
زید امریکا میں مقیم ہے اور پاکستان میں عمر کو اپنا وکیل بنایا ہے ، زید امریکا سے اپنی اور اپنے قریبی ساتھیوں سےجمع شدہ زکوٰۃ کی رقم پاکستان میں عمر کے پاس بھیجتا ہے، عمر اس رقم کو مختلف مصارف میں استعمال کرتا ہے، غریب بچوں کی فیس کی مد میں بھی کچھ رقم خرچ کرتا ہے، کچھ رقم غریب مریضوں کے علاج میں بھی خرچ کرتا ہے، اور کچھ رقم سے راشن کے پیکٹ بنواکر لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا درست ہے؟ زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں زید جب اپنی اور دوستوں کی زکوۃ عمر کے پاس بھیجتاہے، اور عمر ان کا وکیل بن کر زکوۃ کی رقم غریب بچوں کی فیس کی مد میں یا غریب مریضوں کے علاج کی مد میں ان مستحقین کی ملکیت میں دے دیتا ہے یا اس رقم سے راشن کے پیکٹ بنوا کر مستحق لوگوں میں تقسیم کرتا ہے، تو اس صورت میں زید اور اس کے دوستوں کی زکوۃ ادا ہو جائے گی،لیکن اگر وہ مستحقین کو مالک نہیں بناتا بلکہ فیس یا علاج کی مد میں زکوۃ براہ راست ادارہ میں جمع کرتا ہے،تو چوں کہ عمر زید کا وکیل ہے اور زکوۃ کی رقم مستحق افراد کو مالک بنا کر دینا ضروری ہوتی ہے،اس لیے مستحقین کو مالک بنائے بغیر اسکول کی فیس یا ہسپتال کا بل براہ راست ادا کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہو گی۔
تاہم عمر کو چاہیے کہ وہ مستحقین زکوۃ تلاش کر کے زکوۃ کی رقم ان کی ملکیت میں دے دے ؛ تاکہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق اپنی ضروریات میں جہاں استعمال کرنا چاہیں کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"«وشرعًا (تمليك)» خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي.
(قوله: فلو أسكن إلخ) عزاه في البحر إلى الكشف الكبير وقال قبله: والمال كما صرح به أهل الأصول ما يتمول ويدخر للحاجة، وهو خاص بالأعيان فخرج به تمليك المنافع."
(کتاب الزکوۃ ج نمبر ۲ ص نمبر ۲۵۶،ایچ ایم سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144502102159
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن