
ایک شخص کی غیر آباد زمین تھی، اس نے کئی سال قبل وہ زمین ایک دوسرے شخص کے سپرد اس شرط پر کی کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے، اسے آباد کرے اور اس میں درخت وغیرہ لگائے، دونوں کے درمیان یہ طے ہوا کہ زمین اور اس میں لگائے گئے درخت وغیرہ آدھا آدھا ہوں گے، (واضح رہے کہ اس علاقے میں مذکور طریقے پر غیر آباد زمین آباد کرنے کے لیے دینا رائج ہے) دوسرے شخص نے زمین پر کام کیا اور اس میں درخت لگائے، بعد ازاں دونوں اشخاص کا انتقال ہوگیا، اب زمین کے اصل مالک کے ورثاء اس معاہدے کے مطابق آدھی زمین دینے سے انکار کر رہے ہیں، جب کہ دوسرے شخص کے ورثاء اس معاہدے کی بنیاد پر آدھی زمین کا مطالبہ کر رہے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس معاملے کا کیا حکم ہے؟ کیا دوسرے شخص یا اس کے ورثاء مذکورہ معاہدے کی بنا پر آدھی زمین کے مستحق ہیں؟ اگر نہیں تو درختوں، ان کی قیمت یا دوسرے شخص کی محنت کے حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟
صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ شرعاً فاسد تھا ،اس لیے زمین کے اصل مالک کے ورثاء پر آدھی زمین دینا لازم نہیں ہے ، البتہ آباد کرنے والے نے چوں کہ غیر آباد زمین پر محنت کی ہے تو اس کے بدلہ اس کے ورثاء کو صرف اجرتِ مثل ملے گی،بقیہ زمین اور درخت اصل مالک کے ورثاء کے ہوں گے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(دفع أرضا بيضاء مدة معلومة ليغرس وتكون الأرض والشجر بينهما)(لا تصح) لاشتراط الشركة فيما هو موجود قبل الشركة فكان كقفيز الطحان فتفسد.
(قوله : بيضاء) أي لا نبات فيها (قوله مدة معلومة) وبدونها بالأولى (قوله وتكون الأرض والشجر بينهما) قيد به إذ لو شرط أن يكون هذا الشجر بينهما فقط صح. مطلب يشترط في المناصبة بيان المدة قال في الخانية: دفع إليه أرضا مدة معلومة على أن يغرس فيها غراسا على أن ما تحصل من الأغراس والثمار يكون بينهما جاز اهـ ومثله في كثير من الكتب، وتصريحهم بضرب المدة صريح في فسادها بعدمه."
(كتاب المساقاة، ج:6، ص: 289، ط: سعید )
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وإذا دفع الرجل إلى غيره أرضا بيضا سنين مسماة على أن يغرسها نخلا أو شجرا أو كرما على أن ما أخرج الله تعالى من شجر أو نخل أو كرم فهو بينهما نصفان، وعلى أن الأرض بينهما نصفان فهذا فاسد، وإذا فسدت هذه المعاملة وقبض العامل الأرض على هذا وغرسها نخلا أو شجرا أو كرما فأخرجت ثمرا كثيرا فجميع النخل والشجر والكرم لرب الأرض، وعلى رب الأرض قيمة الأغراس للغارس وأجر مثل عمله."
(كتاب المعاملة، الباب الثاني في المتفرقات، ج:5، ص:279، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101592
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن