بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زكوٰۃ شئے كى بازاری قیمت پرہوگى نہ كہ قیمت خرید پر


سوال

سنار اگر سونا خرید لے تو زکوۃ خریدنے والے قیمت پر ادا کریگا یا فروخت کرنے والے دام پر؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں زكوٰۃ  ادائیگی  ميں قيمت فروخت كا اعتبار ہوتاہے، قیمتِ خرید کا نہیں ہوتا،لہٰذا قمری مہینے کے اعتبار سے  سال گزرنے كے بعدجب يہ زکوٰۃ اداكريگا ،تواس وقت اس سونا/زیورات كى جوبازارى قيمتِ فروخت ہوگى، اسی كے حساب سے زکوٰۃ اداكريگا۔

فتاوىٰ شامی میں ہے:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء،وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما."

( كتاب الزكوٰة: باب زكوة الغنم، ج:2، ص: 286، ط:سعيد)

فتاوى تاتارخانیہ ميں ہے:

"فإن لم يؤد حتى تغير سعرالحنطة  إلى زيادة وصارت تساوى أربع مائة إن أدى من القيمة عندھما يؤدى عشرة دراھم قيمتھا يوم الأداء."

( كتاب الزكوة: الفصل الثالث في بيان زكوة عروض التجارة،ج: 1، ص: 557، ط: مكتبه فاروقيه كو ئٹه.)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100276

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں