بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم سے کسی کو عمرہ کرانے کا حکم


سوال

ایک دکاندار چاہتا ہے کہ وہ ہر سال اپنے اسٹاف میں سے دو تین افراد کو زکات کی رقم سے عمرہ کرائے، لیکن اسٹاف میں سے بعض مستحق ہیں، اور بعض نہیں۔اب جو اسٹاف مستحق نہیں ہیں، کیا حیلۂ تملیک کے بعد انہیں زکات کی رقم  سےعمرہ کرایا جاسکتا ہے؟ یا اس کی کوئی متبادل صورت ہے؟

مالک یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ بذاتِ خود زکات کی رقم سے اسٹاف کے لیے ٹکٹ ویزہ خریدے۔اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو اسٹاف مستحقِ زکوٰۃ ہیں، انہیں زکوٰۃ کی رقم سے عمرہ کرانے کا درست طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم انہیں باقاعدہ طور پر مالک بنا کر دے دی جائے، اور انہیں عمرہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اگر وہ اپنی مرضی سے اس رقم سے عمرہ کرلیں تو زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور عمرہ بھی۔ اگر وہ اپنے ٹکٹ اور ویزا وغیرہ کا خود انتظام کرسکتے ہوں تو بہتر ہے، ورنہ وہ اپنی ملکیت میں آنے والی رقم سے مالک یا کسی اور کو وکیل بنا کر انتظام کراسکتے ہیں۔

البتہ جو اسٹاف مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہیں، انہیں زکوٰۃ کی رقم سے عمرہ نہیں کرایا جاسکتا۔ اگر مالک چاہے تو نفلی صدقہ یا عطیہ کی رقم سے انہیں عمرہ کرا سکتا ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط:دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه".

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط:دار الفکر)

فقط واللہ  أعلم


فتویٰ نمبر : 144708102145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں