بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم کو تملیک کرکے مدرسہ کی تعمیرات میں لگانے کا حکم


سوال

ہمارا ایک مدرسہ ہے جس میں 1800 طلبہ ہیں۔ رہائش کا انتظام بھی موجود ہے اور جگہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس کی چار دیواری بڑھانی ہے، کیونکہ موجودہ چار دیواری کافی نیچی ہو گئی ہے۔ ایک طرف کی دیوار وں پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔ ہمارے پاس عطیات کی رقم اس قدر نہیں ہے، تو کیا ہم زکوٰۃ کی رقم کی تملیک کر کے اس کام پر خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر واقعۃً مدرسہ کی چاردیواری کو بڑھانے کی ضرورت ہو، اور اس کے لیے عطیات کی رقم سے انتظام ممکن نہ ہو، تو زکوٰۃ کی رقم کو مروجہ  حیلہ  کے ذریعہ تعمیر پر لگانے سے   بہتر مندرجہ ذیل صورتیں ہیں:

1۔ طلبہ پر تعلیمی فیس  مقرر کردی جائے،اور زکوۃ کے رقم سے مستحق زکوۃ طلباء کو وظیفہ دیا جائے ، پھر طلباء سے فیس کی رقم اور کھانے کی رقم وصول کر کے اس سے کھانا پکایا جائے اور تعمیرات وغیرہ میں خرچ کی جائے۔

2۔ مدرسہ کسی مستحق زکوۃ شخص سے کہے کہ وہ  نقد رقم قرض لے کر  مدرسہ کو عطیہ کے طور پر  تعمیرات کے لیے دےد ے یا پھر وہ مستحق  شخص تعمیرات کے لیے درکار سامان (سیمنٹ، بجری  وغیرہ) ادھار خرید کر مدرسہ کو  عطیہ کردے  اورپھر   زکوۃ دینے  والا شخص اپنی زکوۃ کی رقم مذکورہ مستحق شخص  کو دے  اور وہ مستحق شخص  اس زکوۃ کی رقم سے اپنا قرض  یا دین (ادھار خریدے ہوئے سامان کی قیمت)  ادا کردے۔اس صورت میں یہ واضح رہے کہ مدرسہ کے پاس جو زکوۃ کی رقم جمع ہے  وہ رقم مذکورہ مستحق شخص  کو نہیں دی جاسکے گی، کیوں کہ وہ رقم  لوگوں نے طلبہ کے کے اخراجات پر خرچ کرنے کے لیے دی ہے  ۔ 

المحیط البرہانی میں ہے:

" ولا يصرف في بناء مسجد وقنطرة، ولا يقضي بها دين ميت، ولا يعتق عبدا، ولا يكفن ميتا، والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القرب."

(كتاب الزكاة، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه، ج: 2، ص: 383، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100869

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں