بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ظالم شوہر اگر طلاق / خلع نہ دے تو کیا کیا جائے؟


سوال

2019 میں میری بیٹی کی شادی میرے چچا زاد بھائی سے ہوئی تھی، شادی کے بعد سے میری بیٹی پر بڑا ظلم اور زیادتی کرتا تھا، ہمارا گھر چونکہ ساتھ ہی تھا، تو ایک دن میں ان کےگھر  گیا، تو میری بیٹی کے منہ پر نشانات تھے اور چہرہ سبز تھا، پوچھنے پر بتایا کہ شوہر نے مارا ہے، وہ رات کو طاقت کی گولی استعمال کرتا ہے، اور پوری پوری رات انگریزی فلموں کی طرح ہمبستری کرتا ہے، جب میں برداشت نہیں کر سکتی تو مجھے جانوروں کی طرح مارتا ہے، لاتیں، گھونسے، اور اٹھا اٹھا کر پھینکتا ہے، کئی مرتبہ میری بیٹی میکے آئی، لیکن صلح ہو جاتی ہے، پھر چلی جاتی ہے، لیکن صلح کے باوجود بھی اس کا رویہ نہیں بدلتا، بلآخر میری بیٹی نے تنگ  آکر زہر پی لیا، ہم ہسپتال لے گئے ، الحمدللہ وہ بچ گئی۔

اس کے شوہر نے دوسری شادی بھی کر لی ہے ،وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ بھی زیادتی کرتا ہے مارتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ میری بیٹی  اب اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، وہ طلاق بھی نہیں دیتا، خلع دینے پر بھی راضی نہیں، نان و نفقہ بھی نہیں پہنچاتا،  جب کہ پانچ سال سے ہماے گھر ہے،میری بیٹی اس سے آزاد ہونا چاہتی ہے، تو کیا کیا جائے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر   سائل   کا داماد   واقعی متعنت ہے، یعنی بیوی  پر ظلم کرتا ہے، مارتا ہے، کئی دفعہ صلح کے بعد بھی سدھار نہیں آیا، اورنہ طلاق یا خلع دینے پر راضی ہے اور نان ونفقہ بھی نہیں دیتا   تو عورت کو چاہیے کہ  عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرے،  عدالت سے  نان نفقہ  نہ دینے  اور سخت مارپیٹ کرنے کی بنیاد پر فسخِ  نکاح کا مقدمہ  دائر کرے،جس کاطریقہ یہ ہے کہ  عورت  پہلے عدالت میں شرعی گواہوں  کے ذریعے اپنے نکاح کو ثابت کرے ،اس کے بعد شرعی گواہوں کے ذریعے شوہر کے نان نفقہ  نہ دینے کو  اور سخت مارپیٹ کو ثابت کرے،اگر عورت عدالت میں گواہوں کے  ذریعے اپنے دعوی کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے تو عدالت پہلے شوہر کو بلائے اور اسے حقوق کی ادائیگی کا حکم دے، اگر شوہر انکار کرے یا ادا نہ کرے یا عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو پھر عدالت اس نکاح کو فسخ کردے، جس کے بعد تین ماہواری عدت گزار کر عورت   کادوسری جگہ نکاح کرنا  جائز  ہوگا ۔ واضح  رہے کہ  عدالت کے بلانے کے باوجود شوہر اگر حاضر نہ ہو تو عدالت کو  شوہر کی غیر موجودگی میں بھی فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوگا۔

بہر حال نان نفقہ نہ دینے  یا سخت مارپیٹ کی بنیاد پر عدالت کے نکاح فسخ کردینے سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، لہذا اگر نباہ کی صورت ممکن نظر نہیں آتی تو عورت نان نفقہ کی عدمِ ادائیگی  اور سخت مارپیٹ کو بنیاد بنا کر عدالت سے فسخ نکاح  کرواسکتی ہے۔

بدائع الصنائع  میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ."

 (کتاب الطلاق، فصل واماالذی یرجع الی المرأۃ، ج: 3، ص: 145،ط: دار الکتب العلمیة)

المحیط البرہانی میں ہے:

"و المعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقيًا تقديرًا، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديرًا، وبدونه لايمكن إيجاب النفقة."

( كتاب النفقات، ج: 4، ص: 170، ط: دار الكتب العلمية)

حیلہ ناجزۃ میں ہے :

"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف."

(حیلہ ناجزہ، فصل في حکم زوجۃ المتعنت،ص: 74، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں