
نوے کی دہائی میں( 1990- 2000ءتک) ہماری پھوپھی جان نے ہم دو بھائیوں کو کہا کہ آپ اگر ہمیں حج کرا دیں تو اس کے بدلے میں آپ کو اپنے حصے کی زمین دیتی ہوں، ہم نے حامی بھر لی اور انہیں حج کرایا اور ان کے حصے کی جو زمین ان کے بھائیوں نے انہیں دی وہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمارے حوالے کر دی، لیکن قانونی طور پر کاغذات میں تقسیم نہیں ہوئی،اور 25 سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہم اس زمین پر قابض ہیں اُسے کاشت کر رہے ہیں ۔
جو زمین ہمیں دی گئی اب اس کے قریب نہر آگئی ہے اور اس کی ویلیو بڑھ گئی ہے اس وجہ سےاب ہماری پھوپھی کے بھائی یعنی ہمارے وه چچا جوحیات ہیں کہتے ہیں کہ دوبارہ نئے سرے سے تقسیم ہوگی ۔
کیا شرعاًہم سابقہ تقسیم اور قبضے کو ختم کر کے نئی تقسیم کرنے کے پابند ہیں یا نہیں ؟
حالانکہ ہم نہیں چاہتے کہ زمین کا جو حصہ ہمیں دیا گیاہے اس کو ختم کر کے ہمیں کہیں اور حصہ دیا جائے، شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کی جائے۔
صورت مسئولہ میں اگر حقیقت یہی جو سائل نے بیان کی ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ سائل کی پھوپھی کو جو زمین بھائیوں نے دی تھی اس میں سائل کی پھوپھی کی ملکیت ثابت ہوگئی تھی ، اور بعد میں حج کرانے کے بدلے میں سائل کی پھوپھی نے وہ اپنی ملکیت والی زمین حج کرانے والوں یعنی سائل اور اس کے بھائی کو حج کرانے کے بدلے میں دے دی، جس میں سائل اور اس کے بھائی کی ملکیت ثابت ہوگئی ۔
اور اب اس زمین کے قریب نہر آنے کی وجہ سے زمین کی ویلیو بڑھ گئی ہے تو چچا کا دوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرنا درست نہیں اور سائل اور اس کا بھائی دوبارہ تقسیم کرنے کے پابند نہیں ہیں ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
" ( هي ) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: ( تمليك العين مجانا ) ... ( وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم ) ... ( و ) حكمها ( أنها لا تبطل بالشروط الفاسدة ) ... ( و ) شرائط صحتها ( في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول ) ... ( وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو ) ذلك ( على وجه المزاح ) ... بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة وكذا هي لك حلال إلا أن يكون قبله كلام يفيد الهبة خلاصة... ( وتتم ) الهبة ( بالقبض ) الكامل ( ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به ) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا.
( وتتم ) الهبة ( بالقبض ) الكامل ( ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به ) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا."
( كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687- 691، ط: سعيد )
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
" وأما بيان حكم القسمة فنقول - وبالله التوفيق: حكم القسمة ثبوت اختصاص بالمقسوم عينا تصرفا فيه فيملك المقسوم له في المقسوم جميع التصرفات المختصة بالملك، حتى لو وقع في نصيب أحد الشريكين ساحة لا بناء فيها، ووقع البناء في نصيب الآخر فلصاحب الساحة أن يبني في ساحته، وله أن يرفع بناءه، وليس لصاحب البناء أن يمنعه، وإن كان يفسد عليه الريح والشمس؛ لأنه يتصرف في ملك نفسه فلا يمنع عنه."
( كتاب القسمة، فصل في بيان حكم القسمة، ج: 7، ص: 28، ط: دارالكتب العلمية )
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101843
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن