
1-ایک شخص اپنی شائع کردہ کتابیں مستحق طلبہ میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے لوگوں کو ترغیب دے کر ان سے زکوٰۃ کی رقم وصول کرتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:پہلی یہ کہ وہ جن لوگوں سے رقم لیتا ہے، انہیں واضح طور پر بتا دیتا ہے کہ یہ کتاب اس کی اپنی تصنیف و اشاعت ہے، جسے وہ مستحقین میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور دوسری یہ کہ وہ انہیں یہ نہیں بتاتا کہ یہ کتاب اس کی اپنی تصنیف و اشاعت ہے۔
ان دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس کا یہ عمل درست ہے؟ نیز وہ کتاب کی قیمت مقرر کرنے میں کس حد تک مجاز ہوگا؟ کیا وہ اسی قیمت پر کتاب لگائے گا جتنے کی اسے طباعت پڑی ہے، یا فروخت کی قیمت پر بھی لگا سکتا ہے؟ اور اگر فروخت کی قیمت مختلف ہو، مثلاً کہیں وہ کتاب 300 روپے میں فروخت ہو رہی ہو اور کہیں 500 روپے میں تو ایسی صورت میں وہ کون سی قیمت لگا کر کتاب تقسیم کر سکتا ہے؟
2- اور اگر کچھ کتابیں عطیات کی مد میں رکھی جائیں، یعنی کچھ رقم عطیات کی ہو اور کچھ زکوٰۃ کی، اور طباعت کا عمل بھی ساتھ جاری ہو، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے اور کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
1-اگر کوئی مؤلف اپنی شائع کردہ کتابیں مستحق طلبہ میں تقسیم کرنا چاہے، اور اس مقصد کے لیے مخیّر حضرات کو ترغیب دے، تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی کتاب کی قیمت مقرر کرے(چاہے وہ طباعتی قیمت ہو یا مناسب قیمتِ فروخت؛ دونوں میں سے کوئی بھی قیمت مقرر کی جا سکتی ہے)، اور زکوٰۃ کی رقم دینے والے شخص کے سامنے یہ وضاحت کرے کہ وہ زکوۃ کی رقم سے کتاب طلبہ میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔اگر وہ شخص رقم دیتا ہے، تو مؤلف اس رقم سے زکوۃ دہندہ کی طرف سے کتابیں تقسیم کر سکتا ہے۔
2-اگر کتاب کی تقسیم کے لیے لوگوں سے رقم جمع کی گئی ہو، جس میں کچھ رقم عطیات کی اور کچھ زکوٰۃ کی ہو، تو دونوں کا حساب الگ الگ رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ زکوٰۃ کی رقم سے خریدی گئی کتابیں غیر مستحق طلبہ کو نہیں دی جا سکتیں، جبکہ عطیات کی رقم سے خریدی گئی کتابیں ہر طالب علم کو دی جا سکتی ہیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين".
(کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه".
(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط:دار الفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.
(قوله: أي دون نصاب) أي نام فاضل عن الدين، فلو مديونا فهو مصرف كما يأتي".
(کتاب الزکات، ج:باب المصرف، ج:2، ص:339، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
"(و) لا إلى (طفله)
(قوله: ولا إلى طفله) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع."
(کتاب الزکات، ج:باب المصرف، ج:2، ص:350، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703102033
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن