بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین جنازہ گاہ کے لیے وقف کرنے کے بعد کسی اور مصرف میں اسے استعمال کرنا


سوال

 ہمارے گاؤں میں جنازہ گاہ کے لیے آج سے 50 سال پہلے ایک زمین وقف کی گئی تھی، جو کہ واقف کے نام پر ہی تھی ،پھر تقریبا 15 سال پہلے جنازہ گاہ کی یہ زمین کم ہونے کی وجہ سے جنازہ گاہ کے لیے  نئی جگہ پر زمین خرید کر  اسے منتقل کیا گیا، اب جنازہ گاہ کی یہ پرانی جگہ کافی عرصے سے خالی پڑی ہوئی ہے،اور ساتھ میں قبرستان بھی ہے،ایک ویلفیئر سوسائٹی اپنی ایمبولنس سروس کے لیے پرانی جنازہ گاہ کی زمین کو استعمال میں لانا چاہتی ہے،اوروہاں پر  دفتری استعمال، اور قبرستان کا سامان رکھنے کے لیے ابھی ایک کمرہ تعمیر کیا گیا ہے۔

کیا پرانی جنازہ گاہ ایمبولینس کے دفتر کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے؟ نیز موقوفہ جگہ واقف کےنام پر ہی ہے، اور انہیں اس دفتر کےبنانے میں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ وقف جب درست اور صحیح ہوجائے،  تو موقوفہ چیز قیامت تک کے لیے  واقف کی ملکیت سے  نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے  بعد اس  موقوفہ زمين  کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا  یا اس کو وراثت میں تقسیم کرنا،  یا اس  نوعیت وقف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں ہوتا، بلکہ   واقف نے وہ  جگہ  جس   جہت اور مقصد کے لیے   وقف کی ہو،  اس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں پرانی جنازہ گاہ کی جگہ کو جنازہ گاہ کے لیے ہی استعمال کرنا ضروری ہے ،اس کو سوسائٹی کے ایمبولینس  کے لیے بطور دفتر استعمال کرنا یا اس میں قبرستان کا سامان رکھنا جائز نہیں ہوگا ، اگر چہ واقف کو اس کے بنانے میں کوئی اعتراض نہ ہو ۔

 فتح القدیر میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولايورث."

 ( کتاب الوقف، ج:6، ص:203، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة: إن الفتوى على قولهما."

(کتاب الوقف، ج:2، ص:350، ط: دار الفکر بیروت)

وفیه ایضا:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لا يجوز، كذا في الغياثية."

(کتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفه، ج:2، ص:362، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

 (کتاب الوقف، ج:4، ص:433، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144605101275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں