
ایک بچی ہے جس کی اگلے ماہ شادی ہے۔ اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ کماتی ہے۔ کیا اس بچی کےجہیز کا سامان اور شادی کا کھانا زکوٰۃ کی رقم سے کر سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگریہ لڑکی مستحقِ زکات ہے، یعنی اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر رقم نہیں ہے ، اور نہ ہی اس قدر بنیادی ضرورت و استعمال سے زائد سامان ہے کہ جس کی مالیت نصاب چاندی کے برابر بنتی ہے اور نہ ہی وہ سید ، ہاشمی ہے تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے جہیز کا سامان تو زکوۃ کی نیت سے بچی کو مالک بنا کر دیا جاسکتا ہے۔ شادی کا کھانا براہ راست زکوۃ کے پیسوں سے نہیں، بلکہ بچی کو زکوۃ کی رقم کامالک بنا دیا جائے، پھر وہ خود خرچ کرے تو جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے :
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينَ...﴾
(التوبة: 60)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية. ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج".
( باب المصرف، کتاب الزکاة،ج:1 ص:189 ط: رشیدیه)
فتاوى الهندية میں ہے:
'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، و هو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية''۔
( كتاب الزكاة ,الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها :ج:1ص:171ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100061
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن