بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین الگ اور محنت الگ ہونے کی صورت میں شرکتِ زراعت کا حکم


سوال

زید اور بکر دونوں آپس میں مشترکہ طور پر پیاز کی فصل لگانا چاہتےہیں ، جبکہ دونوں کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اور نفع کی صورت میں مشترکہ نفع ملے گا ہر ایک فریق کو مقررہ حصے کے مطابق اور نقصان کی صورت میں دونوں فریق اپنے مقررہ حصہ کے مطابق نقصان اٹھائیں گے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:زید اپنی زمین میں پیاز کی پنیری تیار کرے گا جبکہ بکر پیاز کی پنیری کو اپنی زمین میں ٹرانسپلانٹ کرے گاپیاز کی پنیری اور فصل تیار کرنے پر جتنا خرچہ آئے گا زید کا اور بکر کا وہ سارا ملا کر آخر میں کل آ  مدنی سے منہا کرے گا جتنی آمدنی بچے گی وہ فیصد کے لحاظ سے آپس میں تقسیم کریں گےاور اسی طرح نقصان بھی آپس میں تقسیم کریں گے نقصان کی صورت میں کیا اسی طرح کا معاہدہ جائز ہے؟

اگر جائز نہیں تو جائز صورت حال بیان فرمائیے؟

جواب

صورت مسئولہ میں  بیان کردہ معاہدہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں دونوں کی سرمایہ کاری کی مقدار واضح اور متعین نہیں ہے نہ تو پنیری کی تیاری کے اخراجات متعین ہیں  اور نہ ہی اسے دوسری زمین میں ٹرانسپلانٹ کرنے اور اگانے کے اخراجات متعین ہیں ، نفع و نقصان دونوں کو ایک ہی ”مقررہ حصے (فیصد)“ کے مطابق طے کر دیا گیا ہے، جبکہ شرکتِ عقود (مشاركہ) میں نفع باہمی رضامندی سے کسی بھی تناسب پر ہو سکتا ہے، مگر نقصان لازماً سرمائے (راس المال) کے تناسب سے ہونا لازم ہے۔

جائز صورت یہ ہے کہ:

دونوں فریق تمام اخراجات کومشترکہ قرار دیکر اپنے سرمائے (زمین کا کرایہ، قدر  اور  محنت کی قدر  اور  مشترکہ اخراجات) کا واضح تناسب طے کریں۔ (مثلا 50=50 فیصد یا 40=60  فیصد) پھر نفع باہمی رضامندی سے مقررہ فیصد کے مطابق تقسیم ہو، اور نقصان  ہر ایک اپنے اپنےسرمائے کے  تناسب سےبرداشت کرے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال."

(کتاب الشرکۃ،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ج2،ص62،ط: دار الکتب العلمیۃ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال."

(کتاب الشرکۃ،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ج2،ص62،ط: دار الکتب العلمیۃ)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".

(كتاب الشركة،استحقاق الربح في طريق الشركةج11،ص157،دار المعرفة - بيروت) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100060

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں