بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زخم پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا حکم


سوال

اگر امام زخم پر مسح کرے تو کیا اس کے پیچھے اقتداء ہو سکتی ہے؟ اس کی نماز تو کمزور نہ ہوئی؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں زخم  پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے عام مقتدیوں (یعنی اعضا دھونے والے) کی اقتدا درست ہے، نماز ادا ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(وصح اقتداء متوضئ) لا ماء معه (بمتيمم) ولو مع متوضئ بسؤر حمار مجتبى (وغاسل بماسح) ولو على جبيرة.

(قوله: ولو على جبيرة) الأولى قوله في الخزائن: على خف أو جبيرة، إذ لا وجه للمبالغة هنا أيضاً، لأن المسح على الجبيرة أولى بالجواز، لأنه كالغسل لما تحته. على أنه استبعد في النهر شمول ماسح له فجعله مفهوماً بالأولى: أي فيدخل دلالة لا منطوقاً، تأمل".

(باب الإمامة،ج:1، ص:588، ط:سعید)

  فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں