بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 صفر 1448ھ 16 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کی بیع میں بائع کے لیے درخت زمین پرچھوڑنے کی شرط لگانے کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں یہ معاملہ ہوا کہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے ایک شخص نے اپنی زمین فروخت کردی، اور اس کی قیمت بھی وصول کرلی، لیکن ابھی جب کاغذات کے ٹرانسفر کا مسئلہ آیا، تو بیچنے والے سے دستخط کرنے کا کہا گیا، تو اس نے کہا کہ یہ زمین تو میں نے فروخت کی ہے، لیکن اس زمین پر موجود درخت میں نے نہیں بیچے ہیں، تو خریدار نے صلحاً کہا کہ ٹھیک ہے میں آپ کو اِن درختوں کی قیمت ادا کردیتا ہوں، آپ درخت بھی مجھے دے دو، تو اس زمین بیچنے والے نے کہا کہ میں درخت نہیں بیچتا۔ 

ہمارے علاقہ میں یہ عرف ہے کہ خرید و فروخت کے وقت زمین کے ساتھ درخت، کھیتی وغیرہ سب کچھ دے دیا جاتا ہے، اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو اس کا تذکرہ عقد کے وقت کردیا جاتا ہے، لیکن مذکورہ معاملہ میں اس طرح کی کوئی شرط ذکر نہیں کی گئی تھی۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا زمین بیچنے والے کا یہ کہناکہ میں نے عقد کے وقت درخت نہیں بیچے تھے، شریعت کی رو سے جائز ہے؟ اور کیا ایسا عقد کرنا جائز ہےکہ زمین تو بیچی جائےاور درخت اس پر بیچنے والے کے لیے چھوڑ دیے جائیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کا  معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جس شرط کا وہ معاملہ نہ تقاضہ کرتا ہو، اور نہ ہی وہ شرط اس معاملہ کے مناسبات میں سے ہو،  اور اس شرط کی وجہ سے بیچنے والے یا خریدنے والے کا کوئی فائدہ ہو، یا مبیع کا فائدہ ہو،  تو ایسی شرط لگانے سے وہ معاملہ فاسد اور ناجائز ہوجاتا ہے، اور سود کے زمرے میں داخل ہوجاتا ہے، اور اس معاملہ کے بدلے میں ملنے والے منافع  حلال نہیں ہوتے، جیسا کہ  زمین کی خرید و فروخت میں زمین بیچنے والے کا درختوں کو  زمین پر باقی رکھنے کی شرط لگانا  شرط فاسد ہے، اور اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً ناجائز ہے؛ کیوں کہ اس میں بائع کا فائدہ ہے۔ 

صورت مسئولہ میں چوں کہ  مذکورہ معاملہ کرتے وقت بائع کی طرف سے زمین پر درختوں کے برقرار رکھنے کی شرط نہیں لگائی گئی تھی، اور سائل کے علاقہ والوں کا  عرف بھی یہ ہے کہ زمین بیچتے وقت زمین کے ساتھ درخت، کھیتی وغیرہ سب چیزیں خریدار ی کے معاملہ میں داخل سمجھی جاتی ہیں، تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص( بائع) کامذکورہ معاملہ ہوجانے کے ڈیڑھ سال بعد  یہ کہنا کہ: "میں نے زمین بیچتے وقت درخت نہیں بیچے تھے" شرعاً جائز نہیں ہے، اور اس کا مذکورہ دعوی شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔ 

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"ثم إن محمدا - رحمه الله تعالى - ذكر أن الشجر يدخل في بيع الأرضين من غير ذكر ولم يفصل بين المثمرة وغير المثمرة ولا بين الصغيرة والكبيرة والأصح أن الكل يدخل من غير ذكر كذا في الفتاوى الصغرى سواء كانت للحطب أو غيره وهو الصحيح كذا في الخلاصة." 

(کتاب البیوع، الباب الخامس، ج: 3، ص: 36، ط: دار الکتب العلمیة)

وفیہ أیضاً: 

"وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا وإن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عند الإجازة كذا في محيط السرخسي."

(کتاب البیوع، الباب الأول، ج: 3، ص: 4، ط: دار الکتب العلمیة)

المحیط البرھانی میں ہے: 

"ثم إن محمداً رحمه الله ذكر أن الشجرة تدخل في بيع الأرض من غير ذكر، ولم يفصل بين المثمرة وغير المثمرة، ولا بين الصغيرة والكبيرة، فمن مشايخنا من فصل بين المثمرة وغير المثمرة، فقال: المثمرة تدخل من غير ذكر وغير المثمرة لا تدخل، وذهب في ذلك إلى أن غير المثمرة بمعنى الزرع لنهايتها مدة معلومة كما للزرع، فأما المثمرة فليس لنهايتها مدة معلومة، فكان مؤبداً، فكان كالأرض، ومنهم من قال: الشجرة الكبيرة إذا كانت مثمرة تدخل من غير ذكر، وإذا كانت غير مثمرة لا تدخل، والصغيرة لا تدخل إلا بالذكر مثمرة كانت أو غير مثمرة.....ومنهم من قال: الكل يدخل من غير ذكر وهذا أصح؛ لأن غير المثمرة ليس لنهايتها مدة معلومة بل تتفاوت بتفاوت الأراضي تفاوتاً فاحشاً صغيرة كانت أو كبيرة."

(كتاب البیع، الفصل الخامس، ج: 9، ص: 283، ط: إدارۃ القرآن)

فتاوی شامی میں ہے: 

"(ويدخل الشجر في بيع الأرض بلا ذكر) قيد للمسألتين فبالذكر أولى. (مثمرة كانت أو لا) صغيرة أو كبيرة....(قوله: مثمرة كانت أو لا إلخ) لأن محمدا لم يفصل بينهما، ولا بين الصغيرة والكبيرة فكان الحق دخول الكل خلافا لمن قال: إن غير المثمرة لا تدخل إلا بالذكر؛ لأنها لا تغرس للقرار، بل للقطع إذا كبر خشبها، فصار كالزرع ولمن قال: إن الصغيرة لا تدخل فتح، وفي التتارخانية عن المحيط إن هذا أصح أي عدم التفصيل."

(كتاب البیوع، فصل فیما یدخل في البیع تبعاً وما لایدخل، ج: 4، ص: 550، ط: ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"(ومنها) شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارا على أن يسكنها البائع شهرا ثم يسلمها إليه.....فالبيع في هذا كله فاسد؛ لأن زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا لأنها زيادة لا يقابلها عوض في عقد البيع وهو تفسير الربا."

(كتاب البیوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج: 5، ص: 169، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144801102428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں