بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین سے چھ انچ اونچے سترے کے سامنے سے گزرنے کا حکم


سوال

مساجد میں عام طور پر جو سترہ ہوتا ہے اس کے نیچے پہیے لگے ہوتے ہیں تاکہ ان کی جگہ تبدیل کرنے میں آسانی ہو، ان پہیوں کی وجہ سے سترہ کی اونچائی بعض اوقات 6 انچ سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے، کیا ایسے سترے کے سامنے سے گزرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سترہ زمین سے اس قدر اونچا ہو کہ سترہ کے درمیانی حصے اور زمین کے درمیان چھ انچ کا فاصلہ پیدا ہو جائے، اور سترے کے درمیانی حصے میں پہیے بھی قریب قریب نہ ہوں، تو ایسے سترے کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں،    البتہ اگر سترہ زمین سے متصل ہو یا اتنا قریب ہو کہ عرفاً حائل شمار ہو اور یا اس کے پہیے زیادہ ہوں جو نمازی کے برابر میں آسکتے ہوں  تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويغرز) ندبا بدائع (الإمام) وكذا المنفرد (في الصحراء) ونحوها (سترة بقدر ذراع) طولا (وغلظ أصبع) لتبدو للناظر ...

(قوله وغلظ أصبع) كذا في الهداية، لكن جعل في البدائع بيان الغلظ قولا ضعيفا، وأنه لا اعتبار بالعرض، وظاهره أنه المذهب بحر، ويؤيده ما رواه الحاكم وقال على شرط مسلم أنه صلى الله عليه وسلم قال "يجزي من السترة قدر مؤخرة الرحل ولو بدقة شعرة."

(كتاب الصلاة،باب مایفسد الصلاة ومایکرہ فیها، 1/ 637، ط: سعید)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاحمیں ہے:

"يستحب له" أي مريد الصلاة "أن يغرز سترة" لما روينا ولقوله صلى الله عليه وسلم "ليستتر أحدكم ولو بسهم" "وأن تكون طول ذراع فصاعدا" لأنه سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سترة المصلى فقال: مثل مؤخرة الرحل بضم الميم وهمزة ساكنة وكسر الخاء المعجمة العود الذي في آخر الرحل يحاذي رأس الراكب على البعير وتشديد الخاء."

(كتاب الصلاة، فصل في اتخاذ السترة ودفع المار بين يدي المصلى إذا ظن، ص: 365، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں