
میں قطر میں مؤذن ہوں، رمضان المبارک میں قطری لوگ اگر مجھے رقم دیں، لیکن وضاحت نہ کریں کہ یہ رقم ہدیہ ہے یا زکات ہے یا کسی اور چیز کی ہے، تو کیا میرے لیے یہ پیسے استعمال کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ زکات کے مستحق ہیں یعنی آپ کے پاس آپ کی بنیادی ضرورت و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان، گھریلو برتن، کپڑے وغیرہ)سے زائد، نصاب کے بقدر (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا سامان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی آپ سید یا عباسی ہیں تو اس صورت میں آپ کے لیے اس رقم کو کسی وضاحت کے بغیر بھی وصول کرنا اور استعمال کرنا جائز ہے، البتہ اگر آپ زکات کے مستحق نہیں ہیں تو اس صورت میں جب آپ کو یہ اندازہ ہو کہ یہ شخص زکات کی رقم دے رہا ہے تو آپ رقم لینے سے پہلے معلوم کر لیں کہ زکات کی مد میں سے ہے یا زکات کے علاوہ عطیہ یا صدقہ ہے، اگر زکات نہ ہو تو استعمال کرنا جائز ہوگا، اور زکات ہونے کی صورت میں لینا جائز نہیں ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي."
(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:١، ص:١٨٩، ط:رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144609100135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن