بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ واجب ہونے کے نصاب سے کم سونے کے ساتھ کتنی نقدی ہونا ضروری ہے؟


سوال

نصاب سے کم مقدار میں سونے کے ساتھ کتنی نقدی وجوب زکوۃ کا موجب بنتی ہے?

جواب

اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو   اور سال کے شروع اور آخر میں سونے کے ساتھ  چاندی، نقد رقم یا مالِ تجارت بھی ہو  اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو تو ایسے شخص پر زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

 نقد رقم کی کوئی متعین مقدار نہیں ہے، بلکہ سونے یا چاندی کے ساتھ معمولی نقد رقم بھی ہو تو پھر چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا، البتہ یہ رقم بنیادی ضرورت سے زائد ہو تو نصاب میں شامل ہوگی۔ 

 اگر سونے ساتھ موجود رقم  زکاۃ  کے سال مکمل ہونے کے دن تک  ضرورت میں خرچ ہوگئی ہو یا اس قدر رقم کی ادائیگی گھریلو ماہانہ اخراجات یا ذاتی اخراجات کی مد میں ذمہ میں لازم ہوچکی ہو (مثلاً گھریلو راشن، بجلی کا بل، بچوں کی فیس وغیرہ ) تو  اس صورت میں وہ  رقم نصاب میں شامل نہیں ہوگی، لیکن اس سے زائد رقم خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، اگر موجود ہو تو  سونے کے ساتھ ملاکر اس کی قیمت لگائی جائے گی، اگر اس کی مجموعی مالیت  چاندی کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر  ہو تو ، ایسا شخص صاحبِ نصاب شمار ہوگا، اور اس پر زکاۃ لازم ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"والتقييد بالحوائج الأصلية احترازاً عن أثمانها، فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لاتجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض: أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.

قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضاً، ونحوه قوله في السراج: سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية: نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقاً لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح: إنه الحق، فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضاً في المستقبل؛ لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين  كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليها أيضاً لبراءة ذمته وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال، ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد، فليتأمل، والله أعلم". فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144109201363

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں