سونے پر خمس یعنی بیس فیصد واجب ہے، اور خمس کی ادائیگی میں خرچہ منہا کیے بغیرمکمل حاصل شدہ سونے کا اعتبار ہوگا، البتہ اگر خرچہ مکمل حاصل شدہ سونے کا احاطہ کرلے تو اس صورت میں خمس لازم نہیں ہوگا۔
1- اس صورت میں خمس واجب نہیں۔
2- اس صورت میں بھی خمس واجب نہیں۔
3- صورتِ مسئولہ میں زمین سے ہر مرتبہ سونا نکالنے کے بعد، اس کاایک مرتبہ خمس ادا کرنا لازم ہے۔
4- کل حاصل شدہ سونے پر خمس لازم ہے۔
البتہ مذکورہ سونے پر زکاۃ کی ادائیگی کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کی ملکیت میں یہ سونا ہے اگر تنہا یہ سونا نصاب کے برابر ہو یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر ہوجائے اور سال گزرجائے تو زکاۃ کا ادا کرنا لازم ہوگا۔ اسی طرح اگر یہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہے تو زکاۃ کی ادائیگی کے دن جس قدر سونا موجود ہوگا اس کی موجودہ مالیت لگاکر ڈھائی فیصد زکاۃ میں ادا کرنالازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
" المعدن (لا شيء فيه إن وجده في داره) وحانوته (وأرضه) في رواية الأصل واختارها في الكنز.
(قوله: واختارها في الكنز) أي حيث اقتصر عليها كالمصنف وأراد بذلك بيان أنها الأرجح لكن في الهداية قال عن أبي حنيفة روايتان ثم ذكر وجه الفرق بين الأرض والدار على رواية الجامع الصغير ولم يذكر وجه رواية الأصل وربما يشعر هذا باختيار رواية الجامع وفي حاشية العلامة نوح أن القياس يقتضي ترجيحها لأمرين، الأول: أن رواية الجامع الصغير تقدم على غيرها عند المعارضة، الثاني: أنها موافقة لقول الصاحبين والأخذ بالمتفق عليه في الرواية أولى، والحاصل: أن الإمام فرق في وجوب الخمس بين المعدن والكنز وبين المفازة والدار وبين الأرض المباحة والمملوكة وهما لم يفرقا بين ذلك في الوجوب."
(كتاب الزكاة، باب زكاة الركاز، ج:2، ص:321، ط:سعيد)
کتاب الخراج للامام ابی یوسفؒ میں ہے:
"إنما الخمس في الذهب الخالص وفي الفضة الخالصة والحديد والنحاس والرصاص، ولا يحسب لمن استخرج ذلك من نفقته عليه شيء، وقد تكون النفقة تستغرق ذلك كله؛ فلا يجب إذن فيه خمس عليه، وفيه الخمس حين يفرغ من تصفيته قليلا كان أو كثيرا ولا يحسب له من نفقته شيء."
(باب في قسمة الغنائم اذا اصيبت من العدو، مدخل، ص:32، ط:المكتبة الأزهرية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100363
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن