
ہمارے گاؤں کے اکثر لوگ اپنی زمینوں کا تبادلہ کرتے ہیں، یعنی دو آدمی ہیں، دونوں کی دو مرلہ زمین ہیں، لیکن ایک کی زمین دوسرے کے گھر کے قریب ہے اور دوسرے کی زمین پہلے کے گھر کے قریب ہے، اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ میری زمین پر کاشت کرو اور میں آپ کی زمین پر معینہ مدت تک کاشت کروں گا، پھر یہ دونوں اپنی اپنی زمینیں واپس لے لیتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ ذکر کردہ طریقے کے مطابق معاملہ کرنا شرعاً درست ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. ومنها بيان محل المنفعة حتى لو قال: آجرتك إحدى هاتين الدارين أو أحد هذين العبدين، أو: استأجرت أحد هذين الصانعين لم يصح العقد. ومنها بيان المدة في الدور والمنازل والحوانيت."
(كتاب الاجارة، ج:4، ص:411، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100621
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن